Monday, 25 January 2021

حب الوطنی ،آزادی اور اردو شاشاعری ابوالبرکات،شاذ،قاسمی

حب الوطنی ،آزادی اور اردو شاشاعری 
ابوالبرکات،شاذ،قاسمی



۔رابطہ8651781747

شاعری حالات و حادثات سے متاثر ہو کر دل سے نکلنے والی جذبات و کیفیات کی موزوں عکاسی کا نام ہے اور حب الوطنی انسان کی فطرت ہے جبکہ آزادی اسکا  بنیا دی حق اس لیے شاعری میں حب الوطنی کے ترانے اور آزادی کے نغمات جا بجا ملتے ہیں شاعر جس سماجی پس منظر میں سانسیں لیتا ہے اس کی شاعری ٹھیک اسی سماج و معاشرہ کا عکس پیش کرتی ہے 

جس وقت ہمارا ملک انگریزوں کی غلامی میں جکڑا ہوا تھا اورہرشخص اس غلامی کی زنجیروں سے آزاد ہونے کے لیے اپنے بال و پر مار رہا تھا اس وقت ہماری اردو شاعری بھی حب الوطنی کے جذبات سے سرشار ہوکر آزادی کے لیے "انقلاب زندہ باد" کے نعرے لگا رہی تھی اردو شاعری کا تحریک آزادی میں متحرک بن کر آ جانے سے آزادی کی تحریک میں مزید تیزی آئی شاعروں نے اپنی شاعری میں حب الوطنی،آزادی،اتحاد، کی اہمیت پر زور دیا انگریزوں کے ظلم وبربریت کو مختلف انداز و اسلوب میں بیان کیا تو ہندوستانیوں کے دلوں میں وطن سے محبت کے جذبات جوش میں بدل گءے اور وطن پر نثار ہونے کے لیے سر پر کفن باندھ کر گھروں سے نکل گئے حب الوطنی کے اس قسم کے اشعار ہم یوم آزادی یا یوم جمہوریہ کی تقریب کے موقع پر اکثر سنے ہوں گے ان تمام اشعار میں ایک جوش و جنون کی کیفیت،فداءیت کے جذبات اور غلام ہندستان کی مکمل آزادی کی بانگ پایی جاتی ہے آج بھی کسی بزم یا تقریب میں ترنم کے ساتھ اردو کا مشہور شعر "سرفروشی کی تمنا آج ہمارے دل میں ہے ،دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے"یا اقبال کے ترانے کا یہ شعر اے آبرود گنگا وہ دن ہے یاد تجھ کو اترا ترے کنارے جب کارواں ہمارا یا پھر چشتی نے جس زمیں پہ پیغام حق سنایا گایا جا تا ہے تو فرط جذبات سے ایسا لگتا ہے کہ پورے مجمع پر سکون سا طاری ہو گیا ہو اور انکے چہرے اور آنکھوں سے گرم لہو باہر آنے کو بے چین ہو رہا ہو۔ یہ اردو شاعری کا کمال انفرادیت  ہیکہ اس نے وطن کی آزادی کے لیے ایک تحریک کا کام کیا۔

اردو شاعری میں انقلابی تیور اور آزادی کا تصوراقبال کے یہاں واضح طور پر ملتا ہے حالانکہ اس سے قبل بھی اردو شاعری میں حب الوطنی اور آزادی کے ترانے دیکھنے کو ملتے ہیں مگر اقبال نے اس کو جدا رنگ و آہنگ دیا اور اپنی بات کو نرالے ڈھب سے تشبیہاتی انداز میں رکھا وہ مارکسیت کے نظام سے کافی متاثر تھے جس کا اثر ان کی نظموں میں پایاجاتاہے ہے وہ کہتے ہیں۔ 

اٹھو میری دنیا کے غریبوں کو مٹا دو 

کاخ امراء کے در و دیوار کو مٹا دو 

گرماوں غلاموں کا لہو سوز یقیں سے 

گنجشاک فرومایہ کو شاہیں سے لڑادو 

مکر کی چالوں سے بازی لے گیا سرمایہ دار 

انتہائی سادگی سے کھا گیا مزدور مات 

اقبال کے علاوہ حب الوطنی ، ظلم و بربریت اور غلامی سے آزادی کا تصور ہم جوش ملیح آبادی کی شاعری میں بھی دیکھ سکتے ہیں ان کی شاعری نے نوجوان نسلوں کے قلوب میں حب الوطنی کے جوش و جذبہ کو بڑھاوا دیا تو دوسری طرف سرمایہ داروں ، انسانیت پر ظلم کرنے والوں اور آدمی کو غلام سمجھنے والوں کے خلاف احتجاج بلند کیا۔جو تحریکیں ہندوستان میں انگریزوں کے خلاف ،غلامی سے آزادی حاصل کرنے  کے لیے لڑ رہی تھیں ان کی ہمت افزائی کی اور ان کے روم روم میں ایک ولولہ پیدا کیا جوش کی مشہور نظم "کیوں ہند کا زندہ کانپ رہا ہے ، گونج رہی ہیں تکبیریں کو پڑھنے اور سننے کے بعد اندازہ ہوتا ہیکہ حب الوطنی اور ملک کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے کے لیے  جوش کے دل میں کس قدر جوش و جذبہ تھا اسی طرح حب الوطنی اور آزادی کے نغمات ہم مجاز کے یہاں بھی وافر مقدار میں پاتے ہیں اردو شعراء میں مجاز کو ایک انقلابی شاعر کے طور پر جانا جاتا ہے انہوں نے نظم "انقلاب" لکھ کر اپنے انقلابی ہونے کا ثبوت عمدہ طور پر دیا ہے انقلاب نظم کے چند اشعار ملاحظہ کریں۔ 

آرہے ہیں جنگ کے بادل وہ منڈلاتے ہوءے 

آگ دامن کا چھپاءے خون برساتے ہوءے 

کوہ صحراء میں زمیں سے خون ابلے گا ابھی 

رنگ کے بدلے گلوں سےخوں ٹپکے گا ابھی 

سرکشی کی تیز آندھی دم بدم چڑھتی ہوءی 

ہرطرف یلغار کرتی ہر طرف بڑھتی ہوءی 

خون کی ہولی کی جنگل سے ہواءیں آءیں گی 

خون ہی خون ہوگا نگاہیں جس طرف بھی جاءیں گی۔

اس طرح ہم دیکھیں گے کہ اردو شاعروں نے اپنی شاعری میں ہر دور و ہر حالات میں وقت کی ظالم طاقتوں کے خلاف آوازیں بلند کیں خاص طور سے ہندستان میں انگریزوں کے غلامی کے خلاف انقلاب انگیز نظمیں لکھ کرمادر وطن کے ساتھ حب الوطنی کو پیش کیا ہے تحریک آزادی میں بھی اردو شاعری نے ہی قومی یک جہتی  کا نظریہ پیش کیا اور اتحاد کی اہمیت کا سب کو احساس دلایا یہ اردو شاعری ہی تھی جس نے غلامی کی زندگی گزار رہے ہندوستانیوں کو ہند و مسلم ایکتا ، اتحاد، یک جہتی مشترکہ قومی مفاد اور ظالم انگریزوں کے خلاف ایک پلیٹ فارم بناکر لڑنے کا تصور پیش کیا اور ملک کے تمام باشندوں کے رو برو ہو کر آزادی کی اہمیت کو اجاگر کیا اور انگریزوں کے ہندستان مخالف پالیسیوں کو عام کیا کبھی انقلابی نظمیں لکھیں تو کبھی اپنے بے باکی اور جرات مندی کے جرم میں جیل کی صعوبتیں برداشت کیں ایسے شعراء میں مولانا حسرت موہانی، اسرار الحق مجاز ،لال چند فلک، عرش ملسیانی ، الطاف حسین حالی ، فراق گورکھ پوری، ساحر

لدھیانوی ،چکبست برج نرائن، نذیر بنارسی،تلوک چند محروم،معین احسن جذبی،افسر میرٹھی،میر سید نذیر حسین ناشاد، سرور جہان آبادی،ظفر علی خان، وغیرہ کے نام قابل ذکر ہے جن کے نظموں میں حب الوطنی کے ساتھ ساتھ آزادی ہند کے لیے مکمل تحریک پاءی جاتی ہے ۔

حبیب جالب کی نظم "ماں"  علی سردار جعفری کی نظم "اٹھوں ہند کے باغبانوں اٹھوں "جوش ملیح آبادی کی" کیوں ہند کا زندہ کانپ رہا ہے  گونج رہی ہیں تکبیریں "اسرار الحق مجاز کی نظم " جلال آتش برق و سحاب پیدا کر " لال چند فلک کی نظم "خوف آفت سے کہاں دل میں ریا آءے گی ۔عرش‌ملسیانی کی نظم " میرے وطن پیارے وطن " جوش ملیح آبادی کی "اے وطن پاک وطن روح رواں احرار " اسی طرح ایسٹ انڈیا کمپنی کے فرزندوں سے خطاب "اور" پھر حصول آزادی کی دقتیں"یہ سب کے سب اردو شاعری کی وہ نظمیں ہیں جن میں حب الوطنی اور مادر وطن سے عقیدت و محبت کے جذبات وافر طور پر پاءے جاتے ہیں اور ان نظموں کے پڑھنے سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ کس طرح ان نظموں نے آزادی کے  متوالوں کے دلوں کو گرماءے رکھا ہوگا آءیے ہم اردو شاعری کے چند اشعار کی سحر آفرینی سے مسحور ہوتے ہیں جن میں حب الوطنی اور آزادی کے نغمات پاےجا تے ہیں ۔

میدان میں نکل آءی ایک برق سی لہراءی 

ہر دست ستم کانپا بندوق بھی تھراءی 

ہر سمت صدا گونجی 

میں آءی ہوں میں آءی 

اس نے کہا خون خواروں 

دولت کے پرستاروں 

دھرتی ہے یہ ہم سب کی 

اس دھرتی کے نادانوں 

انگریز کے دربانوں

صاحب کی عطا کردہ 

جاگیر تم نہ جانو


خوف فٹ سے کہاں دل میں ریا آءےگی 

بات سچی ہے جو وہ لب پہ صدا ءےگی 

دل سے نکلے گی نا مر کر بھی وطن کی الفت

میری مٹی سے بھی خوشبو وفا آءے گی

 

اٹھو ہند کے باغبانوں اٹھو 

اٹھو انقلابی جوانوں اٹھوں

کسانوں اٹھو کامگاروں اٹھو 

نءی زندگی کی شراروں اٹھو

اے ہندو و مسلماں آپس میں ان دنوں تم نفرت گھٹاءے جاؤ الفت بڑھاءی جاؤ 

بکرم کی راج نیتی اکبر کی پالیسی کی 

سارے جہاں کے دل پہ عظمت بڑھاءی جاؤ 


بے خوف گاءے جاؤ "ہندستان ہمارا" 

اور"وندے ماترم" کے نعرے لگانے جاؤ

پھانسی کا جیل کا ڈر دل سےفلک مٹا کر غیروں کے منھ پہ سچی باتیں سناے جاؤ 

مذکورہ اشعار میں جو  حب الوطنی اور آزادی کے  جذبات سے لبریز نظموں کے ٹکڑے ہیں آپ بخوبی اندازہ کر سکتے ہیں کہ اردو شاعری نے کس قدر وطن کی عقیدت کو مؤثر بنا کر پیش کیا ہے تو وہی مادر وطن کی آزادی کی خاطر کس طرح ہندوستان والوں کو پر جوش کیا ہے ساتھ ہی آپ یہ نتیجہ بھی اخذ کرسکتے ہیں کہ اردو شاعری نے جس طرح حب الوطنی کا ثبوت پیش کیا ہے ملک سے عقیدت و محبت کے ترانے گن گناءے ہیں اس کی‌نظیر ملنی مشکل ہے 

اردو شعراء نے جیل کی سلاخوں اور انگریزوں کے مظالم سے  بے پرواہ ہو کر  انگریزوں کے مظالم کے خلاف آوازیں بلند کیں اور سب سے پہلے  مکمل آزادی کی بانگ دی۔ جس کے جرم انہیں سخت ترین سزا دی گءی جیلوں کی کڑی مشقتیں دی گءیں مگر ان کی حب الوطنی اور آزادی کی تڑپ کم نہی ہوءی بلکہ انہوں نے جیلوں میں بھی اپنے مقا صد(آزادی و حب الوطنی)  اور اپنا مشغلہ(شاعری)کو جاری رکھا مولانا حسرت موہانی نے قید و بند کے زمانے میں ہی اپنا یہ مشہور شعر کہا تھا 

ہے مشق سخن جاری چکی کی مشقت بھی 

ایک طرفہ تماشہ ہے حسرت کی طبیعت بھی 

بالآخر ہمارا‌ملک ایک مسلسل قربانی اور پیہم کوششوں کے بعد "آز دی"کی حقیقت سے آشنا ہوا مگر افسوس کہ جس زبان نے اپنی شاعری کے ذریعہ حب الوطنی،آزادی ،انقلاب،آپسی اتحاد،کا سبق پڑھایا اسے آج نظر انداز کیا جا رہا ہے اور آزادی کے بہتر سال بعد بھی وہ اپنوں کی بے وفائی کا رونا رو رہی ہے ۔

              ختم شد

          غیر مطبوعہ

ازقلم۔ ابوالبرکات،شاذ،قاسمی

     جگیراہاں،بتیا

رابطہ.8651781747

ای میل۔abulbarakat57@gmail.com

Sunday, 24 January 2021

یوم جمہوریہ :جمہوری اقدارکی حفاظت کا یومِ عہد مفتی محمد ثناء الہدی قاسمی

 یوم جمہوریہ :جمہوری اقدارکی حفاظت کا یومِ عہد
مفتی محمد ثناء الہدی قاسمی 

نائب ناظم امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ

۲۶؍ جنوری آگیا ، ہر سال کی طرح امسال بھی جشن منایا جائے گا ،البتہ کوڈ19کی وجہ سے اسے امسال محدود کیا گیا ہے، اسکے باوجودانڈیا گیٹ کے سامنے ہندوستان کی تہذیبی وثقافتی جھانکیاں پیش کی

 جائیں گی ، دفاعی میدان  اور اسلحوں کی دوڑ میں ہماری جو حصولیابیاں ہیں، اس کا مظاہرہ کیا جائے گا، شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کیا جائے گا ، اور امر جیوتی پر حاضری درج کرائی جائے گی ، اصل پروگرام انڈیا گیٹ پر ہوگا ، اور پھر پورا ملک جشن میں ڈوب جائے گا ، ترنگے جھنڈوں کے ساتھ مدرسوں ، اسکولوں اور اداروں میں رنگا رنگ تقریب ہوگی ، طلبہ وطالبات کو انعامات سے نوازا جائے گا ، سیاسی حضرات کی جانب سے ہندوستان کے مجاہدین آزادی کا گن گان کیا جائے گا ، اور لمبے چوڑے بیانات اور وعدوں کے ذریعہ سیدھے سادے عوام کو لبھانے کی کوشش کی جائے گی او رایسا پہلی بار نہیں ہوگا، ہر سال ایسا ہی ہوتا ہے۔

 ۲۶؍ جنوری گذرا اور ہم سب یہ بھول جاتے ہیں کہ جمہوریت کے لفظی نعروں کی کوئی حقیقت نہیں ہے ، اصل ہے جمہوری اقدار کا تحفظ؛ جس سے ملک دور سے دور ہوتا جا رہا ہے، ہم نے جمہوریت کا مطلب صرف عوام کی حکومت ، عوام کے لیے عوام کے ذریعہ سمجھ لیا ہے اور ہر پانچ سال پر انتخابات میں سارے حربے استعمال کرکے حکومت پر جو قبضہ کیا جاتا ہے ، اسے ہم جمہوری طریقۂ کار سے تعبیر کرتے ہیں اور خوب خوش ہوتے ہیں کہ ہمارا ملک جمہوری اعتبار سے مضبوط ہے، یہاں عوامی حکومت ہے اور اس قدر مضبوط ہے کہ پڑوسی ملکوں کی طرح یہاں مار شل لا لگانے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی اور ملک تیزی سے ترقی کر رہا ہے ۔

یقینا ترقی کر رہا ہے ، آزادی سے قبل جن گھروں میں سائیکل دستیاب نہیں تھی، آج موٹر سائیکل اس گھر میں موجود ہے اور بعض گھروں میں تو ہر آدمی کے لیے موٹر سائیکل دستیاب ہے، چار چکے کی بھی کمی نہیں ہے، کھانے کے لیے آزادی سے قبل عموما عام لوگوں کے لیے باجرہ ، جوار اور جوہی مہیا تھا ، گیہوں کی روٹی شاید باید گھروں میں ہر روز مہیا ہو پاتی تھی، دھوتی اور کپڑے بھی پورے طور پر فراہم نہیں تھے، زمینداروں کے ظلم وستم نے عام لوگوں کا جینا دو بھر کر دیا تھا ، بعض حرکات تو انسانیت کو ذلیل کرنے والی ہوتی تھیں، جو تے پہن کر ان کے دروازے سے گذرا نہیں جا سکتا تھا ، سواری پر بیٹھ کر کوئی گذر جائے تو قیامت آجاتی تھی ، لوگ بندھوا مزدوروں کی طرح ان کے یہاں کام کرتے اور کرتے کرتے مر جاتے تھے، یہ معاملہ نسل در نسل چلتا تھا ، ایسے لوگوں کی اپنی مرضی نہیں ہوا کرتی تھی ، سارا کچھ مالک کی مرضی کے تابع ہوتا تھا ، تھوڑی سی غلطی اور چوک پر چمڑی ادھیڑ دی جاتی تھی ، اور عفو ودر گذر ، رحم وکرم کا خانہ خالی رہتا تھا ، انسانیت سسک رہی تھی ، کسان خود کشی کر لیا کرتے تھے، پوس کی رات او رجاڑے کی یخ بستہ سردی میں کھیتوں کی رکھوالی کرتے کرتے عمر گذر جاتی تھی۔

ملک آزاد ہوا ، زمینداری ختم ہوئی، جمہوری دستور نافذ ہوا تو ملک کے عوام نے اطمینان کی سانس لیا او ربہت کچھ منظر بدلا ، انسانی قدروں کی پامالی پر دستوری روک لگی ، بندھوا مزدوری کا رواج ختم تو نہیں ہو سکا ، کم ضرور ہوا، کھیت کسانوں کا ہو گیا، خود کشی کے واقعات سامنے آنے کے با وجود کسان پہلے سے اچھی حالت میں ہوگئے.  ان دنوں موجودہ نئے زرعی قانون نے انہیں پریشان کر رکھا اور وہ جس طرح احتجاج کر رہے ہیں یہ بھی جمہوریت ہی کی دین ہے 

 اس جمہوری نظام کی وجہ سے حکومتیں بدلتی رہی ہیں، الگ الگ منشور اور مینو فیسٹو پر کام شروع ہوا ، جو حکومت آئی اس نے اپنے نظریات ملک پر تھوپنے کی کوشش کی ، اس کے نتیجے میں بھی بہت کچھ بدلا اور بدلتا چلا گیا ، کسی نے گھوم کر دیکھنے کی کوشش نہیں کی کہ سلطانیٗ جمہور میں، جمہوری اقدار کا جنازہ کس طرح نکلا اور نکلتا چلا گیا ، سیاسی پارٹیوں کو حکومت عزیز تھی ، جہاں سے ملے اور جس طرح ملے اور جتنے اقدار کو دفن کرکے ملے۔ سوا نہیں جمہوری اقدار کے تحفظ کی فکر کبھی نہیں ہوئی۔

 اس صورت حال نے جمہوری اقدار کو پامال کیا ، جمہوریت میں صرف حکومت کاہی عوامی ہونا ضروری نہیں ہے ، عوام کی خواہشات ، امنگیں ، ان کے حقوق کا تحفظ ، مذہب پر چلنے کی آزادی سب کا خیال رکھنا ضروری ہے، بد قسمتی سے بی جے پی کی مرکزی حکومت نے ہر سطح پر ان اقدار کو تہس نہس کر کے رکھ دیا ہے، مہنگائی بڑھتی جا رہی ہے ، گئو رکچھا، لو جہاد، مندر تعمیر کے نام پر رواداری کا ماحول گذشتہ چندسالوں میں تیزی سے ختم ہوا ہے، نوٹ بندی نے عوامی زندگی کو اس قدر متاثر کیا ہے کہ چھوٹے کاروباری تجارت کے اعتبار سے ختم ہو چکے ہیں کوڈ19 اور لاک ڈاؤن کے غیر منصوبہ بند،نفاذنے ہر شہری کو پریشانی میں آج تک مبتلا رکھا ہے گاندھی جی اس ملک میں عدم تشدد اور اہنسا کی علامت کے طور پر مختلف جگہوں پر تصویری شکل میں موجود تھے، انہیں بھی دیش نکالا دینے کی تیاری زوروں پر چل رہی ہے ، کئی جگہ سے انہیں ہٹایا جا چکا ہے اور روپے پر بھی کتنے دن نظر آئیں گے، کہنا مشکل ہے، نسلی اور مذہبی بنیادوں پر ملکی باشندوں کو عصبیت کا سامنا ہے اور جان بوجھ کر دلتوں ، مسلمانوں اور لسانی اقلیتوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے ، بحالیوں میں اور اعلیٰ عہدوں پر تقرریوں میں بھی سرکار سینئرٹی کو نظر انداز کرکے پرانے لوگوں کی حوصلہ شکنی کر رہی ہے ، 

 یہ مکمل حالات نہیں ، حالات کا ہلکا سا اشاریہ ہے ، اس کو پھیلا یا جائے تو بات دیر تک چلے گی اور دور تک جائے گی، کہنا صرف یہ ہے کہ ملک میں جس طرح جمہور ی اقدار پامال ہو رہے ہیں اور کسی کو اس کی فکر نہیں ہے، ایسے میں جشن جمہوریت محض ایک رسم ہے ؛ چونکہ یہ رسم ملکی دستور سے محبت کی علامت سمجھا جاتا رہا ہے، اس لیے ہر سطح پر اس جشن کا اہتمام کرنا چاہیے اور پورے جوش وخروش کے ساتھ کرنا چاہیے ، لیکن یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ یوم جمہوریہ در اصل جمہوری اقدار کے تحفظ  کا یوم عہد ہےجس کی ضرورت پہلے سے آج کہیں زیادہ ہے، یہ ملک سے محبت اور وفاداری کا تقاضہ بھی ہے اور جمہوری دستور کے تحفظ ؛بلکہ مجاہدین آزادی کو خراج عقیدت کا بہترین طریقہ بھی ۔

 چلے چلو کہ ابھی وہ منزل نہیں آئی.

26جنوری پر میرا پیغام قوم ملت کے نام

 26جنوری پر میرا پیغام قوم ملت کے نام

معزز اساتذہ کرام و محبان و قوم ملت!

یوم جمہوریہ کی دلی مبارکباد،

دوستو!

کل 26جنوری(یوم جمہوریہ ہے)اور اس گروپ میں موجود تمام افراد تعلیم یافتہ اور دانشور ہیں، اور معلم ہونے کی حیثیت سے ہم پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی  ہیکہ اپنے قوم وملت کے لوگوں کواپنی تواریخ سے روشناس کرائیں، ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارا ملک آج کن۔کن دور سے گزر رہا ہے، خاص کر اپنے ہی   کمیونٹی کے لوگوں کے ساتھ تعصب پرستی کی جارہی ہے،آج مسلم نام والے سبھی اداروں ریلوے اسٹیشنوں  سڑکوں اور تنظیموں کے نام بدلے جارہے مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو تقریبا غصب کیا جا چکا ہے، لو جہاد کے نام مسلم نوجوانوں کو جیل میں ٹھوساجارہا تو ایک طرف مسلم لڑکیو جبرا شادی کرنے غیر مسلم لڑکوں کو پانچ لاکھ کا چیک کا اعلان اور حکومت ہند کی خاموشی چہ معنی دارد، اسلئے میرے ذہن میں ایک بات کھٹک رہی ہے کہ کیو نہ ہم اپنے مجاہدین آزادی، اور اپنی تواریخ سے اپنے بچے بوڑھے اور دنیا کے لوگوں کو پھر روشناس کرائے جائے اس کے لئے ہم گھر بیٹھے ہی ایک تحریک چلائیں؟

جنہوں نے  اپنی قربانیاں دے کر ہمیں اتنا بہتر ملک ،اتنی لچیلی آئین دیا تو کیا ہم انہیں چند منٹ چند لمحے بھی نہیں دے سکتے؟؟؟ 

 آج ہی ہمیں یہ حلف لینا چاہیے کہ ہم ۱۵اگست اور ۲۶ جنوری میں صرف سامع بن کر تالیاں نہیں بجائنگے بلکہ ہم اپنے اسلاف و اکابرین کی قربانیوں سے متعلق  اس دنیا کو پھر سے روشناس کرائنگے،کہ ہم بزدل نہیں ہے بلکہ دریاؤں اور صحراؤں کا راستہ بدلنے والے صلاح الدیں ایوبی،حضرت علی، مولانا حسرت موہانی،ٹیپو سلطان، بیگم حضرت محل،مولانا مظہر الحق ،مولانا ذاکر حسین، خان عبدالغفار خان، میر عثمان کے اہل و عیال ہیں جنکو ہماری بہادری کا مظاہرہ کرنا ہو جاکر ہندوستان کے ساتھ ۔ساتھ  بیرون ملک عجائب گھروں میں دیکھے آج بھی ہماری پگڑیاں بطور عبرت رکھی گئی ہے، 

چنانچہ آپ ہمارے تحریک سے جوڑے اور آج سے ہی کام پر لگ جائے اور جب بھی بیان خطاب کا موقع ملے اپنے اسلاف کا تذکرہ ضرورکریں، ۱۵اگست ۲۶جنوری  یوم تعلیم کے موقع پر ان سے متعلق  مضمون لکھے ویڈیو کلپ بنائے اسکولوں کالجوں میں ناٹک نکڑ کرائیں، شوسل میڈیا ان سے متعلقہ مضامین ،بیان وخطبات کو اپلوڈ کریں نہیں تو آنے والی نسل یہ بھی بھول جاۓگی کہ ہم مسلمان ہیں اور بھارت کے رہائشی ہیں۔

*وطن کی فکر کا ناداں مصیبت آنے والی ہے،*

 *تیری بربادیوں مشورے  ہیں آسمانوں میں،*


محمد فیروز عالم

 صوبائی سیکریٹری

 بہار اسٹیٹ اردو ٹیچر س اسوسی ایشن

رابطہ 9507077753/9110927549

alamfiroz13890@gmail.com

امارت شرعیہ کی تعلیمی تحریک وقت کی اہم ضرورت احمدحسین قاسمی

 امارت شرعیہ کی تعلیمی تحریک وقت کی اہم ضرورت
احمدحسین قاسمی

 (معاون ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ)

امارت شرعیہ بہاراڈیشہ وجھارکھنڈ وطن عزیز کے مسلمانوں کے لئے اللہ کی بڑی نعمت ہے، اس کی انسانی وملی خدمات کا دائرہ کافی وسیع ہے ،سوسالوں سے مسلسل اس نے خدمت خلق کے ساتھ تمام شعبہ حیات میں اپنی بساط سے بڑھ کر ملت کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیاہے، اورمشکل سے مشکل حالات میں بھی پوری ہمت وجرأت سے سفینہ ملت کی ناخدائی کی ہے، پچھلے چند برسوں سے ملک کا سیاسی دھارا ایک خاص سمت میں بہہ رہاہے جس سے ملک کی اقلیت خاص کر مسلمانوں کی تعلیم وتہذیب ،زبان وثقافت اورملی تشخص وامتیاز کو خطرات لاحق ہیں، حال کا آئینہ مستقبل کی تصویر دکھارہاہے،ایسے میں ضروری ہے کہ وقت سے پہلے اپنے آشیانے کی حفاظت کے لئے ممکنہ تدابیراختیارکی جائیں اور سب سے بڑے سرمایہ اپنی نئی نسل کی تعلیم وتربیت کی دل وجان سے فکر کی جائے تاکہ آنے والے ہرطوفان کا مقابلہ کرنا اس کے لئے آسان ہو اوروہ مشکل وقت میں بھی اخلاق وکردارکےساتھ زندگی کی راہیں نکالنے کی پوزیشن میں ہو، چنانچہ امارت شرعیہ نے اپنے دیگر شعبوں کے ساتھ شعبہ تعلیم بھی قائم کیاجس کے ذریعہ شروع دن سے ہی تعلیم کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کیا، اوردینی وعصری دونوں تعلیم کے میدانوں میں ملک وملت کی مضبوطی کے ساتھ رہنمائی کی ہے، مکاتب دینیہ کی تحریک سے لے کر مدارس اسلامیہ اورعصری تعلیمی اداروں کے قیام تک اس نےقابل تقلید کوشش کی اورماضی تاحال ان  کوششوں کےنتیجہ میں ہزاروں تعلیم کی شمعیں روشن ہوئیں جن سے اہل نظر باخبر ہیں،اسی کے پیش نظر مفکراسلام حضرت مولانا محمد ولی رحمانی زیدمجدہم امیر شریعت بہاراڈیشہ وجھارکھنڈ کی خصوصی ہدایت پر امارت شرعیہ نے بنیادی دینی تعلیم کی فکر،معیاری عصری تعلیمی اداروں کے قیام اورتحفظ اردوزبان کےعنوان سے متعلقہ تین ریاستوں بہاراڈیشہ وجھارکھنڈ میں پرزور تحریک شروع کی ہے، یہ تحریک گرچہ امارت شرعیہ کے کاموں کا پہلے سے ہی اہم حصہ رہی ہے تاہم ترجیحی بنیاد پر کرنے کے کاموں میں اسے مقدم رکھاگیاہے،تاکہ پوری ملت اس جانب متوجہ ہو۔ باضابطہ اسے مہم اورتحریک کی شکل دے کر تینوں ریاستوں میں بالترتیب ”ہفتہ برائے ترغیب تعلیم وتحفظ اردو“ منایاجارہاہے،پہلے مرحلہ میں ریاست بہار کے تمام اضلاع میں یکم فروری تا سات فروری ہرضلع ہیڈ کواٹرمیں خواص اوراہل فکر ونظر حضرات پر مشتمل ایک مشاورتی اجلاس منعقد ہوگا، جس میں ان مذکورہ موضوعات پر بسط وتفصیل کے ساتھ تبادلہخیال ہوگا،پھر ان مقاصد کو آبادی میں روبہ عمل لانے کے لئے طریقہ کار پیش کئے جائیں گے۔ اس تحریک کی پہلی کڑی”بنیادی دینی تعلیم کی فکر“ہے، جوفرد سے لے کر جماعت اورگھر سے لے کر ریاست تک مسلم معاشرہ کے لئے پہلی اینٹ کا درجہ رکھتی ہے، ہمارے سینوں میں جودین توحیدکی امانت ہے، اسے آنے والی نسل کے دلوں تک منتقل کرنا تمام فرائض پر مقدم ہے،اگر اس میں ہم نے ذرہ برابر کوتاہی  برتی توہم اپنی نسل اوراولاد کے حق میں سب سے بڑے مجرم ہوں گے، ان کے دیگر سارے حقوق کی ادائیگی کی بہ نسبت یہ حق تعلیم ہرلحاظ سے بڑھاہوا ہے، اس لئے کہ ہم انہیں دنیا کی تمام دولت بھی دیدیں اوردین کی بنیادی تعلیم وتربیت سے محروم رکھیں تواس کے بغیر وہ ساری دولت کسی کام کی نہیں،پھر ہمارے اوردوسروں کے درمیان کوئی خط امتیازباقی نہیں رہ جاتا،ہمارا یقین ہے کہ اس دنیا کی سب سے عظیم دولت ایمان واسلام کی دولت ہے، اس کےباوجوداگر ہم نے اپنی اولاد کوان کی ابتدائی عمر میں ہی دینی تعلیم وتربیت کے سانچے میں نہیں ڈھالا تویادرکھیں ہم اپنے بعد اپنے گھروں میں اہل ایمان کی جماعت نہیں بلکہ غیرشعوری طورپر ایک باغی اوردین بیزار گروہ کو چھوڑکر جارہے ہیں،ملک کی موجودہ صورت حال سے ہرکوئی واقف ہے ،اورملک کی برسراقتدار حکومت کی منشاءبھی بالکل واضح ہے، تہذیبوں کی کشمکش اوراختلاط حق وباطل کے اس پُرخطردور میں اپنے دینی تشخص وامتیاز کی بقاءاوراسلامی اخلاقی کردار کا تحفظ مزید مشکل ہوتاجارہاہے، ملت کے دردمند اورمخلصین حضرات ا سے بخوبی محسوس کررہے ہیں، گذشتہ چند سالوں سے نئی نسلوں میں جو بے راہ روی اوردین سے دوری پیدا ہوئی ہے، بڑے بڑے دیندار گھرانے بھی اس طوفان سے محفوظ نہیں رہ سکے، حال کے آئینہ میں اگر مستقبل کی تصویر دیکھنے کی کوشش کی جائے توکلیجہ منہ کوآتاہے، چند دہائیوں پہلے کسی قدر مسلم آبادیوں میں مکتب کا نظام قائم تھا اوراس نظام کو متاثرکرنے والے دوسرے نظام تعلیم کا پھیلاﺅ بھی اس طرح نہیں تھا، جس سے وہ قدیم دینی تربیتی نظام کمزور ہوتامگر جب سے عصری تعلیم کا دائرہ وسیع ہوااوراس نےہرچہارجانب زور پکڑا تو مسلمانوں کے لئےبےتوجہی کےسبب دونوں تعلیم کے حصول میں راہ اعتدال اختیارکرنا دشوار ہوگیا اورجس کانتیجہ انتہائی افسوسناک ظاہر ہوااورمسلمان”نہ خداہی ملانہ وصال صنم“ کے مصداق ٹھہرے ،رواں وقت میں مسلمانوں کے لئے سب سے بڑا چیلنج اپنی نسل کے دین وایمان کا تحفظ ہے، اگرآج ان نونہالان امت کے ذہن ودل پر دین اسلام کی صداقت وحقانیت کے نقوش بٹھادئے گئے اورانہیں تعلیمات اسلام کے سانچے میں ڈھال دیا گیا توآنے والے بے دینی کے سخت سے سخت طوفان بھی ان کے دل ودماغ کو میلا نہیں کرسکتے،ظاہرہےعمر کے ابتدائی نقوش واثرات دیر پا ثابت ہوتے ہیں،مشکل ترین حالات میں بھی وہ باوقاراسلامی زندگی گذار سکتے ہیں،اوراگراس کے برعکس حالت رہی تواسپین واندولس کی تاریخ عبرت کے لئے ہمارے سامنے ہے۔امارت شرعیہ حالات کی اسی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے ترجیحی بنیادپرنسل نو کی دینی تعلیم وتربیت کی فکر لے کر اٹھی ہے،جو بلاشبہ وقت کا سب سے حساس موضوع  اورنازک مسئلہ ہے، یہ وہ کام ہے جسے ہم بآسانی کرسکتے ہیں، اوراس میں کسی جانب سے مداخلت بھی نہیں ، خاموشی سے اگر اس کام کو کرنے میں ہم کامیاب رہے تو یاد رکھیں آنے والے حالات ہماری نسلوں کا بال بیکا نہیں کرسکتے،حالات ان پر نہیں بلکہ یہ خودحالات پر اثر انداز ہوں گے،اللہ کا ہزار شکرہےکہ اس ملک کی ہرآبادی میں علماءکرام بکھرے موتی کی طرح نظرآتے ہیں جودر حقیقت مدارس اور منبرومحراب کی زینت ہیں جن کی فکروتوجہ سےیہ کام آسانی سےانجام پاسکتاہے اس کے لئے ضروری ہے کہ تمام مسلم آبادیوں میں مسجدوں کو مرکز بنایا جائےاور ہرمسجد کے تحت مکتب کا خود کفیل نظام قائم کیاجائے،ائمہ مساجد کی تنخواہوں میں حسب خواہ اضافہ کیاجائے, ان کی ان خدمات پرشایان شان اکرام کیاجائے اوراس آبادی کے سارے مسلم بچے بچیوں کی دینی تعلیم وتربیت کی ذمہ داری انہیں سونپی جائے،علاقے کے مرکزی مدارس بھی اس کام کو اپنی شاخوں کی حیثیت سے بحسن وخوبی انجام دے سکتے ہیں اور اس جہت میں بعض مرکزی مدارس نے قابل قدر پیش رفت بھی کی ہے اس لحاظ سے ملت پر ان کا بڑااحسان ہے۔ہر محلہ کے ذمہ داران،باشعور افراد،مسجد کے متولیان واراکین پر یہ فرض عائد ہوتاہے کہ اجتماعی کاموں میں اسے سب سے مقدم رکھیں اوراپنےذاتی کاموں کی طرح اس دینی کام کواہم جانتے ہوئے پورے احساس ذمہ داری کے ساتھ انجام دیں،ان مکاتب میں فقط نورانی قاعدہ، قرآن پاک، اوراردو کا نصاب نہ ہو بلکہ ایک ایساجامع اورمختصر نصا ب ہوجس میں عقائد،معاملات،معاشرت اوراخلاقیات کے بنیادی اوراہم مضامین شامل ہوں،جس سے بچوں کی ہمہ جہت دینی وفکری تربیت ہوسکے،اس تحریک سے امارت شرعیہ کی یہی فکرمقصود ہے۔اس کےلئے امارت شرعیہ کادینیاتی نصاب بھی ایک جامع اور بہترین نصاب ہے۔ امیدہے کہ  ضلعی سطح پرمنعقدہونےوالے  مشاورتی اجلاس میں شرکاءاور ملت کے خواص حضرات اس خاکہ میں رنگ بھرنے کی عملی کوشش فرمائیں گے۔

اس تحریک کی دوسری اہم کڑی ”معیاری عصری تعلیمی اداروں کاقیام“ہے،یہ بھی کرنے کے اہم کاموں میں ہے،حالات شدید اس کاتقاضہ کرررہے ہیں، ملک کی تعلیمی پالیسی آزادی کے بعد اب تک جس سمت میں جارہی ہے اس سے پڑھا لکھاہر شخص اچھی طرح واقف ہے، خاص کر نئی قومی تعلیمی پالیسی 2020کے خدوخال سے جو واضح ہورہاہے،اس سے صاف ظاہر ہے کہ اہل اقتدار کی منشاءپس پردہ بہت کچھ ہے، اس پس منظر کے ساتھ یہ بھی ایک سچائی ہے کہ ہمارے ہاتھوں سے قوم وملت کی ترقی اور آنے والی نسل کے مستقبل کے لئے جو ادارے قائم ہوسکتے تھے وہ نہیں ہوسکے، ماضی بعید میں ہمارے آباءواجداد نے مشکل حالات میں ملک وملت کو شاندار اورزندگی بخش ادارے عطاکئے تھے مگرماضی قریب میں یہ سلسلہ رک گیا،حالاں کہ ایک زندہ قوم کی نشانی ہے کہ زیادہ سے زیادہ  اس کے اپنے معیاری تعلیمی ادارے ہوں،جہاں سے وہ اپنے دین ومذہب کے مطابق اعلیٰ اخلاق وکردار کے حامل باصلاحیت  افراد تیار کرسکے اور ملک وقوم کی خدمت کے کام ان سے لے سکے،یہ شرم اورعار کی بات ہے کہ نسلیں توہماری ہوں مگر ان کی تعلیم وتربیت کے لئے ادارے کوئی اورتعمیر کرے،اس جانب مسلمانوں کی واقعتا جو توجہ ہونی چاہئے تھی وہ نہیں ہوسکی۔جس امت کے مذہب کا پہلا لفظ ”اقرأ“ ہو وہ تعلیم کے میدان میں دوسری قوموں کی تعلیم گاہوں کی محتاج ہوکر رہ جائے یہ اسے ہرگز زیب نہیں دیتا،یہ ایک حقیقت ہے کہ اہل مغرب جس وقت تاریکیوں میں زندگی بسر کررہے تھے ،مسلم قوم دینی تعلیم کے ساتھ سائنس اورٹکنالوجی کے میدان میں عروج پر تھی،جس قوم کی لکھی ہوئی سائنسی کتابیں صدیوں یورپ کی تعلیم گاہوں میں شامل نصاب رہیں آج وہ قوم اپنی تعلیم ضرورت پوری کرنے سے قاصر ہے، یہ مقام افسوس نہیں بلکہ مقام عبرت ہے،امارت شرعیہ اپنے آغاز ہی سے اس جانب بھی مسلسل ملت کی رہنمائی کرتی رہی ہے،اس میدان میں اس نے مختلف مقامات پر سی بی ایس ای کے طرز پر ”امارت پبلک اسکول“ کے برانڈ نیم کے ساتھ چھ معیاری اسکول،سات ٹیکنیکل آئی ٹی آئی،کمپیوٹر انسٹی ٹیوٹ اورپارامیڈیکل قائم کئے ہیں، اس کا منصوبہ ہے کہ ہرضلع میں کم از کم نمونہ کے طورپر اسلامی ماحول میں ایک معیاری اسکول قائم کرے، جس میں دینیات کی تعلیم بھی لازمی ہو،اسی طرح مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کےلئےہرآبادی میں پچےاوربچیوں کے علٰیحدہ علیٰحدہ کوچنگ سینٹرزبھی ہوں جووقت کی ایک اہم ضرورت ہے۔حضرت امیر شریعت مدظلہ کی اس جانب خاص توجہ ہے اورمسلسل اس کی فکر فرمارہے ہیں، ظاہر ہے کہ امارت شرعیہ کے اوربھی دوسرے اہم شعبے ہیں جن کی جانب ادارے کو توجہ دینی ہوتی ہے،البتہ ملت کے اہل حیثیت اوراصحاب نظرکے سامنے تعلیم کے میدان میں ان چنداداروں کے ذریعہ نمونہ فراہم کرتی ہے تاکہ اس جانب باصلاحیت افراد توجہ دے کر ملت کی تعلیمی ضرورت کی تکمیل کے لئے آگے آئیں۔ہرآبادی میں اسلامی ماحول کےساتھ پرائمری درجہ کا اسکول تو بآسانی قائم کیاجاسکتاہے ،ضرورت اس بات کی ہے کہ پوری حوصلے اورمنصوبہ بندی کے ساتھ اس جانب پہل کیاجائے، اس تحریک کے ذریعہ امیدہے کہ ہرضلع میں تعلیمی اداروں کے قیام کی منظم کوشش کی جائے گی۔

اس تحریک کی تیسری قابل توجہ کڑی ہماری مادری زبان اردوکا تحفظ ہے،جو مسلسل اس ملک میں آزادی کے بعد سوتیلاپن کا شکار رہی ہے،تقسیم ملک کی بجلی نے اس کے خرمن کو بھی جھلسانے کا کام کیا،کون نہیں جانتاہے کہ اس زبان نے آزادی کے نغمے اورترانے گاکر سوئے ہوئے دلوں کو آزادی کی حرارت بخشی اوراس ملک عزیز کے جیالوں میں آزادی وطن کی روح پھونکی ہے، مگر افسوس کہ آج اسے صرف ایک مذہب سے جوڑ کر تعصب کی نگاہوں سے دیکھاجارہاہے اورریاستی سطح سے ملکی سطح تک اس کی حق تلفی کی جارہی ہے جو بالقصدقومی تعلیمی پالیسی میں سہ لسانی فارمولہ کی نذر کردی گئی،دوسری زبانوں کے تذکرہ کے ساتھ اس زبان کا تذکرہ نہیں کرنا دراصل اسے زندہ درگور کرنے کے برابر ہے،دوسری جانب ریاست بہار میں بھی نصاب سے اس کی لازمیت کو ختم کر دینا دراصل اس کی جڑکاٹ دینے کے مترادف ہے،ویسے بھی ہمارے بچے اس کی جانب کم توجہ دیتے تھے اب لازمیت کے ختم ہونے اوراختیاری درجے کی زبان ہونے کے بعد کتنی توجہ دیں گے وہ ظاہر ہے،دنیا کا اصول ہے کہ جو چیزیں ضروری ہوتی ہیں ضرورت تصور کی جاتی ہیں، ورنہ ناقابل توجہ بن کر اپنا وجود کھو بیٹھتی ہیں، آج ہمیں اپنی نسل کو یہ بتانا ہوگاکہ یہ فقط ایک زبان نہیں بلکہ اس ملک میں یہ ہمارے دین ومذہب کا حصہ ہے،ہم اسے جانے بغیر اپنا دین نہیں جان  سکتے اورنہ ہی اپنی تہذیب سمجھ سکتے ہیں، لہذا اس کے بول چال کےفروغ کے ساتھ اس کے لکھنے پڑھنے کوبھی اپنے گھروں میں رواج دینا ہمارا ملی فریضہ ہے،اس کے لئے ضروری ہے کہ گھروں میں اردو اخبارات لئے جائیں اوردینی کتابیں برائے مطالعہ رکھی جائیں،اردو میڈیم اسکول جواسی زبان کے عنوان پر قائم کئے گئے ہیں علاقہ کے بااثر حضرات اس کے اردو کردار کی جانب توجہ دیں،جن پرائیویٹ اسکولوں میں اس زبان کی تعلیم نہ ہو وہاں اپنے بچوں کے داخلے سے گریز کیاجائے،نیز سرکاری دفاتر میں اسی زبان میں درخواست دینے کی کوشش کی جائے۔

ریاست کے سرکاری محکموں میں اسی غرض سے باضابطہ اردو مترجمین کی بحالی کی گئی مگراردو میں درخواستیں نہیں آنے کی وجہ سے اس کا مصرف بدل دیاگیا، کم از کم اس کے تحفظ کے لئے ہم اپنے کرنے کے کام کریں توبہت حدتک اس کا فروغ ممکن ہے۔یہ ایک عظیم قومی وملی سرمایہ ہےاس کی حفاظت ہم سب پر فرض ہے ،انہیں فکروں کو لے کر امارت شرعیہ نے یہ تحریک چلانے کا فیصلہ کیا،ملت کے باشعورافراد سے توقع کی جاتی ہے کہ اس تحریک کے دست وبازو بن کران مقاصد کو زمین پر اتارنے میں اپنا مخلصانہ کردار پیش کریں گے۔ بقول شاعر مشرق علامہ اقبال:

ابھی سے فکرکرناداں مصیبت آنے والی ہے۔

تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں۔

Wednesday, 20 January 2021

تعلیمی انقلاب کے لیے امارت شرعیہ کا جامع منصوبہ یکم تا ۸ فروری ترغیب تعلیم و تحفظ اردو کی تحریک چلانے کا فیصلہ

 تعلیمی انقلاب کے لیے امارت شرعیہ کا جامع منصوبہ
یکم تا ۸ فروری ترغیب تعلیم و تحفظ اردو کی تحریک چلانے کا فیصلہ!

امارت شرعیہ نے ہمیشہ ابتدائی دنوں سےہی تعلیم کانظام قائم کرنے کی ترغیب دی،اس کے لئے ضروری اقدامات کئے ہیں،تاکہ اس ملک میں ہماری نسلیں دین وایمان پر قائم رہ سکیں، اس کے لئے امارت شرعیہ نے جس طرح مدرسے اورعصری تعلیمی ادارے قائم کئے اسی طرح دیہی علاقوں میں دینی مکاتب کا خودکفیل نظام بھی سیکڑوں جگہوں پرچلارہی ہے،مستقبل میں بھی امارت شرعیہ اس رخ پر مضبوطی سے کام کرنے کا ارادہ رکھتی ہے،اس وقت جب کہ نئی نسل تیزی سے بے راہ روی ودین بیزاری کی شکارہورہی ہے اورحکومت بھی نئی قومی تعلیمی پالیسی کے ذریعہ ایک خاص نظریہ کو پورے ملک پر تھوپنا چاہتی ہے ،اوراس پالیسی کے ذریعہ مدارس کے نظام تعلیم کو ختم یا کمزورکرنے کی کوشش کی ہے،حضرت امیرشریعت مولاناسید محمدولی رحمانی دامت برکاتہم کی واضح رائے ہے کہ پورے ملک میں مکاتب دینیہ کے جال بچھائے جائیں،کوئی گاﺅں اورمسلم محلہ ایساباقی نہ رہے جس میں مکتب کانظام نہ ہو، اس کے ساتھ ملک میں عزت ووقار کے ساتھ جینے کے لئے ضروری ہے کہ عصری تعلیم کے لئے بڑی تعداد میں اسکول کھولے جائیں جس میں ہمارے بچے اوربچیاں عصری تعلیم حاصل کریں،اسی طرح ان کے لئے اعلیٰ مقابلہ جاتی امتحان میں کامیاب ہونے کے لئے ماہراساتذہ کی نگرانی میں کوچنگ سنٹر بھی قائم کئے جائیں۔ آج جب کہ نئی قومی تعلیمی پالیسی کو ملک میں متعارف کرایاجارہاہے،ایسے میں ایک ایسی تعلیمی تحریک شروع کی جائے جو پورے مسلم معاشرہ میں تعلیمی انقلاب برپا کردے اور ایک ایسا سماج تشکیل پائے، جس کا ہرفرد علم کے ساتھ اچھے اخلاق و اعمال سے آراستہ ہو اورکوئی فرد ناخواندہ اوردینی بنیادی تعلیم سے بے بہرہ نہ رہے ،امارت شرعیہ نے امیر شریعت مفکر اسلام حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی صاحب دامت برکاتہم کے حکم پر اور ان کی ہدایت کے مطابق چھوٹے بچوں کی ابتدائی تعلیم کے لئے خودکفیل مکتب اوراسکول قائم کرنے کاجامع منشور پیش کیا ہے۔جس کے ذریعہ شہرودیہات،بڑی اورچھوٹی آبادی ہرایسی جگہ جہاں مسلمان بستے ہوں وہاں اپنا دینی تعلیمی نظام قائم کرسکتے ہیں۔یہ باتیں امارت شرعیہ کے قائم مقام ناظم مولانا محمد شبلی القاسمی صاحب نے اپنے بیان میں کہیں ۔

انہوں نے بتایا کہ امارت شرعیہ نے ان مقاصد کے لئے بہار ، اڈیشہ و جھارکھنڈمیں" ترغیب تعلیم و تحفظ اردو" کی تحریک شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، پہلے مرحلہ میں ریاست بہارمیں یکم تا ۸ فروری کو بہار کے تمام اضلاع میں” ہفتہ برائے ترغیب تعلیم و تحفظ اردو“ کے تحت پروگرام ہوں گے ، جس میں علماءکرام، ائمہ مساجد، دانشوران ، سماجی وسیاسی کارکنان ، دینی و ملی فکر رکھنے والے حضرات ، تعلیم سے دلچسپی رکھنے والے اور تعلیم کے میدان میں کام کر رہے اہم لوگوں کی شرکت ہوگی ۔ان پروگراموں میں جہاں دینی بنیادی تعلیم کے مکاتب قائم کرنے پر توجہ دلائی جائے گی ، وہیں معیاری اسکول ، عصری تعلیمی اداروں اور مقابلہ جاتی امتحانات کی کم خرچ میں بہتر تیاری کرانے والے کوچنگ سنٹروں کے قیام پر بھی اہل فکروعلم اور مخیر حضرات کوتیارکیا جائے گا ۔ ساتھ ہی اردو زبان کے تحفظ کی بھی مہم چلائی جائے گی ۔ یہ سبھی پروگرام اضلاع کے ہیڈ کوارٹر میں منعقد ہوں گے ، پروگراموں کا شیڈول اس طرح ہے ۔

مورخہ یکم فروری2021 کو پورنیہ،بھاگل پور، کھگڑیا، سمستی پور، نالندہ اور بھوج پورکے ہیڈ کوارٹر میں نشست ہو گی ۔ مورخہ 2 فروری 2021 کو کٹیہار، بانکا، بیگو سرائے،دربھنگہ،بکسر اور مشرقی چمپارن کے ہیڈ کوارٹر میں پروگرام ہوں گے ، جب کہ 3 فروری 2021 کی نشست کشن گنج، لکھی سرائے، مدھوبنی، گیا، کیموراور شیوہر ضلع کے ہیڈ کوارٹر میں ہو گی 4 فروری2021 کو ارریہ، سہرسہ، جموئی، اورنگ آباد،روہتاس اور سیتا مڑھی میں پروگرام ہوں گے ،6 فروری کی نشست کے لیے سوپول، شیخ پورہ، ارول،سیوان ، گوپال گنج اور ویشالی ضلع کو طے کیا گیا ہے 7 فروری کو مدھے پورہ، مونگیر، جہان آباد، سارن اور مغربی چمپارن کے ہیڈ کوارٹر میں نشست منعقد ہوگی ۔ اس ترغیبی ہفتہ کے آخری دن8 فروری2021ء کونوادہ میں پروگرام منعقد ہو گا۔ 

قائم مقام ناظم صاحب نے امارت شرعیہ کے ارباب حل و عقد، ارکان شوریٰ و عاملہ، ضلع و بلاک کے صدر وسکریٹری ، فعال و سرگرم نقبائ، دینی وملی کاموں اورتعلیمی تحریک سے دلچسپی رکھنے والے سرگرم افراد، سیاسی و سماجی شخصیات، علماءکرام ، ائمہ مساجد ، دانشوران اور تعلیمی ادارہ چلانے والے ذمہ دار افراد سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے اپنے ضلع کی نشست میں ضرور شرکت کریں اور امارت شرعیہ کی اس ترغیبی تحریک کو کامیاب و با مقصد بنانے میں اپنے قیمتوں مشوروں سے نوازیں ۔ اور امارت شرعیہ کی اس آواز کو ہر گھر تک پہونچانے میں اپنا بیش قیمتی تعاون پیش کریں ۔

मैं तेजस्वी यादव बोल रहा हूं डीएम साहब : हड़बड़ा गये पटना के जिलाधिकारी, तेजस्वी बोले- ईको पार्क में धरने पर बैठूंगा

 *मैं तेजस्वी यादव बोल रहा हूं डीएम साहब : हड़बड़ा गये पटना के जिलाधिकारी, तेजस्वी बोले- ईको पार्क में धरने पर बैठूंगा*

*PATNA* : पटना के जिलाधिकारी चंद्रशेखर सिंह ने आज आम आदमी की तरह ही फोन पर नेता प्रतिपक्ष तेजस्वी यादव को हड़का दिया. हालांकि वे समझ नहीं पाये थे कि उनकी बात किससे हो रही है. फिर सैकड़ों लोगों के बीच खड़े तेजस्वी यादव को जोर देकर बताना पड़ा कि वे कौन बोल रहे हैं. उसके बाद हडबड़ाये डीएम को अहसास हुआ कि उन्होंने गलत तेवर में बात कर दिया.

*शिक्षक नियोजन पर हाईवोल्टेज ड्रामा*

दरअसल शिक्षक बहाली में देरी के खिलाफ राज्य भर के अभ्यर्थी आंदोलन पर हैं. उन्होंने पटना के गर्दनीबाग में धरना देना शुरू किया था. लेकिन मंगलवार की शाम पुलिस ने उन्हें वहां से खदेड़ दिया. आज यानि बुधवार को अभ्यर्थी फिर से गर्दनीबाग धरनास्थल पर पहुंचे तो एक बार फिर पुलिस ने उन्हें खदेड़ दिया. पुलिस से बचकर भागे सैकड़ो शिक्षक अभ्यर्थी पटना के ईको पार्क पहुंच गये. इसके बाद उन्होंने अपने साथ हुए वाकये की खबर नेता प्रतिपक्ष तेजस्वी यादव को दी.

*ईको पार्क पहुंच गये तेजस्वी*

शिक्षक अभ्यर्थियों के ईको पार्क में पहुंचने की खबर मिलने के बाद तेजस्वी यादव वहां पहुंचे. उन्होंने आंदोलनकारियों को संबोधित करना शुरू कर दिया. तेजस्वी ने राज्य सरकार पर तानाशाही का आरोप लगाते हुए कहा कि लोकतंत्र में शांतिपूर्ण प्रदर्शन का अधिकार मिला है लेकिन नीतीश सरकार लाठी-गोली चलवा रही है. तेजस्वी ने कहा कि शिक्षक अभ्यर्थियों और नियोजित शिक्षकों को इसका दंड दिया जा रहा है कि उन लोगों ने आरजेडी को वोट दिया था.

*चीफ सेक्रेट्री साहब-हम भी धरना पर बैठ जायेंगे*

शिक्षक अभ्यर्थियों के बीच से ही तेजस्वी यादव ने सूबे के मुख्य सचिव दीपक कुमार को फोन लगाया. लाउडस्पीकर ऑन था और तेजस्वी मुख्य सचिव से बात कर रहे थे. तेजस्वी ने कहा कि लोकतांत्रिक तरीके से प्रदर्शन करना किसी का भी अधिकार है. लेकिन शिक्षक अभ्यर्थियों पर लाठी-गोली चलायी जा रही है. नेता प्रतिपक्ष ने मुख्य सचिव को कहा कि या तो आंदोलनकारियों को शांतिपूर्ण तरीके से धरना देने की इजाजत दी जाये वर्ना वे भी ईको पार्क में ही धरना पर बैठ जायेंगे.

ऐसे हडबड़ाये पटना के डीएम

शिक्षक अभ्यर्थियों के बीच से ही तेजस्वी ने पटना के डीएम को फोन लगाया. उन्हें भी आंदोलनकारियों के साथ हुए वाकये की पूरी जानकारी दी और कहा कि उनलोगों को धरना देने की इजाजत दी जानी चाहिये. लेकिन पटना के डीएम ये सही से समझ नहीं पाये कि उनकी बात किससे हो रही है. तेजस्वी ने उनसे कहा कि वे धरना देने का आवेदन उनके व्हाट्सएप पर भिजवा रहे हैं वे धरना की अनुमति दे दें. डीएम साहब रौब में बोले-अरे पहले भेजिये न तब देखेंगे. सैकड़ों लोगों के बीच लाउडस्पीकर ऑन कर मोबाइल पर हो रही बातचीत के दौरान डीएम के तेवर देख कर तेजस्वी भी हैरान रह गये. डीएम के तेवर देख उन्हें जोर देकर ये बोलना पड़ा कि वे तेजस्वी यादव बोल रहे हैं. तब जाकर पटना डीएम हडबड़ाये. तेवर डाउन हुआ और फिर बोले-जी सर, भेजिये न देख लेते हैं.

तेजस्वी यादव ने डीजीपी से भी बात कर आंदोलनकारियों के साथ हुए पुलिसिया जुल्म पर नाराजगी जतायी. उन्हें डीजीपी को भी कहा कि वे आंदोलनकारियों को धरना देने की इजाजत दिलवायें.

Sunday, 17 January 2021

خاندانی تنازعہ کا شکار جامعہ مدنیہ کا وجود خطرے میں

 خاندانی تنازعہ کا شکار جامعہ مدنیہ کا وجود خطرے میں 


سیماب اختر 

9199112324 

کسی بھی تعلیمی ادارے کی بنیاد اس لیے ڈالی جاتی ہے کہ وہاں علمی تشنگی بجھائ جائے ایسے محدث پیدا ہوں جو قوم و ملت کی اصلاح کر سکیں لیکن جب آپسی خاندانی کی وجہ سے برتری کی جنگ چھڑ جائے تو افسوس ہوتا ہے کہ جو لوگ آپسی اتحاد و اتفاق کا درس دیتے ہیں وہ کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟ بات ہو رہی ہے راجدھانی پٹنہ کے مشہور و معروف دینی تعلیمی ادارے جامعہ مدنیہ سبل پور پٹنہ کی، 1989 میں اس کا قیام عمل میں آیاتھا،اور 1990میں حضرت مولانامحمدقاسم صاحبؒ نے تعلیم کا آغازوافتتاح کیا ،بانی جامعہ،اساتذہ ،ومنتظمین جامعہ کی محنت وکوشش سے جامعہ آج ایک تحریک کی شکل میں ملک وقوم کے لئے اپنی خدمات بدستور انجام دے رہاہے،قیام کے اولِ دن سے طلبہ اپنی علمی تشنگی بھجا رہے ہیں سینکڑوں افراد ایسے ہیں جنہیں یہاں سے تعلیم کا شرف حاصل ہوا ہے اور وہ آج پورے ملک ہی نہیں بلکہ پورے عالم میں لوگوں کی علمی تشنگی بھجا رہے ہیں،

جامعہ مدنیہ سبل ہور پٹنہ ان دنوں بحرانی دور سے گزر رہا ہے۔اس ادارے کی بدنصیبی یہ ہے کہ اس ادارہ میں کبھی بھی کسی بھی وقت پولس داخل ہو سکتی ہے ۔ ایسا اس لیے ہو سکتا ہے کیونکہ  اس ادارہ کے نۓ مہتمم حافظ حارث بناۓ گۓ ہیں جو بانی جامعہ حضرت مولانا قاسم مرحوم کے فرزند ارجمند ہیں اور ان پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ ان کے پاس نہ تو علم ہے اور نہ ہی عمل، اور شاید یہ الزام ان کے ناتجربہ کار ہونے کی وجہ سے لگ رہا ہے ۔ادارہ کے کچھ لوگوں نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حافظ حارث نہ تو مہتمم کے لائق ہیں اور نہ ہی ناظم کے عہدے کے لائق، بلکہ  وہ تو استاذ کے لائق بھی نہیں ہیں ۔ جامعہ کے ٹرسٹ کو حافظ حارث اپنے والد کی وراثت کی دلیل بناتے ہوئے ناظم کے عہدے پر فائز ہونے کی کوشش کی اور اپنے چچا مولانا ناظم پر بدعنوانی کے الزامات کی جھری لگادی پھر یہ ساری باتیں اور سارا جھگڑا عوام الناس سے ہوتے ہوئے پولس تک پہنچ گیا اور پھر معروف دینی و تعلیمی درس گاہ جامعہ مدنیہ سبل پور کے پرنسپل مولانا محمد ناظم کو ندی پولیس نے گرفتار کر لیا ۔ جامعہ مدنیہ کے پرنسپل محمد ناظم پر تقریباً 41 لاکھ روپے کے غبن کا الزام ہے۔ گرفتار  محمد ناظم جامعہ کے بانی مرحوم مولانا قاسم کے حقیقی بھائی ہیں، اس مدرسے کو چلانے کے لیے مدنی ایجوکیشنل ٹرسٹ تشکیل دیا گیا تھا

ندی تھانہ کے پولیس انچارج  نے بتایا تھا کہ 'محمد ناظم کی گرفتاری ہو گئی ہے، اس معاملے میں تین دیگر نامزد ملزم فرار ہیں جن کی گرفتاری ہونی تھی، تھانہ صدر کے مطابق اب تک اس معاملے میں 24 لاکھ کے غبن کا انکشاف ہوا ہے۔

ٹرسٹ کے سکریٹری و خزانچی بلال الدین نے رواں برس 22 جون کو مولانا ناظم کے علاوہ ان کے ایک اور بھائی محمد سالم کے خلاف مقدمہ درج کرایا تھا، سبھی ملزمین بھاگلپور کے گوراڈیہ تھانے کے کوروڈیہ گاؤں کے رہنے والے ہیں۔

محمد بلال الدین کے مطابق 'ان تمام ملزمین نے مدنی ایجوکیشنل ٹرسٹ کی جگہ الگ سے جعلی جامعہ مدنی ایجوکیشنل ٹرسٹ تشکیل دیا ہے، اس ٹرسٹ کے نام پر ایک رسید بھی چھاپ دی گئی ہے۔ اس کے بعد فنڈ اکٹھا کرنا شروع کردیا گیا ۔ بلال کا الزام ہے کہ 'ان افراد نے دھوکہ دہی اور جعلسازی کا ارتکاب کیا ہے

مہتمم بنانے کے لیئے اور مولانا ناظم کو ناظم کے عہدے سے ہٹانے کے لئے نہ جانے کتنا جوکھم اٹھانا پڑا  اس کا ذکر اس وقت بیجا ہوگا۔مولانا ناظم کے جاننے والوں نے یہ الزام عائد کیا کہ ٹرسٹ کے  ذمہ داروں نے جس میں بلال چائے پتی والے پیش پیش ہیں، حافظ حارث کو آلہ کار بناکر ان کے ذریعہ ان کے دو چچا مولانا محمد ناظم، مولانا محمد سالم  اور ان کے بہنوئی مولانا مرغوب عالم  کے خلاف بدعنوانی کا مقدمہ دائر کروایا۔ مقدمہ  عدالت میں زیر غور ہے۔ اس لیئے بدعنوانی کے سلسلے میں قبل از وقت کچھ بھی کہنا اچھی بات نہیں ہوگی۔ مولانا ناظم مولانا سالم اور مولانا مرغوب  کو اس بات کی اطلاع تھی کہ ان پر مقدمہ ہوچکا ہے باوجود اس کے وہ لوگ مدرسہ کے کاموں میں لگے رہے۔ مگر اچانک کسی طرح مولانا ناظم کی گرفتاری عمل آئ ۔ اس کے بعد مولانا سالم اور مولانا مرغوب کو دربدری کا شکار ہونا پڑا۔ 41 دن جیل میں گذارنے کے بعد اب مولانا ناظم ضمانت پر رہا ہوچکے ہیں۔ اس کے باوجود انہوں نے اب تک جامعہ میں قدم بھی نہیں رکھا ہے اس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟ اس کا خلاصہ ممکن نہیں ہے 

اس پورے معاملے میں مولاناظم اور ان کے رفقاء ایماندار ہیں یا حارث گروپ؟ یہ فیصلہ عدالت کرے گی۔ لیکن  مذکورہ تینوں افراد کی قربانیاں جامعہ مدنیہ سبل پور کے عروج و ارتقاء میں رہی ہیں

مولانا قاسم صاحب نے اپنی حیات میں ہی  مولانا ناظم کو  فراغت کے بعد انہیں جامعہ کا ناظم بنایا اور ان پر بھر پور اعتماد کیا اور ان کو اپنا مشیرکار بنایا۔ اسی طرح مولانا مرغوب کو صدر المدرسین بنایا ۔

مولانا ناظم اس وقت ضمانت پر رہا ہیں اور جامعہ مدنیہ سبل پور سے انہوں نے دوری بنا لی ہے اس بیچ نۓ ناظم حافظ حارث نے کرونا وائرس کی وبا کے بعد تعلیمی نظام کے آغاز کے لیے داخلہ کی کارروائی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا ہے، آپسی تنازعہ کی وجہ سے جامعہ کے وجود پر خطرہ لاحق ہوگیا ہے، اسلاف نے اپنے خون پسینے سے اس ادارہ کو سینچا تھا خدشہ اس بات کا ہے کہ کہیں بد نظر اپنے منصوبے میں کامیاب نہ ہو جائیں اور جامعہ پر قانونی تالا نہ لگ جائے، میری ذاتی رائے ہے کہ اس حساس مسئلے پر راجدھانی کے باشعور، قوم ملت کے غم خوار کو بھی آگے آنا چاہیے اور خاندانی جھگڑے کا حل تلاش کرنے پیش قدمی کرنی چاہئے، اکابر کے خوابوں تعبیر کے تحفظ کیلئے لوگوں کے آگے آنا چاہیے

سالار اردو جناب غلام سرور کی یوم ولادت بہار اسٹیٹ اردو ٹیچر س ایسوسی ایشن کیطرف سے تقریب یوم اردو منانا کا اعلان

  سالار اردو جناب غلام سرور کی یوم ولادت بہار اسٹیٹ اردو ٹیچر س ایسوسی ایشن کیطرف سے تقریب یوم اردو منانا کا اعلان   10جنوری کو منائی جائےگی...