ڈاکٹر اندوری موجودہ زمانہ کے شعراء میں ممتاز مقام رکھتے تھے
ملنے کو نہیں نایاب ہے ہم۔۔۔۔۔یوں تو اس دنیا میں بےشمار لوگ قدم رنجہ ہوتے ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے داغ مفارقت دے جاتے ہیں لیکن ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو تاریخ کے اوراق پر انمٹ نقوش نقوش چھوڑ جاتے ہیں جن کی یادوں سے دل کا آنگن ہمیشہ مہکتا رہتا ہے ان ہی میں سے ایک نام تھا جناب ڈاکٹر راحت اندوری کا
ڈاکٹر راحت اندوری صاحب موجودہ زمانے کے شعراء میں ایک ممتاز مقام رکھتے تھے وہ مشاعروں میں کثرت سے شرکت کیا کرتے تھے جس کی وجہ سے ہر خاص وعام ان سے واقف تھا مشاعروں میں ان کی موجودگی کامیابی کی ضمانت ہوتی تھی بلکہ مشاعروں کی دنیا کے لئے وہ سکہ رائج الوقت تھے راحت صاحب میرے پسندیدہ شعراء میں سے ایک تھے میں نے پہلی مرتبہ زمانے طالب علمی میں لکھنو میں ان کو مشاعرہ پڑھتے ہوے سنا تھا راحت صاحب کی وفات سے اردو ادب کی دنیا میں ایک ایسی خلا واقع ہوئی ہے جو پر نہیں ہوسکتی راحت صاحب کی شاعری حسن وعشق محبت وسرمستی سوزو گداز سے عبارت ہے ان کے نظریات خیالات طرز ادا اور طرزفکر میں اس قدر ہم آہنگی ہے کہ سامع بےخود ہونے اور بے قابو ہونے پر مجبور ہو جاتا ہے ملا حظہ ہو
تیری ہر بات محبت میں گوارا کرکے
دل کے بازار میں بیٹھیں ہیں خسارا کرکے
منتظر ہوں کہ ستاروں کو ذرا آنکھ لگے
چاند کو چھت پے بلالوں گا اشارا کرکے
راحت صاحب کی شاعری نے گرتوں کو سنبھالا ہے جو حوصلہ شکن ہوتے تھے ان کی شاعری ان میں روح پھوکتی تھی ان کے دلوں کو تحریک ملتی تھی راحت صاحب نے جو کچھ بھی اپنی نگاہوں سے دیکھا اپنی شاعری میں ڈھال لیا وہ علامہ اقبال کا شعر نقش ہے سب ناتمام خون جگر کے بغیر کا مکمل مصداق تھے انھوں نے حاکم وقت سے آنکھ میں آنکھ ڈال کر باتیں کیں 2002 کے گجرات فساد میں مسلمانوں پر ٹرین کے ڈبوں میں آگ لگانے کا جب الزام صریح عائد کیا گیا تو راحت صحب نے حکومت کو للکارتے ہوے کہاتھا
جن کامسلک ہو روشنی کا سفر
وہ چراغوں کو کیوں بجھائیں گے
اپنے مردے بھی جوجلاتے نہیں
زندہ لوگوں کو کیا جلائیں گے
انھوں نے صافیوں اور قلم کاروں سے بھی اپیل کرتے ہوے کہا
قلم والوں سیاسی ظلم کی روداد لکھ دینا
قیامت جب بھی لکھنا ہو احمداباد لکھ دینا
راحت صاحب کو زبان پر قدرت اور طبیعت میں روانی ہونے کی وجہ سے جس موضوع پر انھوں نے قلم اٹھایا اس کا حق ادا کردیا ان کی شاعری میں اعلی اخلاقی قدروں کے نقوش جابجا بکھرے ہوے ہیں راحت صاحب نے اپنی شاعری کے ذریعہ سوتی ہوئی قوم کو جگانے کی کوشش کی
سمندروں کے سفر میں ہو چلاتا ہے
جہاز خود نہیں چلتے خدا چلاتا ہے
یہ لوگ پاؤں سے نیں ذہن سے اپاہج ہیں
ادھر چلیں گے جدھر رہنما چلاتا ہے
راحت صاحب نے اپنی گراں قدر شاعری کے ذریعہ اردو شاعری کو وزن اور وقار عطا کیا ہے وہ اپنے مخصوص لب ولہجہ کی بنیاد پر اپنے دوستوں پر فائق نظر آتے ہیں انکا انداز تخاطب بے زبردست ہوتا ہے ملاحظہ ہو
یاروں کے بھی دانت بہت زہریلے ہیں
ہم کوبھی سانپوں کا منتر آتا ہے
سوکھ چکا ہوں پھر بھی میرے ساحل پر
پانی پینے روز سمندر آتا ہے
راحت صاحب موت سے ڈرتے نہیں یے بلکہ زندگی کے نشیب وفراز سے اللہ پر توکل کرکے بحسن خوبی گذر جاتے ہیں ان کا عزم اتنا بلند ہے کہ پر خطر راہیں بھی انکا راستہ نہیں روک سکتیں وہ جانتے ہیں کہ جنگ جیتنے کے لئے صرف تعداد کی کثرت ضروری نہیں ہے بلکہ خدا پر یقین کامل اور ہمت کی بلندی اشد ضروری ہے
راہ میں خطرے بھی ہے پر ٹھہرتا کون ہے
موت کل آتی ہے آج آجائے ڈرتا کون ہے
تیرے لشکر کے مقابل مینن اکیلا ہوں
فیصلہ میدان میں ہوگا کہ مرتا کون ہے
الغرض راحت صاحب اپنی شاعری کے ذریعہ ہمیشہ ہمارے دلوں میں رہیں گے اللہ ان کی مغفرت فرمائے
از قلم ندیم صدیقی ندوی

ماشااللہ بہت خوب
ReplyDeleteماشاءاللہ
ReplyDeleteشکریہ
ReplyDelete