Tuesday, 5 January 2021

*پانی اور آنسو--ایک تجزیاتی مطالعہ* *مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ وجھارکھنڈ، پھلواری شریف، پٹنہ*

          *پانی اور آنسو--ایک تجزیاتی مطالعہ*
*مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ وجھارکھنڈ، پھلواری شریف، پٹنہ*

=======================================================

حسن نواب حسن (متوفی  ۷؍ دسمبر ۲۰۱۹ء )بن سید خورشید نواب ایڈووکیٹ (م۱۷؍ اگست ۱۹۹۲ء) بن ارشادحسن بن چودھری ہادی بخش دبستان عظیم آباد کے ایسے گل سر سبد تھے، جن کی شاعرانہ عظمت کے مداح شفیع مشہدی، ڈاکٹر جعفر رضا ، ڈاکٹر وہاب اشرفی ، سلطان اختر ، نقی احمد ارشاد ، ڈاکٹر علیم اللہ حالی، ڈاکٹر اعجاز علی ارشد ، پروفیسر حسین الحق، بہزاد فاطمی اور ڈاکٹر ظفر حمیدی جیسے اساطین علم وادب ہیں اور رہے ہیں ، حسنؔ نواب اس اعتبار سے خوش قسمت ر ہےکہ ان کے فن کے قدر داں ان کے معاصرین ہیں، معاصرین کی مداحی بڑی چیز ہے، اس لیے کہ تصوف کے باب میں تو معاصرت کو حجاب اکبر کہا گیا ہے، جو فن خالص اللہ کے لئے ہے ، اس کا تو یہ حال ہے کہ معاصرت پہچاننے میں رکاوٹ بن جاتی ہے، ایسے میں ادب وشاعری کا کیا ذکر ، یہاں تو اکثر  کواپنے علاوہ کسی اور کی شکل کم ہی نظر آتی ہے، یہاں پر ہمیں وہ لطیفہ یاد آ رہا ہے کہ ایک شاعر کا انتقال ہو گیا ، اس کے لیے ایک تعزیتی جلسے کا انعقاد کیا گیا ، مدعو ئین میں اس شخص کا بھی نام تھا جو مرحوم کا سخت مخالف تھا، اس نے اپنی تقریر میں مرحوم کی خلاف توقع خوب تعریف کی ، اور فن کے رموز ونکات سے واقفیت اور ان کی قادر الکلامی کا خوب خوب چرچا کیا اور جب تقریر ختم کیا تو کہا ، میری یہ معروضات اس وقت ہیں ، جب واقعتا ان کا انتقال ہو چکا ہو، لیکن حسن نواب حسن کا معاملہ دوسرا ہے ، ان کی زندگی میں ہی صاحب علم وفن ان پر تعریف کے ڈونگرے برسا تے رہے اور ہم جیسے لوگ سن کر اور انہیں دیکھ کر رشک کرتے  رہےکہ یہ شخص اتنے اچھے اشعار کیوں کہتا ہے، اور ایسی نکتہ آفرینی کیوں کرتا ہے کہ لوگ اس کی طرف مائل ہوجاتے ہیں۔

میں نے اس مسئلہ پر غور کیا تو محسوس ہوا کہ حسن نواب حسن کی فکر میں ندرت، تخیلات میں ترفع ،ہیئت کی پابندی اوراوزان وقافیہ کے سانچے میں ڈھلی شاعری لوگوں کے دلوں پر دستک دیتی ہے، ان کی مقبولیت کی ایک بڑی وجہ ان کا ترقی پسند، جدیدیت اور ما بعد جدیدیت کے نعروں سے دور رہنا ہے۔ ان کے موضوعات ہمارے ارد گر اور پاس کے ہوتے ہیں، کبھی کبھی تو عصری حسیت سیاسی بصیرت اور موضوعاتی آگہی کی وجہ سے ہمارے اوپر ہی وہ موضوعات چھائے ہوتے ہیں، ایسے میں ان کے اشعار ہماری اپنی آوازکی صدائے باز گشت محسوس ہوتی ہے، اور اپنی آواز کو خراب کہنے کا خطرہ تو کوئی بھی مول نہیں لے سکتا، پھر جو مسائل ا س میں زیر بحث ہوتے ہیں، جو نکات اٹھائے جاتے ہیں، وہ ہماری روز مرہ زندگی سے ہی مستعار ہوتے ہیں، اس لیے وہ ہمیں جگ بیتی نہیں، آپ بیتی معلوم ہوتے ہیں،مثال کے طور پر خاندانی منصوبہ بندی کے حوالہ سے ان کی مزاحیہ نظم ’’نور نظر پیدا نہ ہو‘‘ ایک لا وارث گونگی لڑکی، اف ، آئی آر، شہر عظیم آباد ، مختلف رنگوں کے سانپ، مسلم مخالف سازش ، شناختی کارڈ، زخمی پرندہ، سوغات ، صدام حسین کے نام ، موت قبل زندگی، درد دل ، بیٹی کا مقام، دانش ایمن اورثنا کے نام ، نیا میزائیل امن وآشتی کے لئے، آگ، ماں، پانی اور آنسو نیز پردہ جیسی نظموں کو پیش کیا جا سکتا ہے، جو قاری کو متاثر کر تی ہیں ؛ حالانکہ ان میں سے کئی آزاد نظمیں ہیں ، لیکن الفاظ کے در وبست اور بر محل استعمال نے ان کی اثر آفرینی کو کمزور ہونے سے بچا لیا ہے، آزاد نظموں اور غزلوں کے بارے میں میری رائے کبھی بھی بہت اچھی نہیں رہی ، لیکن حسن نواب حسن کی آزاد نظموں کا معاملہ دوسرا ہے، میں نے انہیں پڑھا ہے اور ان سے بقدر ظرف مستفیض ہوا ہوں، کیونکہ ان کا اپنا ایک رنگ ہے، ایک آہنگ ہے جو مجھے پسند ہے، ان کی کئی نظموں کو پڑھ کر مجھے جوشؔ کی لفظیات اور روانی کا احساس ہوتا ہے۔ البتہ جوش کی طرح ان کا لہجہ انقلابی نہیں ہے، بلکہ سبک اور دریاؤں کی روانی جیسا ہے، جوہولے ہولے قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے اور جب تخلیق ختم ہوتی ہے تو آدمی ان کے سحر سے دیر میں نکل پاتا ہے۔

حسن نواب حسن کی ایک دوسری خوبی یہ ہے کہ ان کے پاس الفاظ کا ذخیرہ بہت ہے، اور جوش کی طرح الفاظ ان کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے رہتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ انہیں دوسرے معاصر شعراء کی طرح الفاظ کی تشکیل نہیں کرنی پڑتی ہے، اور ان کے یہاں نا مانوس اور اجنبی الفاظ نہیں ملتے  جن کے سمجھنے کے لیے ذہنی جمنا اسٹک کرنی پڑے اور معنی کی تفہیم کے لیے پس ساختیات والوں کی تشریح کا سہارا لینا پڑے۔

حسن نواب حسن نے غزلوں سے زیادہ نظمیں لکھی ہیں، اور ہمارے وقت کے نقادوں نے ان کی نظموں کو کافی پسند کیا ہے، میں بھی ان کی بعض نظموں کا اسیر رہا ہوں، پانی اور آنسو نے مجھے کئی دنوں تک مسحور رکھا ، میں نے یہ نظم خود ان کی زبانی سنا ، عالمی سہارا میں پڑھا، اس اثر آفرینی میں شاعر کے تخیلات اور انداز بیان کا بڑا دخل ہے، اس کا تجزیاتی مطالعہ پرت در پرت پانی کی حقیقت کو واشگاف کرتا ہے۔ گو ان کو پڑھتے وقت بار بار ان کی نظم ’’پانی‘‘ کا خیال آتا ہے اور تخیل میں تکرارکاا حساس باقی رہتا ہے۔

تیس اشعار کی یہ نظم دس بند پر مشتمل ہے۔شاعر نے اس نظم میں پانی کی اہمیت ، خصوصیت اور ضرورت پر شاعرانہ انداز میں روشنی ڈالی ہے، پانی سے متعلق محاوروں کو پوری شاعرانہ چابک دستی اور فنی آگہی کے ساتھ نظم کیا ہے۔  اسے علم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام چیزوں کی زندگی پانی سے قرار دیا ہے ارشاد ربانی ہے: وَجَعَلْنَا مِنْ کُل شَیِٔ حَی (ہم نے ہر چیز کو پانی سے زندگی بخشی) وجود حیات کے بعد پانی کی خصوصیات حسن نواب حسن نے یہ بیان کی ہے کہ وہ مخلوق کی جان بچانے ، پیاس بجھانے، آغوش میں نہلانے، شانوں پر ٹہلانے، ساحل پر پہونچانے ، صحرا کو گلستاں بنانے، تشنہ کا موں کی تسکین کا سامان کرنے، حالت نزع میں راحت پہونچانے کے کام آتا ہے، لیکن اسی پانی کا دوسراپہلو یہ ہے کہ یہی پانی ہستی کو مٹانے، پیاس بڑھانے ، چٹان سے ٹکرانے، فولاد کوکھانے ، غرقاب کرنے ، کھیتوں کو ویران کرنے ، حد سے زیادہ بڑھ کر قیامت برپا کرنے، جسم میں گھٹ کر قوت کو گھٹانے، پانی پھیر کر ساری محنت کوبیکار کرنے اور شر م سے پانی پانی کرنے کی قوت و طاقت بھی رکھتا ہے اپنی اسی قوت کے بل پر جب سیلاب کا پانی امڈتا ہے تویہی پانی آگ کا دریا ہوجاتا ہے ، اور یہ روانی بجلی کی طرح ہوجاتی ہے ، کہتے ہیں پانی میں کرنٹ ہے ، اس پانی نے فرعون اور ان کے حواریوں کو جہاں ایک طرف غرقاب کردیا وہیں دوسری طرف کشتی نوح کو جودی پہاڑ تک پہونچانے اور لشکر موسی کو دریائے نیل سے نجات دلانے میں اس کا رول تاریخی بھی ہے اور مذہبی بھی ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پانی کبھی مہر رب بن کرکھیتوں پر برستا ہے اور کبھی قہر بن کر ظالموں پر ٹوٹ پڑتا ہے کبھی ریگ زاروں کی تہہ سے نکل پڑتا ہے ، اور کبھی پہاڑوں کے سینہ کو چاک کرکے ابل جاتا ہے، شاعر کا خیال ہے کہ نسل ابراہیمی کو اسی پانی کی بدولت ہدایت جادوانی ملی اور آب زم زم کا وہ چشمہ رواں ہوا ، جس سے ساری دنیا آج تک سیراب ہورہی ہے اور تاقیامت یہ سلسلہ جاری رہے گا ۔

شاعر نے پانی کی متضادصفات وخصوصیات کواس خوبی سے شعر میں ڈھالا ہے کہ قاری، حسن نواب حسن کے بیان کا معترف ہوجاتا ہے۔ عربی میں کہاگیا ہے کہ ’’تعرف الاشیاء باضدادھا‘‘ چیزوں کی معرفت اصلا اس کے اضداد سے ہوتی ہے، شاعر نے اس فارمولے کو پوری نظم میں برتا ہے اس طرح پانی کی خوبی اور اس کے ذریعہ برپا ہونے والے قہر اور نقصانات تک ہماری رسائی بآسانی ہوجاتی ہے ، مختصر یہ کہ بقول شاعر  ؎

کبھی امرت تو کبھی زہر یہی پانی ہے

کبھی رحمت تو کبھی قہر یہی پانی ہے

 پانی کا ذکر کرتے کرتے شاعر کا ذہن ایک اور پانی کی طرف منتقل ہوتا ہے ؛ جس سے زیادہ قیمتی پانی رب کائنات کی نظر میں کوئی نہیں ہے اس لیے یہ پانی سارے پانی سے مہنگا ہوتا ہے یہ پانی آنکھوں کے پیمانے سے چھلکتا ہے اور جذبوں کے دریا کو اشکوں کے کوزے میں سمولیتا ہے اس قطرہ میں جو طوفان بلا خیز ہوتا ہے اس کا ادراک عقل محدود سے نہیں کیا جاسکتاہے ،اس لئیے اس کی تہہ تک رسائی کم یاب ہی نہیں نایاب بھی ہے۔حضرت یوسف کی جدائی میں گریۂ یعقوب،حضرت امام حسین ؓ کی شہادت پر شام غریباں میں جو آنسو بہے،اس کی تہہ درتہہ گہرائیوں تک ہماری اور آپ کی عقل نارساکا گذر نہیں ہوسکتا ،اس تک رسائی کے لئے ایسے غم والم سے دوچار ہونا ضروری ہے اورجو دوچارنہیں ہوا و ہ اس آنسو کی تشریح نہیں کرسکتا ، جذبات کی فراوانی الفاظ کی تنگ دامانی کے ساتھ رقم نہیں کی جاسکتی ہے؛ اس لئے حسن نواب حسن کا خیال ہے کہ وہاں تک رسائی کم یاب اور نایاب دونوں ہے ۔

قطرہ اشک میں طوفان بھی سیلاب بھی ہے

اس کی تہہ پانا تو کم یاب بھی نایاب بھی ہے

شاعر کا یہ اپنا خیال ہے ورنہ واقعہ یہ ہے کہ جو چیز نایاب ہے وہ موجود ہی نہیں ہوتی اس لیے دونوں کو ایک ساتھ جمع کرنا صحیح نہیں معلوم ہوتا، البتہ شاعر نے کہہ دیا ہے تو ہم اس کی توجیہ کر سکتے ہیں کہ بعض کے حق میں کم یاب اور بعض کے حق میں نایاب ہے، یہ ممکن ہے لیکن اس توجیہ کے لیے شعر کے الفاظ ساتھ نہیں دیتے۔

پانی کا ذکر کرتے ہوئے معرکۂ کرب وبلا کی طرف بھی شاعر کا ذہن منتقل ہوتا ہے اوراسے یاد آتا ہے کہ اسی پانی کے لئے حضرت عباس کا بازوکٹا تھا اورا سی پانی کی طلب میں چھ ماہ کے معصوم اصغر کا گلا چھد گیا تھا اور مرتے دم تک شہیدوں کو پانی نہیں مل سکا تھا ، پانی خود اس واقعہ پر پانی پانی ہے ، اور اب بھی اسے شرمندگی کرب وبلا ہے   ؎

اب بھی پانی کو ہے شرمندگی کرب وبلا 

بازوئے شہہ کا اسی کے لئے بازو تھا کٹا

اسی پانی کے لئے بچے لگاتے تھے صدا

اسی پانی کے لئے چھد گیا اصغرکا گلا

ظالموں کے توہر ایک خیمے میں پہونچاپانی

مرتے دم بھی نہ شہیدوں کو ملاتھا پانی

یہ نظم یہاں پر جاکرختم ہوجاتی ہے، میرے پاس اس نظم کا جو نسخہ ہے اس کے نویں بند میں ایک مصرعہ ’’ بحر یوسف میں ںیہ یعقوب کی آنکھوں سے بہا ،، درج ہے ،یقینا یہ بحر، ہجر ہوگا جو کمپوزر اور پروف ریڈر کی غفلت کی نتیجے میں بحر ہوگیا ہے ۔ ایک اور مصرعہ میں بازو کی تکرار نے تعقید معنوی پیدا کردیا ہے اور مصرعہ ذرا ہلکا ہوگیا ہے ۔

بازوئے شہہ کا اسی کے لئے بازو تھا کٹا

بازوئے شہ، سے مراد حضرت عباس ؓ کی ذات گرامی ہے جو اپنی جوانی، اولوالعزمی، طاقت وتوانائی کی وجہ سے حضرت امام حسین ؓ کے دست و بازو تھے ، شاعر ان تمام صفات کے رقم کرنے لئے ایک لفظ ’’بازوئے شہہ‘‘ استعمال کرتا ہے ، یقینا وہ حضرت امام حسین ؓ کے دست راست اوراس میدان کرب وبلا میں شہ کے بازو تھے ، یقینی طور پر پہلے بازوئے شہہ سے حضرت عباس مراد ہیں اور شعر میں ان کے ہی بازو کٹنے کا تذکرہ ہے ، اگر یہ تکرار نہ ہو او ر حضرت عباس کے لئے پہلے بازوئے شہہ کی جگہ کوئی ، دوسرا لفظ ہوتا تو میرے نزدیک زیادہ بہتر ہوتا ، میرے نزدیک کا لفظ میں نے شعور ی طور پراستعمال کیا ہے؛ کیوں کہ ہر قاری کی اپنی حس ہوتی ہے جو پڑھتے وقت اس کے حسن و قبیح کا فیصلہ کرتی ہے، ممکن ہے نکتہ بعد الوقوع کی تفصیلات اس قبح کو حسن میںبدل دے ، سلطان اختر کے ان اشعار پر اس تحریر کو ختم کرتا ہوں کہ یہی مسک الختام ہے   ؎

نظموں میںعیاں شعلہ بیانی اس کی 

غزلوں میں منور ہے روانی اس کی

وہ کہتا ہے ارباب ادب سنتے ہیں

ہوتی ہی نہیں ختم کہانی اس کی

ایک ہوجائیں تو بن سکتے ہیں خورشید مبیں

       ایک ہوجائیں  تو بن سکتے ہیں خورشید مبیں

،شمشیر عالم مظاہری دربھنگوی امام جامع مسجد شاہ میاں رہوا ویشالی بہار

قارئین کرام ۔ 

یہ حقیقت ہے کہ آج ہم مسلمان ٹکڑیوں میں بٹے ہوئے نظر آرہے ہیں ہمارا تشخص حسد ونفاق کے درمیان مٹتا  نظر آرہا ہے اور یہی اختلاف ہمیں صدیوں پیچھے ڈھکیل رہا ہے ہر خانقاہ دوسری خانقاہوں سے چپقلش رکھتی ہے اکثر  دارالعلوم آپس میں چشمک رکھتے ہیں ایک پیر دوسرے پیر پر اپنی برتری ثابت کرنے میں مصروف ہے ہر عالم دوسرے کو کمتر سمجھتے ہوئے اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد الگ بنا لیتا ہے فروعی قسم کے مسائل پر بھی منفی شور بپا ہو جاتا ہے جو مستقبل کے لیے نہایت ہی خطرناک بھی ہے اور افسوسناک بھی 

حالانکہ امت کا کوئی بھی اختلاف ایسا نہیں جس کا تصفیہ نہ ہو سکے دنیا میں ہزاروں مسائل ایسے ہیں جہاں فقہی احکام اور مسائل میں علماء صوفیاء کا اختلاف ہوتا نظر آیا دلائل کے اختلافات آج بھی فقہی مسائل میں موجود ہیں مگر یہ اختلاف زحمت نہیں بلکہ تحقیق اور تدقیق کی راہ میں رحمت ہیں لیکن آج چونکہ ہم میں ایک دوسرے کی فکر اور تحقیق کو برداشت کرنے کی صلاحیت مفقود ہو چکی ہے  جو اتحاد کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ ہے

یہ بات تو ڈھکی چھپی نہیں کہ اس وقت بحثیت مجموعی مسلمانوں کی ہوا اکھڑ چکی ہے نہ ان کی عزت و عظمت ہے نہ رعب و دبدبہ دنیا کا کوئی ملک بھی ان سے نہیں ڈرتا اور وہ ہر کسی سے ڈرتے ہیں عالمی سطح پر ان کا مذاق اڑایا جاتا ہے ان کو ایک کمزور امت تصور کیا جاتا ہے حد تو یہ ہے کہ ان کے محبوب رہبر و رہنما اور کائنات کے سردار حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمسخر کیا جارہا ہے ازواج مطہرات  کی بے حرمتی کی جا رہی ہے اسلام کے پہلے جانثاروں یعنی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے خلاف کتابیں لکھی جارہی ہیں یہ سب کچھ اس لئے ہو رہا ہے کہ اقوام عالم میں مسلمانوں کا وقار اور رعب و دبدبہ ختم ہو چکا ہے جس مسلمان سے کبھی قیصر و کسریٰ جیسی سپر طاقت لرزہ بر اندام تھیں آج وہ ہر کسی سے ڈرے اور سہمے رہتے ہیں  ان سے چھوٹے  اور ماتحت افراد بھی نہیں ڈرتے اور یہ بھی سن لیں کہ عالمی سطح پر مسلمانوں کو کمزور اور ذلیل کرنے والے جو مختلف اسباب ہیں ان میں سب سے بڑا سبب مسلمانوں کا باہمی جنگ و جدل اور نزاع اور اختلاف و افتراق ہے مسلمان امت چھوٹی چھوٹی ٹکڑیوں فرقوں اور جماعتوں میں بٹی ہوئی ہے ہر شخص اپنی ڈیڑھ انچ کی مسجد الگ بنانے کی فکر میں ہے کفر کے فتوے لگ رہے ہیں ایک دوسرے کو ختم کرنے کی کوشش جاری ہے  مسلمان کا خون مسلمان ہی بہارہا ہے ۔ 

یہ  وہ امت ہے۔ 

حیرت ہوتی ہے کہ یہ وہی امت ہے جسے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلسل محنت اور تربیت کے بعد باہم شیروشکر  بنا دیا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ مختلف علاقوں کے رہنے والے تھے مختلف قبیلوں سے تعلق رکھتے تھے ان کی زبان اور رنگ بھی مختلف تھے مگر انہوں نے زبان نسل اور قومیت کے تمام امتیازات مٹا دیئے تھے اور اب وہ آپس میں بھائی بھائی بن کر رہتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار میں سلمان فارسی تھے بلال حبشی تھے صہیب رومی تھے تھے ابوسفیان اموی تھے عدی طائ تھے ضماد ازدی تھے سراقہ جعشمی تھے  مگر جو بھی تھے بھائی بھائی تھے اور بھائی بھی ایسے۔ انما ا لمو منون اخوۃ کی تفسیر عملی طور پر سمجھ آتی تھی  خود بھوکے رہ کر دوسرے کو کھلا تے تھے خود پیاسے رہ کر دوسرے کو سیراب کرتے تھے بلکہ حد یہ کہ پیاس کی وجہ سے جان سے گزرنا تو گوارا کرلیتے تھے مگر دوسرے بھائی کو پیاسا دیکھنا انہیں برداشت نہ تھا۔  اخوت ہو تو ایسی ۔  حضرت ابو جہم بن حذیفہ  کہتے ہیں کہ یرموک کی لڑائی میں اپنے چچا زاد بھائی کی تلاش میں نکلا وہ لڑائی میں شریک تھے اور ایک مشکیزہ پانی کا میں نے اپنے ساتھ لیا کہ ممکن ہے وہ پیاسے ہوں تو پانی پلاؤں اتفاق سے وہ ایک جگہ اس حالت میں پڑے ہوئے ملے کہ دم توڑ رہے تھے اور جان کنی شروع تھی میں نے پوچھا پانی کا گھونٹ دوں انہوں نے اشارہ سے ہاں کی اتنے میں دوسرے صاحب نے جو قریب ہی پڑے تھے اور وہ بھی مرنے کے قریب تھے آہ کی میرے چچا زاد بھائی نے آواز سنی تو مجھے ان کے پاس جانے کا اشارہ کیا میں ان کے پاس پانی لے کر گیا وہ ہشام بن العاص تھے ان کے پاس پہنچا ہی تھا کہ ان کے قریب ایک تیسرے صاحب صاحب اسی حال میں پڑے دم توڑ رہے تھے انہوں نے آہ کی ہشام بن العاص نے مجھے ان کے پاس جانے کا اشارہ کیا میں ان کے پاس پہنچا تو ان کا دم نکل چکا تھا ہشام کے پاس واپس آیا تو وہ بھی جاں بحق، ہوچکے تھے  ان کے پاس سے اپنے بھائی کے پاس لوٹا تو اتنے میں وہ بھی ختم ہو چکے تھے کیا انتہا ہے اس ایثار کی کہ اپنا بھائی آخری دم توڑ رہا ہو اور پیاسا ہو ایسی حالت میں کسی دوسرے کی طرف توجہ کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے چہ جائیکہ اس کو چھوڑ کر دوسرے کو پانی پلانے چلا جائے اور مرنے والوں کی روحوں کو اللہ  اپنے فضل سے نواز یں کہ  مرنے کے وقت بھی جب ہوش و حواس سب ہی جواب دے دیتے ہیں یہ لوگ ہمدردی میں جان دیتے ہیں۔ 

بکرے کی سری کا چکر کاٹ کر واپس آنا ۔ 

حضرت ابنِ عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ایک صحابی کو کسی شخص نے بکرے کی سری ہدیہ کے طور پر دی انہوں نے خیال فرمایا کہ میرے فلاں ساتھی زیادہ ضرورت مند ہیں کنبہ والے ہیں اور ان کے گھر والے زیادہ محتاج ہیں اس لئے ان کے پاس بھیج دی ان کو ایک تیسرے صاحب کے متعلق یہ  خیال پیدا ہوا اور ان کے پاس بھیج دی غرض  اسی طرح سات گھروں میں پھر کر وہ سری  سب سے پہلے  صحابی کے گھر لوٹ آئی۔ اس قصہ سے ان حضرات کا عام طور سے محتاج اور ضرورتمند ہونا بھی معلوم ہوتا ہے اور یہ بھی کہ ہر شخص کو دوسرے کی ضرورت اپنے سے مقدم معلوم ہوتی تھی۔ 

ایمان اور اتحاد کی طاقت ۔ 

جب تک مسلمانوں میں اخوت و محبت اور اتحاد و اتفاق کا یہ رشتہ برقرار رہا وہ ساری دنیا پر چھائے رہے اور جب سے انہوں نے ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے اور ایک دوسرے کو گرانے کا عمل شروع کیا ہے وہ اقوام عالم میں ذلیل و خوار ہوتے جارہے ہیں پہلے مسلمانوں کے پاس سونے چاندی کی دولت نہیں تھی بلکہ ایمان کی دولت تھی ان کے پاس پیٹرول اور معدنیات  کے ذخائر نہیں تھے البتہ اللہ کی ذات پر یقین اور اعتماد کا عظیم ذخیرہ ان کے پاس تھا  آپس میں اتحادو اتفاق کی قوت ان کے پاس تھی۔ اللہ کے بندو  تمہاری کمزوری کی وجہ سازوسامان کی کمی نہیں تمہاری کمزوری کی وجہ ایمان و یقین اور اتحاد و اتفاق کا فقدان ہے کفر کی بڑی بڑی طاقتیں صحابہ سے ان کے سازوسامان کی وجہ سے نہیں ڈرتی تھی بلکہ ان کے یقین محکم اور بے مثال اتحاد کی وجہ سے ڈرتی تھی جب مسلمانوں میں یہ چیز باقی نہ رہی تو ان کا رعب اور دبدبہ بھی باقی نہ رہا۔ 

اندلس میں کیا ہوا ۔ 

اندلس جس کے ساحل پر مشہور اسلامی جرنیل طارق بن زیاد نے کشتیاں جلا ڈالی تھیں جہاں آٹھ سو سال تک مسلمانوں نے انتہائی شان و شوکت سے حکمرانی کی جہاں کی جامع مسجد قرطبہ آج بھی مسلمانوں کی عظمت رفتہ پر آنسو بہا رہی ہے جہاں کی نہریں اور باغات محل اور کوٹھیاں آج بھی اپنے معماروں کو یاد کرتی ہیں آپ جانتے ہیں وہاں کیسے اور کب زوال آیا وہاں اسی وقت زوال آیا جب مسلمانوں نے کلام اللہ کو پس پشت ڈال دیا تھا اور وہ فرقوں اور گروہوں میں بٹ گئے تھے وہ ایک دوسرے پر فتوے لگا رہے تھے اور اسلام کے بجائے اپنے خاندانوں اور قومیتوں پر فخر کرتے تھے ایک مسلمان سردار دوسرے مسلمان سردار کو دیکھنا گوارہ نہیں کرتا تھا بلکہ ایک دوسرے کے خلاف عیسائیوں سے بھی مدد طلب کر لیتے تھے مسلمانوں نے خود عیسائیوں کے ہاتھوں سے خوشی خوشی مسلمانوں کو ذبح کرایا جس کی وجہ سے اس کے دل سے اسلام اور مسلمانوں کا وقار اور رعب ختم ہو گیا  جب مسلمانوں نے قرآن مجید کا حکم تم سب اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو کو نظر انداز کیا اور باہمی اختلاف کا شکار ہوئے اور مسائل میں الجھ گئے ان کو تباہی بربادی ذلت و خواری کا منہ دیکھنا پڑا اندلس میں مسلمانوں نے سیکڑوں سال تک بڑی شان و شوکت کے ساتھ حکومت کی اس وقت کی بنی عمارتیں اس وقت کی تہذیب و تمدن اور آباد کی ہوئی نشانیاں  علم و ثقافت کے معیار سے یورپی ممالک نے سبق حاصل کیا ایک وہ وقت آیا کہ ان کو اپنے محل و تمام تر آثار چھوڑ کر جانا پڑا اس لیے کہ جب تک وہ موحد تھے کلمہ توحید کی بنیاد پر مربوط تھے سب کچھ ٹھیک تھا جب اختلافات کا شکار ہوئے قبائلی عصبیت پیدا ہوئی علاقائی جھگڑے جگہ جگہ طول پکڑنے لگے تو عیسائیوں نے اندلس پر قبضہ کرلیا مسلمانوں کا قتل عام کیا اور ان کی عزت و وقار کو خاک آلود کردیا اور بڑی ہی ذلت و رسوائی کا سامنا کرناپڑا۔  علامہ اقبال نے اسی کی جانب اشارہ کیا ہے۔ 

اے گلستان اندلس وہ دن ہیں یاد تجھ کو۔ 

تھا تیری ڈالیوں پہ جب آشیاں ہمارا۔ 

قرآن اور سنت میں غور کرنے سے یہ بات واضح ہو کر سامنے آجاتی ہے کہ اللہ تعالی اور اللہ کے رسول صلی اللہ وسلم کو مسلمانوں کے باہمی جھگڑے کسی قیمت پر پسند نہیں مسلمانوں کے درمیان لڑائی ہو یا جھگڑا ہو یا ایک دوسرے سے کھچاؤ اور تناؤ کی صورت پیدا ہو یا رنجش ہو یہ اللہ تعالی کو پسندیدہ نہیں بلکہ حکم یہ ہے کہ ان کی رنجشوں اور جھگڑوں کو باہمی نفرتوں اور عداوتوں کو کسی طرح ختم کرو  ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ میں تم کو وہ چیز نہ بتاؤں جو نماز روزے اور صدقہ سے بھی افضل ہے ارشاد فرمایا لوگوں کے درمیان صلح کرانا  اس لئے اس کے جھگڑے مونڈنے والے ہیں یعنی مسلمانوں کے درمیان آپس میں جھگڑے  کھڑے ہو جائیں فساد برپا ہو جائے ایک دوسرے کا نام لینے کے روادار نہ رہیں ایک دوسرے سے بات نہ کریں بلکہ ایک دوسرے سے زبان اور ہاتھ سے لڑائی کریں یہ چیزیں انسان کے دین کو مونڈ دینے والی ہیں کسی انسان کے اندر جو دین کا جذبہ ہے اطاعت کا جذبہ ہے اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کی اطاعت کا جو جذبہ ہے وہ اس کے ذریعہ ختم ہو جاتا ہے بالآخر انسان کا دین تباہ ہو جاتا ہے اس لئے فرمایا کہ آپس کے جھگڑے اور فساد سے بچو ۔ 

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو مخاطب کرکے ارشاد فرمایا کہ تم آپس میں ایک دوسرے کے درمیان محبت کا ماحول پیدا کرو اتحاد اور جوڑ کی رسی کو ہاتھ سے جانے مت دو ۔ یہی اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے۔ مفہوم۔ اللہ کے دین کی رسی کو متحد ہو کر کے پکڑو اور تمہارا اتحاد ٹوٹنے نہ پائے اور تمہارے درمیان تفرقہ پیدا نہ ہونے پائے اور اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو جس کا اللہ نے تمہارے اوپر احسان فرمایا ہے جب کہ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے پھر تمہارے دلوں میں الفت پیدا کر دی تو تم اللہ کے فضل و نعمت سے بھائی بھائی ہو گئے۔  اتحاد ایک مضبوط عمارت ہے ۔  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے اتحاد کو ایک مثال سے بیان فرمایا کہ مسلمانوں کا اتحاد ایک مضبوط ترین عمارت ہے جیسا کہ کسی عمارت کے مختلف اجزاء  الگ الگ ہونے کی حالت میں کمزور ہوتے ہیں اور کمزور جزء کو جہاں چاہے لے جایا جا سکتا ہے اور جس طرح جس جگہ چاہے لگایا جاسکتا ہے اور جہاں چاہے پھنیکا جاسکتا ہے لیکن تمام اجزاء ایک عمارت میں مضبوط مسالوں کے ساتھ مل کر جڑ جائیں  گے تو تمام اجزاء سے مل کر کے ایک مضبوط ترین عمارت بن جاتی ہے اس کا کوئی جزء آسانی کے ساتھ عمارت سے الگ نہیں کیا جاسکتا ہے ایسا ہی حال مسلمانوں کا حال ہے کہ اگر  تمام مسلمان متحد ہو کر ایک ہو جائیں تو ان میں سے کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ 

,,ایک ہو جائیں تو بن سکتے ہیں خورشید مبیں ورنہ ان بکھرے ہوئے تاروں سے کیا بات بنے ,,,

Friday, 1 January 2021

مغربی چمپارن میں ایک مدرسہ اور مسجد کی سنگ بنیاد، رضوان ریاضی

     مغربی چمپارن میں ایک مدرسہ اور مسجد کی سنگ بنیاد، رضوان ریاضی 

 بتیا مغربی چمپارن، مورخہ ۱ جنوری ۲۰۲۱ء بعد نماز جمعہ کل ہند جمعیت اہل حدیث کونسل کے صدر اور آل انڈیا التقوی ایجوکیشنل گروپ کے چئیرمین جناب رضوان ریاضی نے ضلع مغربی چمپارن بہار کے سکٹا بلاک کی مشہور بستی کرسی بروا میں ایک مسجد ومدرسہ کی بنیاد رکھی۔ مدرسہ کئی سالوں سے پھونس کے کمروں میں چل رہا تھا لیکن وہ اس قابل نہیں تھا کہ وہاں تعلیم وتعلم کا معقول انتظام کیا جا سکے۔ مدرسہ کے پرنسپل مولانا نیک محمد اور استاذ مولانا امام الدین صاحبان نے کئی ماہ قبل جناب ریاضی کے آفس میں مسجد اور مدرسہ بنانے کے لیے درخواست دی تھی۔ الیکشن کے دنوں میں جناب ریاضی نے جگہ کا معاینہ کیا اور وہاں مسجد ومدرسہ بنانے کا وعدہ کیا۔ چنانچہ آج یکم جنوری کو انھوں نے مسجد کی بنیاد رکھ کر نئے سال کا آغاز کیا۔ 

جناب ریاضی نے مسجد کی بنیاد رکھنے کے بعد حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مساجد اور مدارس اسلام کے قلعے ہیں۔ ان کی تعمیر و ترقی میں ہر مسلمان کو حسبِ استطاعت حصہ لینا چاہئے۔ قرآن وحدیث کی تعلیم کو مہمیز دینے میں مساجد ومدارس کا کلیدی کردار ہے۔ ہماری ذمے داری ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ مساجد ومدارس قائم کریں اور انھیں آباد رکھیں۔ اپنی ماہانہ آمدنی میں سے کچھ حصہ انھیں آباد کرنے کے لیے خاص کریں۔ قطرے قطرے سے دریا بنتا ہے۔ ہمیں اسی فارمولے پر عمل درآمد کرتے ہوئے مساجد ومدارس کا تعاون کرنا چاہیے۔ 

جناب ریاضی نے دوران خطاب یہ بھی کہا کہ ہم نے اب تک اپنے ٹرسٹ کے پلیٹ فارم سے ایک سو سے زائد مساجد ومدارس بنوائے ہیں، ہماری خواہش ہے کہ ہر مسجد اور مدرسہ کو عوام الناس سے جوڑ دیا دیا جائے اور ہر گھر سے ایک حافظ بنایا جائے اور حفظ کے ساتھ عصری تعلیم کا بھی بندوبست کیا جائے۔ میں نے حفظ کے طلبہ کے لیے قرآن گھر اکیڈمی بتیا میں حفظ پلس کے نام سے ایک کورس کا آغاز کیا ہے جو حفاظ طلبہ کے لیے بہت ہی مفید ہے۔ وہاں حفاظ طلبہ کو تین سال میں میٹرک کا امتحان پاس کروا دیا جاتا ہے جس کے بعد طلبہ انجنئرنگ اور میڈیکل میں داخلہ لیتے ہیں۔

اس مناسبت سے کثیر تعداد میں افراد موجود تھے۔ شرکاء میں مولانا امام الدین، شمس الدین، عزیر احمد، شفیع احمد، علی امام، داؤد ٹھیکیدار، معراج احمد، منظر کمال ندوی، عمران عالم، انیس احمد اور عبد القہار وغیرہ بھی موجود تھے۔

مولانا حسرت موہانی، ایک عہد ساز شخصیت،

 مولانا حسرت موہانی، ایک عہد ساز شخصیت،



تحریر:خرّم ملک کیتھوی،

رابطہ: 9304260090

پیدائش - ۱ جنوری ۱۸۷۵

وفات - ۱۳ مئی ۱۹۵۱

مصنف، شاعر، صحافی، اسلامک اسکالر، سماجی خدمت گزار، 

اور ۱۹۲۱ میں آزادئ کامل (پرن سوراج) کی مانگ کرنے والے اور انقلاب زندہ باد کا نعرہ دینے والے آزادی کے سپاہی حسرت موہانی صاحب کو یوم پیدائش پر خراج عقیدت،


آپ کا پورا نام سید فضل الحسن حسرت موہانی مسعودی تھا،

آپ کی پیدائش ۱ جنوری ۱۸۷۵ کو برطانیہ کے زیر اقتدار ہندوستان کے اناؤ ضلع کے موہان گاؤں میں ہوئی تھی،


آپ کے والد کا نام سید اظہر حسین تھا۔ ابتدائی تعلیم گھر پر ہی حاصل کی۔ ۱۹۰۳ء میں علی گڑھ سے بی اے کیا۔ عربی کی تعلیم مولانا سید ظہور الاسلام فتحپوری سے اور فارسی کی تعلیم مولانا نیاز فتح پوری کے والد محمد امیر خان سے حاصل کی تھی ۔ حسرت سودیشی تحریک کے زبردست حامیوں میں سے تھے اور انہوں نے آخری وقت تک کوئی ولایتی چیز کو ہاتھ نہیں لگایا۔ شروع ہی سے شاعری کا ذوق تھا۔ اپنا کلام تسنیم لکھنوی کو دکھانے لگے۔ ۱۹۰۳ءمیں علی گڑھ سے ایک رسالہ ”اردوئے معلی“ جاری کیا۔ اسی دوران شعرائے متقدمین کے دیوانوں کا انتخاب کرنا شروع کیا۔ سودیشی تحریکوں میں بھی حصہ لیتے رہے چنانچہ علامہ شبلی نے ایک مرتبہ کہا تھا۔”تم آدمی ہو یا جن، پہلے شاعر تھے پھر سیاست دان بنے اور اب بنئے ہو گئے ہو۔“ حسرت پہلے کانگرسی تھے۔ گورنمنٹ کانگریس کے خلا ف تھی۔ چنانچہ ۱۹۰۷میں ایک مضمون شائع کرنے پر جیل بھیج دیے گئے۔ ان کے بعد ۱۹۴۷ ءتک کئی بار قید اور رہا ہوئے۔ اس دوران ان کی مالی حالت تباہ ہو گئی تھی۔ رسالہ بھی بند ہو چکا تھا۔ مگران تمام مصائب کو انہوں نے نہایت خندہ پیشانی سے برداشت کیا اور مشق سخن کو بھی جاری رکھا۔ آپ کو ‘رئیس المتغزلین‘بھی کہا جاتا ہے- مولانا حسرت موہانی کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے بانیوں میں سے ایک تھے۔ حسرت موہانی نے ۱۳حج کیے ۔ پہلا حج ۱۹۳۳میں کیا اور آخری حج ۱۹۵۰میں ادا کیا ۔ ۱۹۳۸میں حج کے بعد ایران، عراق اور مصر بھی گئے، کہتے تھے ۔۔۔ 

(وکی پیڈیا سے ماخوذ)



جب ہمارے ملک ہندوستان پر انگریز سامراج کا تسلط تھا تو اس وقت ملک کی آزادی کی خاطر کئی الگ الگ نعروں کا ظہور ہو رہا تھا، اُسی کڑی میں ایک نعرہ جس نے ملک کی آزادی میں اہم کردار ادا کیا، وہ "انقلاب زنده باد" کا نعرہ بھی آپ نے ہی دیا تھا،

۱۹۲۱ میں احمد آباد کے کانگریس میٹنگ میں عظیم مجاہد آزادی شہید اشفاق اللہ خان، رام پرساد بسمل کے ساتھ تھے،

 وہ ہندوستانی تاریخ میں پہلے ہندوستانی تھے جنہوں نے انگریزوں سے پوری آزادی (آزادئ کامل) کی مانگ کی تھی،

انہوں نے ہندوستان کی آزادی کے بعد اپنے ملک میں رہنے کو ترجیح دی اور غزل چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے جسے غلام علی صاحب نے اپنی آواز دی تھی آپ نے ہی لکھا ہے،

اگر ان کی شخصیت کی بات کی جائے  تو پاکستان کے کراچی میں حسرت موہانی میموریل سوسائٹی، حسرت موہانی میموریل لائبریری، ہال، ٹرسٹ کا قیام اُن کی شخصیت کی عکاسی کرتا ہے،

مولانا کے یوم وفات پر ہر سال یہ ٹرسٹ ان کی یاد میں پروگرام کرتا ہے ہے اسی طرح پاکستان کے کراچی شہر کے اورنگی ٹاؤن میں میں ان کے نام کی ایک کالونی اور روڈ بھی ہے،

 اسی طرح بھارت کے شہر کان پور میں مولانا حسرت موہانی ہاسپٹل، مولانا حسرت موہانی روڈ ہے، اسی طرح کانپور میں واقع بتھر⁦ میں حسرت موہانی گیلری ہے، کلکتہ کے مٹیابرج میں حسرت موہانی میموریل گرلز ہائر سیکنڈری اسکول ہے،


آپ ایک بہترین شاعر بھی تھے، اسی لیے آپ کو رئیس المتغزلین بھی کہا جاتا ہے،

جب ہم آپ کی شاعری کا جائزہ لیتے ہیں تو پاتے ہیں کہ


آپ اردو غزل گوئی کی تاریخ میں ایک ممتاز حیثیت رکھتے ہیں۔ اردو شاعری کے ارتقاءمیں ان کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ ان کے خیال اور انداز بیان دونوں میں شخصی اور روایتی عناصر کی آمیزش ہے۔ حسرت موہانی کو قدیم غزل گو اساتذہ سے بڑا ہی ذہنی و جذباتی لگائو تھا۔ اور یہ اسی لگائو کا نتیجہ تھا کہ کلاسیکل شاعروں کا انہوں نے بڑی دقت نظر سے مطالعہ کیا تھا۔ اور اپنی طبیعت کے مطابق ان کے مخصوص رنگوں کی تقلید بھی کی۔ قدیم اساتذہ کے یہ مختلف رنگ حسرت کی شاعری میں منعکس دکھائی دیتے ہیں۔ اور خود حسرت کو اس تتبع کا اعتراف بھی ہے، 

آپ نے صرف ایک ہی صنف کی شاعری نہیں کی، 

بلکہ آپ نے الگ الگ موضوعات پر لکھا ہے اور کیا خوب لکھا ہے، آپ نے عشقیہ شاعری کے ساتھ ساتھ سیاسی شاعری بھی خوب کی، چوں کہ آپ کا سیاست سے گہرا لگاؤ تھا اس لیے آپ نے اس میدان میں بھی اپنی شاعری کے جوہر دکھائے ہیں، کچھ اشعار سے اسے سمجھا جا سکتا ہے،


کٹ گیا قید میں رمضاں بھی حسرت

گرچہ سامان سحر کا تھا نہ افطاری کا


ہم قول کے صادق ہیں اگر جان بھی جاتی

واللہ کہ ہم خدمتِ انگریز نہ کرتے


آپ نے کئی کتابیں تصنیف کیں ہیں،

آپ کی تحریر کردہ کچھ کتابوں کے نام یہ ہیں،

۱ کلیات حسرت موہانی 

۲ شہر کلام غالب 

۳ نکاتِ سخن

۴ مشاہدات زندہ

انہوں نے اپنے کلام میں حب الوطنی اصلاح معاشرہ قومی ایکتا مذہبی اور سیاسی نظریات پر روشنی ڈالی ہے،

۲۰۱۴ میں ہندوستانی حکومت نے ان کے اعزاز میں ایک ڈاک ٹکٹ جاری کیا تھا،




حسرت موہانی نے ۷۲ سال کی عمر میں ۱۳ مئی ۱۹۵۱ء کو لکھنؤ میں وفات پائی،


آج مولانا حسرت موہانی کو گزرے ہوئے ۷۰ سال ہو گئے، ان گزرے سالوں میں آپ کو جو عزت اور احترام ملنا چاہیے تھا شاید نہیں ملا، آپ دل سے کانگریسی تھے،  لیکِن ۷۰ سال تک کانگریس نے حکومت میں ہوتے ہوئے آپ کو کبھی وہ عزت نہیں دی جس کے وہ حقدار تھے،اگر اس تحریر کے بعد آپ کو وہ عزت اور احترام ملتا ہے تو اس تحریر کا حق ادا ہو جائے گا، 


ہے مشق سخن جاری چکی کی مشقت میں

 اک طرفہ تماشہ ہے حسرت کی طبیعت بھی

ایک شخص ایک کائنات ابو الحسن علی حسنی ندوی (علی میاں) رحمۃ اللہ علیہ دامت برکاتہم کے یومِ وفات پر خاص،

        ایک شخص ایک کائنات

ابو الحسن علی حسنی ندوی (علی میاں) رحمۃ اللہ علیہ دامت برکاتہم کے یومِ وفات پر خاص،

(24 نومبر 1914 (پیدائش)–31 دسمبر 1999 (وفات)

تحریر: خرم ملک

رابطہ: 9304260090


آج جس شخصیت پر میں قلم اٹھانے کی جسارت کر رہا ہوں وہ صرف ایک انسان نہیں ایک پورا زمانہ ہے، ایک عہد ہے، شاید ایک صدی بھی کہہ سکتے ہیں، میری خوش نصیبی یہ ہے کہ میں نے اس شخص کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے، واللہ کیا نور تھا چہرے پر. 

جب میں عالمیت کی تعلیم حاصل کر رہا تھا تو مولانا علی میاں ندوی رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں اکثر و بیشتر تعریفیں سنا کرتا تھا، جس سے مجھے انہیں دیکھنے کا اشتیاق پیدا ہوا، اور اللّٰہ کا کرنا تھا سو مجھے انہیں لکھنؤ کی مشہور و معروف اسلامی ادبی درسگاہ ندوتہ العلماء میں دیکھنے کا شرف حاصل ہوا. 

یہ تب کی بات ہے جب میں عالمت کی تعلیم حاصل کر رہا تھا، چوں کہ جامعہ سید احمد شہید (کٹولی) لکھنؤ سے کچھ پچیس سے تیس کیلو میٹر کے فاصلے پر ہے تو اکثر ندوہ جانا ہوتا رہتا تھا، اور جب ایک مرتبہ میں ندوۃ العلماء لکھنؤ کی مسجد میں عصر کی نماز سے فارغ ہو کر بیٹھا تھا کہ ٹھیک سامنے ایک بزرگ، پُرنور چہرہ والی شخصیت بیٹھی تھی، تب میں نے شاید کسی بندے سے دریافت کیا کہ یہ حضرت کون ہیں، اس نے کہا کہ نہیں جانتے، یہ علی میاں صاحب ہیں، اور تب مانو میری برسوں کی مراد پوری ہو گئی، میں حیرت و استعجاب کے ملے جلے جذبات کے ساتھ بس حضرت کو تکے جا رہا تھا، اور دل ہی دل میں یہ سوچ رہا تھا کہ کیا کوئی انسان اتنا پُرنور بھی ہو سکتا ہے، مجھے یاد نہیں کہ میں کتنی دیر تک اُن کو دیکھتا رہا، دل تھا کہ ماننے کو تیار نہیں، نظریں ہٹنے کو راضی نہیں، دل کسی صورت قابو میں نہیں، آئے ہائے، اب کہاں ایسے لوگ ملتے ہیں، اب کہاں ایسے گونا گوں شخصیت کے مالک کو دیکھنے کا موقع ملتا ہے، وہ دِن ہے اور آج کا دن، اس پر وقار چہرے کو کبھی بھول نہیں پایا، آنکھوں میں جیسے چھپ سی گئیں ہیں وہ ساعتیں

مجھے یہ بھی شرف حاصل ہے کہ میں نے حضرت کی تحریر کردہ کتابیں القرات الراشدہ، قصص النبیین پڑھی ہیں، جسے انہوں نے محض 16 سال کی عمر میں لکھ دیا تھا، مجھے یہ بھی شرف حاصل ہے کہ میں اس ادارے کا طالب علم رہا جس کی سرپرستی حضرت مولانا سید سلمان حسنی ندوی صاحب کے ذمّے ہے، جو حضرت مولانا علی میاں رحمہ اللہ علیہ کے نواسے ہیں. 

جسے دنیا جامعہ سید احمد شہید رح کے نام سے جانتی ہے، آج بھی عالم اسلام مولانا علی میاں ندوی رحمۃ اللہ علیہ کے خلاء کو پر نہیں کر پایا ہے، خانہ کعبہ کی کنجی ملنا آپ کی قابلیت کو ظاہر کرتا ہے، آپ کی زبان کی سلاست کا یہ عالم تھا کہ جامعہ ازہر کے اپنے وقت کے دقاق عالم دین بھی آپکی عربی زبان پر گرفت کے قائل تھے،

اور آل سعود آپ کو بڑی عزت احترام کی نگاہ سے دیکھا کرتے تھے، بیسویں صدی حضرت مولانا علی میاں ندوی رحمۃ اللہ علیہ کا زمانہ تھا،

5 دسمبر 1913 کو ابو الحسن علی ندوی کی ایک علمی خاندان میں پیدائش ہوئی۔ ابتدائی تعلیم اپنے ہی وطن تکیہ، رائے بریلی میں حاصل کی۔اس کے بعد عربی، فارسی اور اردو میں تعلیم کا آغاز کیا۔

علی میاں نے مزید اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے لکھنؤمیں واقع اسلامی درسگاہ دار العلوم ندوۃ العلماء کا رخ  کیا۔اور وہاں سے علوم اسلامی میں سند فضیلت حاصل کی. 

آج بھی آپکی لکھی کتابیں دنیا کے مختلف ممالک کے اسلامک یونیورسٹیوں  میں پڑھائی جاتی ہیں.


علی میاں ندوی کی تصانیف 

 ماذا خسر العالم بانحطاط المسلمين

 انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کا اثر

قصص النبیین

القرات الراشدہ

تاریخ دعوت و عزیمت

سید احمد شہید رح

کاروانِ زندگی

اپنے گھر سے بیت اللہ تک

پاجا سراغِ زندگی

ارمغانِ فرنگ

دستورِ حیات

سیرتہ خاتم النبیین

اعزاز

1962: مکہ میں واقع رابطہ عالم اسلامی کے قیام کے موقع پر افتتاحی نشست کے سیکریٹری۔1980: شاہ فیصل ایوارڈ 1980: آکسفرڈ سینٹر برائے اسلامک اسٹڈیز کے صدر۔1984: رابطہ ادب اسلامی کے صدر۔ 1999: متحدہ عرب اماراتکے محمد بن راشد آل مکتوم کی جانب سے قائم کردہ ایوارڈ اسلامی شخصیت ایوارڈ دیا گیا. 

کعبہ تک رسائی

1951 میں دوسرے حج کے دوران میں کلید بردار کعبہ نے دو دن کعبہ کا دروازہ کھولا اور علی میاں کو اپنے رفقاء کے ساتھ اندر جانے کی اجازت دی۔

موجود وقت میں مولانا کے بھانجے محترم سید سلمان حسنی ندوی صاحب دامت برکاتہم انکی وراثت کو بڑی ہی دلجمعی کے ساتھ آگے بڑھا رہے ہیں. 

مولانا علی میاں ندوی رحمۃ اللہ علیہ علامہ سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد تھے، 

آپ کا وصال بھی بڑے ہی خوبصورت انداز میں ہوا

جہاں تک مجھے یاد ہے کہ جمعہ کا مبارک دن تھا اور آپ قرآن مجید کی سورۃ یسین کی تلاوت کر رہے تھے، اور اللّٰہ کا کلام پڑھتے ہوئے اپنے مالک حقیقی سے جا ملے. 

اب سوال یہ ہے کہ کیا اب کوئی دوسرا علی میاں پیدا ہوگا؟ 

 ویسے کوششیں کامیاب ہوتی ہیں۔۔۔ 

تو علی میاں ندوی رحمۃ اللہ علیہ کے سلسلے کو جاری و ساری رکھنے پوری کوشش کریں۔۔۔

باقی اللّٰہ مالک۔۔۔۔

شاید علامہ اقبال نے ایسی ہی ہستیوں کے لیے کہا ہے کہ

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پے روتی ہے

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

نیپال میں سیاسی طوفان

     نیپال میں سیاسی طوفان 

مفتی محمد ثناء الہدی قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ


 نیپال کے وزیر اعظم کے پی شرما او لی نے پارلیامنٹ تحلیل کرکے نئے انتخاب کے فیصلے سے نیپال ہی  نہیں ، ہندوستان کو بھی حیرت میں ڈال دیا ہے ، حکمراں پارٹی کے اندر اختلافات کی خبریں عام تھیں، لیکن وزیر اعظم اس حد تک چلے جائیں گے اس کا اندازہ کسی کو نہیں تھا، ادھر وزیر اعظم کولی نے وزارت سے یہ تجویز پاس کراکر صدر ودیا دیوی بھنڈاری کی خدمت میں پیش کیا اور انہوں نے نیپال کے دستور کی دفعہ ۷۶کے شق ایک اور سات اور دفعہ ۸۵ کے مطابق ان کی تجویز تسلیم کرکے ایوان کی تحلیل اور مارچ اپریل میں نئے انتخابات کرانے کا اعلان کر دیا ہے، یہ انتخابات اگلے سال ۳۰؍ اپریل اور ۱۰؍ مئی کو کرائے جائیں گے ، کولی نے اس غیر معمولی قدم پر صفائی پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی ہی پارٹی کے کچھ لوگ حکومت کے کاموں میں رکاوٹیں کھڑی کر رہے تھے، جس سے ملک کی ترقی اور حکومت کے کام کاج میں دشواری پیش آ رہی تھی ، اس لیے اس کے علاوہ میرے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں رہ گیا تھا کہ میں دوبارہ عوام کے پاس جاؤں اور ان کی حمایت سے جیت کر دو بارہ حکومت بناؤں۔ 

 جیسا کہ معلوم ہے کہ نیپال کمیونسٹ پارٹی( این اس پی) کے سینئر لیڈران پشپ کمل داہال پر چنڈ مادھو کمار نیپال جھال ناتھ کھنال اور ان کے ہم نوا اولی کی سخت مخالفت کر رہے تھے ۔۲۰۱۷ء میں ان کی پارٹی کی جیت ہوئی تھی اور انہوں نے نیپال کمیونسٹ پارٹی (ماؤوادی) کی حمایت سےدو تہائ اکثریت کے ساتھ وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالاتھا۔

 اُولی کے عہد حکومت میں نیپال اور ہندوستان کے تعلقات سرد مہری کا شکار رہے ، بلکہ ہندوستان کے بعض علاقوں پر نیپال نے اپنا دعویٰ ٹھونکا تھا، جس سے دوریاں بڑھ گئی تھیں، حال میں سیاسی گفت وشنید کے ذریعہ یہ مسئلہ ٹھنڈا پڑا تھا اور توقع کی جارہی تھی کہ ہندونیپال تعلقات میں مزید بہتری آئے گی ، لیکن وزیر اعظم نیپال کے اس قدم نے ساری امیدوں پر پانی پھیر دیا۔

کے پی شرمااولی کی پارٹی نے ان کے خلاف کاروائی کے فیصلے کے لیے میٹنگ بلائی ، اُولی نے یہ کہہ کر اسے رد کر دیا  کہ میں پارٹی کا اول صدر ہوں کسی دوسرےکے ذریعہ بلائی جانے والی میٹنگ غیر قانونی ہوگی اور اس کے ذریعہ میرے خلاف کوئی کارروائی قابل قبول نہیں ہوگی، جب کہ پارٹی کے سینئر لیڈران اُولی کے اس قدم کو غیر جمہوری ، غیر آئینی اور ان کی ذاتی رائے قرار دے کر ان کے خلاف کارروائی کے لیے مصر ہیں۔ادھر نیپال کی عدالت نے بھی سماعت کے لئے کئ درخواستوں کو قبول کر لیا ہے. 

 نیپال کی عوام بھی دو خیموں میں بنٹ گئی ہے اور ہندوستان کی سرحد سے متصل اضلاع ویر گنج، روتہٹ اور وراٹ نگر میں بڑے پیمانے پر احتجاج اور مظاہرے جاری ہیں، مستقبل قریب میں اس میں تیزی آنے کا امکان ہے، اس طرح نیپال کا سیاسی طوفان وہاں کی سیاست کو تو متاثر کرے گا ہی ، اس کی وجہ سے ہندونیپال تعلقات بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔کیوں کہ ہندو نیپال کارشتہ دو پڑوسی ملک کا ہی نہیں بیٹی روٹی کا بھی ہے. 

(بشکریہ نقیب)

Wednesday, 30 December 2020

نئےسال کی شروعات مثبت سوچ اورایک ذمہ دار شہری کی حیثیت سے کریں

   نئےسال کی شروعات مثبت سوچ اورایک ذمہ دار شہری کی حیثیت سے کریں!

 قارئین کرام!

  نئے سال کی شروعات مثبت سوچ،  اور ایک ذمہ دار شہری کی حیثیت سے کریں حکومت ہند کی تانا شاہی کردار اور عالمی وباء کوڈ19نے ہندوستان کو صدیوں پیچھے لاکر کھڑا کردیا ہے جس طرح عالمی سطح سطح پر 2020 کو الوداع کہنے اور 2021 کا استقبال کی تیاری زوروں پر ہے ٹھیک اسی طرح ماقبل میں بھی کیا گیا تھا لیکن ہمیں ملا کیا یہ لمحے فکریہ ہے! ہمیں ملا تو ملا صرف آپ سے نفرت تعلیمی شعبہ کی بربادی سرکاری املاک کی نجی کرن  اور جواہرلال نہرو یونیورسٹی، BHU,شاہین باغ ،کسان مہا موومینٹ کی تاریخی احتجاج اور اسکی بربادی اور حکومت ہند کی دوہری نظریہ اور بربریت,CAA,NRC GST,نوٹبندی جسکی ملک کو کوئی ضرورت نہیں تھی اور نا ہی ملک اسکے لئے تیار تھا ،بلکہ عوام پر  زبردستی تھوپا گیا جس کے وجہ سے ملک  مالی بحران کے شکار ہوتا چلا گیا موجودہ حکومت کے غلط پالیسیوں اور فسطائیت  کیوجہ سی سپریم کورٹ ای،ڈی،سی،بی،آئی، جیسی بڑی۔بڑی ایجنسیوں سے لوگ پورے طور سے بدظن ہوئے ہیں اور ذہنی تناؤ سے متاثر ہوے ہیں،جوکہ ملک خوش آئند مستقبل کے لئے بھیانک خطرہ ہے، کوڈ 19 کے چلتے ہندوستان کے کروڑوں شہریوں کی نوکریاں چلی گئی شروعاتی دور میں تو لوگوں نے بھی خوب مدد کیا تھا اور تصویر کھنچوائی تھی لیکن افسوس صد افسوس کے آج بھی غریبوں کی چولہے بڑی مشقت سے روشن ہو رہی ہے حکومت ہند کو چاہیے کہ ہندوستان کی اصل چہرہ سامنے لائے اور پھر سے گنگا جمنی تہذیب کو بحال کر اور آپسی میل ملاپ سے ہندوستان کو ایک نئی جہت دینے کی کوشش کریں نہیں تو اب بہت دیر ہو جائے گی اور پھرسے ہندوستان کو پٹری پر لانا ناممکن ہو جائگا  

       محمد فیروز عالم

 صوبائی سیکریٹری بہار اسٹیٹ اردو ٹیچر س اسوسی ایشن alamfiroz13890@gmail.com

سالار اردو جناب غلام سرور کی یوم ولادت بہار اسٹیٹ اردو ٹیچر س ایسوسی ایشن کیطرف سے تقریب یوم اردو منانا کا اعلان

  سالار اردو جناب غلام سرور کی یوم ولادت بہار اسٹیٹ اردو ٹیچر س ایسوسی ایشن کیطرف سے تقریب یوم اردو منانا کا اعلان   10جنوری کو منائی جائےگی...