مولانا ولی رحمانی نے پھر سے بابری کو آزاد کرانے یقین دہانی کرائی
مسجد پر قبضہ کر بت خانہ کے افتتاح کے وقت کفار مشرکین کے جشن کے دوران لیڈرشپ کی جانب سے ایسا دلیر بیانیہ اچھا لگتاہے، لیکن اب صرف بیان بازی سے کام چلنے والے نہیں ہے یقینا ہمیں لائحہ عمل تیار کرنے کی اشد ضرورت ہے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سیکریٹری مولانا ولی رحمانی صاحب کا یہ موقف واقعی بے لاگ اور جراتمندانہ ہے، جس صراحت کے ساتھ انہوں نے بھارت کے مسلم لیڈرشپ بورڈ کے عہدے پر رہتے ہوئے بابری مسجد بازیابی کے لیے ترکی کی آیاصوفیا کی مثال سے یاددہانی کرائی ہے اور سپریم کورٹ کے فیصلے کو انصاف کو شرمسار کرنے والا کہا ہے یہ جرات سلامت رہے، مولانا رحمانی صاحب کو اپنے امور میں جس بےخوفی کے لیے میں جانتاہوں، ظالموں کے خلاف اس صراحت سے مجھے ان کی وہی جھلک نظر آئی، اب جبکہ بابری کی جگہ مندر بنانے کے لیے جس طرح ہر ہندو ہندوتوا میں متحد ہوکر شرکیہ زہر اگل رہا ہے تو مسلمانوں کی لیڈرشپ پرسنل لا بورڈ جس میں ملت کی اکثر نمائندہ تنظیمیں شریک ہیں اس کی طرف سے ایسے ہی متحدہ موقف کی ضرروت ہے، اس موقف کو عربی انگریزی زبانوں میں شائع کرنا چاہیے، محترم مولانا ولی رحمانی نے ملت کے متحدہ پلیٹ فارم کے منصبِ قیادت سے اپنا فرض ادا کیا ہے،
No comments:
Post a Comment