ہندوستان کی آزادی میں مسلمانوں کی کردار تعمیر بشر اردو معلم۔چنپٹیا
ہندوستان کی جنگِ آزادی میں مسلمانوں کا کردار تاریخِ ہند میں سنہرے باب کی حیثیت رکھتا ہے ۔یہ باب مسلمانوں کی جذبہء حب ا لوطنی ،جوش و ولولہ ، عزم و ہمت، بہادری و پامردی، ایثار و قربانی کی لافانی و ناقابلِ فراموش داستان ہے ۔
تقریباً ایک صدی تک چلنے والی تحریکِ آزادی میں مسلمانانِ ہند نے بے مثال اور لازوال کردار ادا کیا اور وطنِ عزیز کو غاضب انگریزوں کے پنجہء ظلم اور باشندگانِ ہند کی گردنوں کو طوقِ غلامی سے آزاد کروانے کے لئے اپنی جان و مال ،عزت و آبرو کی وہ عظیم قربانیاں پیش کیں جن کا تذکرہ کئے بغیر تاریخِ ہند نامکمل ہے ۔
سرزمینِ ہند کو مسلمانوں نے اپنے خون سے سینچا ہے ۔ مسلمانوں نے گلشنِ ہند کی اپنے لہو سے آبیاری کی ہے اور یہ لہو اتنا زیادہ ہے کہ اس زمیں کے ذرّے ذرّے سے ہمارا لہو مہکتا ہے ، ہماری قربانیوں نے اس ملک کی آن بچائی ہے ،ہماری محبت نے اس گلشن کی شان بڑھائی ہے ۔ ہمارے اسلاف نے اس ملک کی آزادی کے لئے تحریکیں چلائیں ، قیدوبند کی صعوبتوں کو برداشت کیا ، کمالِ جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے تختہء دار پر چڑھ کر بخوشی پھانسی کے پھندے کو گلے سے لگایا، لاکھوں جانوں کا نذرانہ پیش کیا تب کہیں جا کر اس ملک کو انگریزوں کے پنجہء غلامی سے آزادی ملی اور یہ ملک آزاد ہوا ۔لیکن افسوس۔
"جب پڑا وقت گلستاں پہ تو خوں ہم نے دیا
جب بہار آئی تو کہتے ہیں تیرا کام نہیں "
جن مسلمانوں نے آزادی کے لئے سرگرم اور قائدانہ رول ادا کیا تھا اُنہی مسلمانوں کے ساتھ آزادی کے بعد سوتیلا سلوک کیا جانے لگا۔ ہماری قربانیوں کو فراموش کر دیا گیا ، جب بھی جنگِ آزادی کی بات ہوتی ہے تو دو چار مسلمانوں کا ذکرِ محض کر کے خانہ پُری کر دی جاتی ہے اور اُن لاکھوں مسلمانوں کا ذکر تک نہیں کیا جاتا جنہوں نے اس ملک کی آزادی کے لئے اپنی جانوں کی قربانی دی۔ مٹھی بھر فرقہ پرستوں کا وہ ٹولہ جس نے جنگِ آزادی میں حصّہ لینا تو درکنار ، انگریزوں سے عہدِ وفا نبھاتے ہوئے مجاہدینِ آزادی اور وطن سے بدترین غدّاری کا ارتکاب کیا ، وہی غدّار ٹولہ آج برسرِ اقتدار ہے اور مسلمانوں سے حب الوطنی کا ثبوت مانگ رہا ہے ۔تاریخ کو یک طرفہ،فرقہ وارانہ اور غیر منصفانہ انداز میں دوبارہ لکھنے کی مہم چلائ جارہی ہے اور مسلمانانِ ہند کو غدّار وطن لکھنے اور ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ ان حالات میں ہمیں خود بھی اپنی تاریخ سے واقف ہونے اور برادرانِ وطن کو بھی اپنی تاریخ سے واقف کروانے کی ضرورت ہے ۔ آئیے مختصراً نظر ڈالتے ہیں جنگِ آزادی میں مسلمانانِ ہند کے کردار پر ۔
انگریزوں کے خلاف پہلی ،باقاعدہ اور منظّم جنگ سن 1754 میں بنگال کے نواب علی وردی خان نے لڑی اور انگریزوں کو شکست دی اس جنگ کو پہلی منظّم اور مسلّح جنگِ آزادی قرار دیا جاتا ہے ۔ علی وردی خان کے بعد اُن کے نواسے نواب سراج الدولہ نے سن 1757 میں پلاسی اور 1764 میں بکسر کے مقام پر انگریزوں سے لوہا لیا ۔ اور انگریزوں سے لڑتے ہوئے وطن کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا ۔
فرزند فتح علی ٹیپو نے انگریزوں کو ناکوں چنے چبوا دیئے. سن 1782 سے1799 تک ان باپ بیٹوں نے انگریزوں سے چار جنگیں کیں ۔ شہید ٹیپو کا یہ جملہ ” شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہوتی ہے ” اس عظیم مجاہد کی بہادری کی آج بھی یاد دلاتا ہے ۔ جب جنرل ہیرس کو ٹیپو کی شہادت کی خبر ملی تو اس نے یہ الفاظ ادا کئے "آج سے ہندوستان ہمارا ہے ” یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ ٹیپو شہید کو انگریز اپنی راہ کا سب سے بڑا روڑا سمجھتے تھے ۔
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے خانوادے نے انگریزوں کے خلاف جہاد چھیڑ دیا ۔ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی نے 1803 میں انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ دے دیا ۔تحریکِ شہیدین کی قیادت کرتے ہوئے سید احمد شہید اور شاہ اسماعیل شہید نے بالا کوٹ میں اپنے کئی ساتھیوں کے ساتھ لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا ۔
*** 1857 میں مولانا فضلِ حق خیرآبادی نے انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ دے دیا جس پر علمائے دہلی کے دستخط لئے گئے ۔ اس فتویٰ کے آتے ہی علماء اور عوام مل کر میدانِ جنگ میں کود پڑے اور ہزاروں کی تعداد میں اپنا لہو پیش کر کے اس سرزمین کو لالہ و زار کیا ۔
*** 1857 میں شاملی کے محاذ پر حاجی امداد اللہ مہاجر مکی، مولانا قاسم نانوتوی،مولانا رشید احمد گنگوھی ،حافظ ضامن شہید وغیرہ عظیم المرتبت شخصیات نے انگریزوں سے جہاد کیا، اس محاذ پر کئی علماء شہید ہو گئے اور کئی علماء کو انگریزوں نے کالا پانی کی سزا سنائی۔
*** 1857 کی جنگِ آزادی میں جنرل بخت خان، احمداللہ شاہ مدراسی، اور مولوی احمد اللہ شاہ فیض آبادی وغیرہ جیالوں نے سرگرم اور قائدانہ رول ادا کیا ۔ مولوی احمد اللّٰہ شاہ فیض آبادی کو انگریزوں نے اپنا سب سے بڑا دشمن قرار دے کر اُن کے سر پچاس ہزار روپیہ کا انعام رکھا ۔
*** 1857 کی جنگِ آزادی میں علمائے عظیم آباد (پٹنہ) جن میں مولانا عبدالحئی عظیم آبادی ،مولانا عبداللہ عظیم آبادی، وغیرہ ۔علمائے صادق پور(بہار) جن میں مولانا فضل حق خیرآبادی،مولانا جعفر تھانیسری، حاجی امداد اللہ مہاجر مکی وغیرہ، علمائے دیوبند، شاملی،اور فرنگی محلی، جن میں مولانا قاسم نانوتوی اور مولانا رشید احمد گنگوھی وغیرہ شامل ہیں ، نے اور ان جیسے دیگر ہزاروں علماء نے حصہ لے کر وطنِ عزیز کے لئے اپنی جانوں اور مالوں کا نذرانہ پیش کیا اور قیدو بند کی صعوبتوں کو برداشت کیا ۔
*** 1919 میں جمعیت علمائے ہند قائم کی گئی جس کا مقصد انگریزوں کو اس ملک سے بھگانا تھا ۔ اس میں شیخ الہند مولانا محمود الحسن مدنی ،حسین احمد مدنی،عطاء اللہ شاہ بُخاری، ثناء اللہ امرتسری، مولانا محمد علی جوہر، اور مولانا آزاد جیسی عظیم المرتبت شخصیات شامل تھیں۔
1921 میں مولانا حسرت موہانی نے مکمل آزادی کا مطالبہ کیا، یہ وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے مکمل آزادی کا مطالبہ کیا ۔
*** اس کے علاوہ بہادر شاہ ظفر، بیگم حضرت محل، امجدی بیگم ، بیگم عزیزن، مولانا برکت اللہ بھوپالی ،مولانا عبید اللہ سندھی،محمد میاں منصور انصاری،مولانا رحمت اللہ صادق پوری، مولانا مظہر الحق، سیف الدین کچلو،سید سلیمان ندوی،میاں نذیر حسین محدث دہلوی ،علی برادران، یوسف مہرالی،خان عبدالغفار خان، عظیم اللّٰہ خان، مولوی محمد باقر،بدرالدین طیب جی ، شعیب اللّٰہ خان، علامہ شبلی نعمانی، شاعر اسلام ڈاکٹر علامہ اقبال، وغیرہ ہزاروں ، لاکھوں جیالوں نے 1857 کی جنگِ آزادی میں ، شاملی،بالا کوٹ کے محاذ پر ،1913 سے 1920 تک چلنے والی ریشمی رومال تحریک، 1920 کی تحریکِ ترک موالات،1921 کی خلافت تحریک، 1922 کی موپلا بغاوت اور چوری چورا تحریک، 1930 کی تحریکِ سول نافرمانی، 1942 کی ہندوستان چھوڑو تحریک،1946 میں ممبئی میں ہونے والے بحری بیڑے کی بغاوت کی حمایت میں ہونے والے مظاہرے ، اور ایسی کئی تحریکوں میں سرگرم اور قائدانہ رول ادا کیا جس کی پاداش میں ہزاروں مسلمان شہید کئے گئے اور ہزاروں مسلمانوں نے قید و بند کی صعوبتوں کو برداشت کیا اور کالا پانی جیسی غیر انسانی سزائیں بگھتیں۔ مؤرخین کے مطابق جنگِ آزادی میں عام مسلمانوں کے علاوہ صرف شہید علماء کی تعداد 30 ہزار سے 50 ہزار کے قریب ہے۔اتنی بڑی تعداد میں اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر مسلمانوں نے اس ملک کو آزاد کروایا ، لیکن افسوس جنگِ آزادی میں مسلمانوں کی حصہ داری کا تفصیلاً تو کیا اجمالی تذکرہ بھی نہیں کیا جاتا ۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمانوں کی جنگِ آزادی میں حصّہ داری اور قائدانہ رول کو وقتًا فوقتًا یاد کیا جاتا رہے ، کیونکہ یہ مسلمان ہی تھے جنہوں نے انقلاب زندہ باد ، سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے ،انگریزوں بھارت چھوڑو جیسے ولولہ انگیز نعرے دے کر جنگِ آزادی کی شمع روشن کی تھی ، یہ مسلمان ہی تھے جنہوں نے انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ دیا اور میدانِ جنگ میں کود پڑے، یہ مسلمان ہی تھے جنہوں نے مکمل آزادی کا مطالبہ کیا جس کی پاداش میں انہیں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں، یہ مسلمان ہی تھے جنہوں نے اس سرزمین کی عزت بچانے کے لئے کسی بھی قوم اور فرقے سے زیادہ بڑھ چڑھ کر جنگِ آزادی میں حصہ لیا اور اپنے لہو سے اس سرزمین کو لالہ و زار کیا تب کہیں جا کر اس سونے کی چڑیا کو انگریزوں کے طوقِ غلامی سے نجات ملی اور ظلم و جبر و استبداد کی سیاہ اندھیری رات ختم ہو کر اس ملک کو صبح آزادی نصیب ہوئی۔
آج ہماری حب الوطنی پر شک کیا جارہا ہے ، ہمیں غدّار کہہ کر ہم سے وفاداری کے ثبوت مانگے جا رہے ہیں ۔ ہمارے خلاف جھوٹے پروپگینڈے کئے جا رہے ہیں ،لیکن سچ تو یہ ہے کہ۔۔
مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
وہ قرض چکائے ہیں جو واجب بھی نہیں تھے

No comments:
Post a Comment