Thursday, 13 August 2020

کلیم الحق اردو معلم

  1.                          
     تلخ حقیقت۔  
                  کاٹ کر زباں میری کہ رہا ہے یہ ظالم

             اب تمہیں اجازت ہے حال دل سنانے کا

       یہ بات ہے ان دنوں کی جب ہمارے ملک میں محبت کی جگہ نفرت دوستی کی جگہ دشمنی آپسی اتحاد و اتفاق کی جگہ نفرت و عداوت اور آپسی ناچکی پنپ رہی تھی،ہر کوءی ایک دوسرے کو غلط نگاہ سے دیکھ رہا تھااور صدیوں سے چلی آرہی بھاءی چارگی اور گنگا جمنی تہذیب کو روندا اور کچلا جارہا تھا۔یعنی ہمارا دیش گوری چمڑی والوں کی غلامی کی زنجیر سے آزاد ہو چکا تھا، اور ہم آزاد ہندوستان میں سانس لے رہے تھے۔

        اچانک پارلیمنٹ کے اندر یہ سوال کھڑا ہوتا ہے کہ کس زبان کو یہاں کی دفتری زبان کا درجہ دیا جاءے آیا ہندی کو یا اردو کو، جبکہ اردو زبان

جو کءی سو سالوں تک اپنی پوری شان وشوکت کے ساتھ یہاں کی دفتری اور لشکری زبان کی حیثیت سے اپنا قبضہ جماءی ہوءی تھی۔ اب اس کا جنازہ نکل رہا تھا اور اسکی جگہ ہندی ہندوستان کی دفتری زبان بنانے کی بات کی جا رہی تھی۔کیونکہ ان کا ماننا تھا کہ اردو والے اپنی حکومت بنام پاکستان بنا چکے ہیں اور یہاں پر ہندی زبان ہی دفتری زبان ہونی چاہیے۔

        کابینہ کے اندر کافی افرا تفری کا ماحول تھا ہر طرف چہل پہل تھا۔ایسا منظر کیوں نہ ہو اس لیے کہ ان کی نگاہ میں اردو والے الگ ملک اور دیش جا چکے تھے۔

        جبکہ سچ یہ تھا کہ اس وقت بھی ہندوستان میں اردو دان کثیر تعداد میں موجود تھے،چاہے وہ مسلم ہو یا غیر مسلم،لیکن ان سب کے باوجود ان میں دو گروہ اور جماعت بن چکی تھی۔ ایک جماعت ہندی کو دفتری زبان بنانے کی حمایت میں تھی ان میں اکثریت ہمارے ہم وطن  غیر مسلم بھاءیوں کی تھی۔ان کا دعویٰ تھا کہ اردو والے اقلیت میں ہیں اور ہم اکثریت میں ہیں۔

          دوسری جماعت اردو کو دفتری زبان کی حیثیت برقرار رکھنے کی مانگ کر رہی تھی ان میں اکثریت مسلم دانشوروں کے علاوہ ہم وطن غیر مسلم بھاءیوں کی بھی تھی۔

         بات آگے بڑھتی چلی گءی نوبت یہاں تک پہنچی کہ کابینہ کے اندر انتخاب کرایے جاییں، جس زبان کے حق میں زیادہ ووٹ ملے گا اس زبان کو یہاں کی دفتری زبان قرار دی جاءےگی۔ہوا ویسا ہی مجلس اراکین کی موجودگی میں کابینہ کے اندر انتخاب کے لیے دو پیٹی  رکھی گئی،ایک اردو دوسری ہندی کی، سارے مجلس اراکین،مجلس شوری اور وزراء نے خفیہ طور پر اپنی اپنی مرضی کے مطابق یکے با دیگر دونوں پیٹی میں ووٹ ڈال دیے، لیکن ایک ووٹ صدر جمہوریہ ہند ڈاکٹر راجندر پرساد کا باقی تھا۔

        اب ووٹوں کی گنتی شروع ہوئی حسن اتفاق اردو اور ہندی  دونوں زبانوں کو برابر برابر ووٹ ملے، اب فیصلہ اور دشوار کن ہو چکاتھا۔اب صرف صدرِ جمہوریہ ہند ڈاکٹر راجندر پرساد کا ایک ووٹ پر ہندوستان کی دفتری زبان کی قسمت لکھی جانے والی تھی،ہوا وہی جو ہونا چاہیے تھا

2 comments:

سالار اردو جناب غلام سرور کی یوم ولادت بہار اسٹیٹ اردو ٹیچر س ایسوسی ایشن کیطرف سے تقریب یوم اردو منانا کا اعلان

  سالار اردو جناب غلام سرور کی یوم ولادت بہار اسٹیٹ اردو ٹیچر س ایسوسی ایشن کیطرف سے تقریب یوم اردو منانا کا اعلان   10جنوری کو منائی جائےگی...