NPE.قومی تعلیمی۔پالیسی۲۰۲۰ مرکزی حکومت کے ناکام چہرےکوچھپانےکی ناکام کوشش
حکومت ہند نے گزشتہ ماہ کے اختتام پر قومی تعلیمی پالیسی 2020 کا مسودہ تیار کرکے اسکو نافذ کرنے کامکمل انتظام کرلیاہے جو بجاءے قومی تعلیمی پالیسی 1986کے نافذ کیا جاءے گا یہ تعلیم کے باب میں ہمہ گیر ترقیات کے لیے2030کےایجنڈے سے مربوط ہے۔جسکا مقصد ملک میں تعلیمی صورت حال کو بہتر بناکر بھارت کی تصویر کو یکسر بدلنا ہے۔ قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے ابتدائی پیراگراف میں اس بات کا دعوی کیا گیا ہے کہ یہ پالیسی لچک دار ،فعال، مبنی بر علم اور اکیسویں صدی کی ضرورتوں کوملحوظ رکھ کر وضع کی گیءی ہے جس کامقصد اسکول و کالج دونوں سطح پرتعلیم کو زیادہ سے زیادہ جامع ،لچیلی، کثیر النوع بنانا ہے جو اکیسویں صدی کی ضرورتوں کو پورا کرتی ہو ۔ پالیسی میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہیکہ این ای پی کا مقصد طالب علم کے اندر مضمر منفرد صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کا موقع فراہم کرنا ہے ۔
مگر پالیسی کا بغورکاجائزہ لینے کےبعدمعلوم ہوتاہےکہ یہ پالیسی حکومت کے ناکام چہرےکوچھپانے اور عیب پر پردہ ڈالنے کی ایک ناکام کوشش ہے مگر یہ بھی کہنا سچ ہی ہوگا کہ یہ پالیسی مودی بھکتوں کےلیےبھکتی کے "پرساد" سے کم نہیں ۔ عام لوگوں کو اس سےکوءی فایدہ نہی کیونکہ یہ پالیسی حکومت کےہندوتواایجنڈے کی سفارش کرتے نظر آتی ہے اس طرح یہ پہلی بار ہے کہ کسی تعلیمی پالیسی میں مذہبیت کو اتنی اہمیت دی گءی ہو ۔ اور ایک مخصوص نظریہ اور وضع کردہ فکر کے مطابق تعلیم کو ڈھالا گیا ہو جہاں ایک خاص طبقے کی ریت ورواج زبان وانداز اور تہذیب و تمدن کو باقی پر غالب کرنے کوشش کی گءی ایک مخصوص فکر کولوگوں پرتھوپا گیا ہو۔ مرکز کی مودی حکومت نے اس پالیسی کے ذریعے زندگی کے ہر شعبے کی طرح تعلیم پر بھی حکومت کی بالادستی کو قایم کرنے کی کوشش کی ہے قومی پالیسی کے اندر ملک کہ پسماندہ طبقات کی "ان دیکھی" کی گءی ہے غریبوں بے روزگاروں کی تعلیم کی فکر نہ کر کے کارپوریٹ طبقے کے لوگوں کو خوش کرنے کی کوشش کی گءی ہے۔
درجہ ایک سےلے کر تین تک کو آنگن واڑی کیندر کو سونپ دیا گیا ہےانگن واڑی اور اس میں خدمت انجام دے رہی سیوکاوں کاجوحال ہےاس سےہرشخص واقف ہے جنہیں کءی ماہ کی تنخواہ کےبغیربچوں کوپڑھاناپڑتاہے تو وہی بھوک سے پریشان آنگن واڑی سیوکاوں کو ہڑتال و دھرنا پر بھی بیٹھنا ہوتا ہے اور اس پر مزید یہ کہ یہ ادارے سہولیات سے محروم ہیں۔آنگن واڑی کیندروں میں معصوم غریب بچوں کو تعلیم کے نام پر عمر کی بربادی کےسوا اور کیا حاصل ہو سکتا ہے؟ این ای پی اس بات کا بھی دعویٰ کرتی ہیکہ اسکول چھوڑ چکےدوکروڑ بچوں کواس پالیسی کے تحت مین اسٹریم سے جوڑا جایے گا مگر یہ واضح نہیں کہ حکومت اس کام کوکیسے انجام دےگی معلوم ہونا چاہیے کہ بچوں کےاسکول سےباہر ہونےکی جہاں بہت ساری وجہیں ہیں وہیں سب سے بڑی وجہ غربت و مفلسی اور بے روزگاری ہے بچےچھوٹے عمر میں اپنے گھر کیکفالت کرنے کیلیے تعلیم چھوڑ کر مزدوری کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں، یا اسکول چھوڑ کر اپنے والدین کےساتھ ہاتھ بٹانے لگتے ہیں، جب انکے والدین کھیتوں پر کام کے لیے جاتے ہیں تو انہیں گھر پہ اپنے چھوٹے بھاءی بہنوں کی دیکھ بھال کرنا ہوتا ہے۔اگر سرکار اسکول سے باہر دو کروڑ بچوں کو اسکول سےجوڑنے کی بات کرتی ہےجس میں غربت و بےروزگاری سے متاثر بچے بھی شامل ہیں تو سرکارکو بے روزگاری اور غربت کے خاتمے کا اعلان کرنا چاہیے ۔موجودہ سرکار کے آتے ہی جس طرح ملک سے روزگار ختم ہوا ہے اور مزدوروں کی جوحالت ابتر ہوءی اسکو ملک اور پوری دنیا نے بخوبی دیکھا ایسی صورت حال کے ہوتے ہویے قومی پالیسی میں دو کروڑ بچوں کو اسکول سے جوڑنے کی بات لوگوں کو گمراہ کرنےکے سوا اور کیا ہو سکتی ہے ؟
قومی تعلیمی پالیسی 2020نصاب کی تبدیلی اور اسباق میں تخفیف کی بھی بات کرتی ہےمگر یہ واضح نہیں کیا گیا ہیکہ کس قسم کی تبدیلی ہوگی اور نصاب میں کس قسم کی تخفیف ہوگی حکومت اس تخفیف و تبدیلی کے بہانے ایک چور دروازہ کھولنا چاہتی ہے جس کے ذریعے اپنے نظریات و افکار کے مطابق تعلیم کو نءی نسل کے ذہنوں میں انڈیلناچاہتی ہے دوسرے لفظوں میں لفظوں میں ہم کہ سکتے ہیں کہ سرکار ہندوتوا آیڈیالوجی پر مبنی اسباق کوشامل نصاب کرنا چاہتی ہے یہی سے یہ واضح ہیکہ حکومت کے پاس ملک کے لیے اب تک کوءی ایجنڈہ نہی ہے اب تک جوکچھ بھی ایجنڈہ کیشکل میں ہم نے دیکھا ہے وہ آر ایس ایس بجرنگ دل اور ہندوتوا کا ایجنڈہ تھا ایک بار پھر انھیں کے ایجنڈوں کو تعلیم کی شکل میں نسل نو کے لیے تیار کرکے کے ان کے افکار کو مفلوج کرنا چاہتی ہے۔
اس سے قبل ساءینس اورآرٹس کا شعبہ علیحدہ تھا بچوں کی پہلی خواہش یہ ہوتی تھی کہ انکا داخلہ ساءینس کےشعبہ میں ہو اس کے لیے بچے محنت کرکے پڑھائی کرتےاور اچھے مارکس آنے پر ساءینس کے شعبہ کا انتخاب کرتےتھے ڈاکٹرس، انجنیرس بننے کا خواب سجائے ساینس کے فیکلٹی میں داخل ہوتے تھے خود میں ایک خوشی کا احساس کرتے تھے مگر این ای پی نے اسکو برابر کر انکی خوشیوں کو بھی برابر کردیا ہے۔
جدید قومی تعلیمی پالیسی کو دیکھنے کے بعد ایک بات اور واضح ہوجاتی ہیکہ اس پالیسی میں پیشہ ورانہ تعلیم کو کافی اہمیت دی گئی ہےاسکی رعایت اسکولی تعلیم کی سے ہی کی گءی ہےجس کےلیے ایک جامع قومی نصاب فریم ورک براءے اسکولی تعلیم (NCESC2020-2021)این سی ای آر ٹی کے ذریعےوضع کیا جائے گا جبکہ اسکے مقابلے میں مورل ایجوکیشن کی بات نہی کی گءی ہے حالانکہ ہندستان جیسی کثیر تہذیبی ورثہ والے ملک میں مورل ایجوکیشن کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
مہاتما گاندھی نے ابتدائی درجات میں مادری زبان میں تعلیم و تدریس کی سفارش کی تھی جس کی مدت 1-8سال تھی اسی کے ساتھ ابتدایی درجات میں سہ لسانی فارمولہ بھی برتا جاتا تھا ہم نے بچپن میں مادری زبان کےساتھ انگریزی و ہندی کے ابتداہی کتابیں بھی پڑھیں ہیں مگراین ای پی علاقائی و مادری زبان سے محبت کے کھوکھلے دعوں کی آڑ میں بچوں کو دیگر زبانوں سے پانچ سالوں تک دور رکھ کر انکی زبان دانی کو مفلوج کرنا چاہتی ہے حیرت کی بات یہ ہیکہ اسی پالیسی کے ذریعے سرکار دبے قدموں سنسکرت زبان کو علاقاءی مادری زبان اور اقلیتوں کی زبان پر فوقیت دےکر بھکتوں کی نظر میں محبوب بھی بن جاءےگی
این ای پی نے احتساب سے متعلق جو پالیسی اختیار کی ہیں اس کی ہم تائید کرتے ہیں کیونکہ اس کے موافق مجموعی احتساب سے درگزر کر کےباقاعدہ اور سلسلہ وار تخلیقی احتساب پر زور دیا گیا ہےاین ای پی نےمعذور بچوں کے تعلیم کے لیے جو پالیسیاں ختیار کی ہے اسکی اہمیت سے انکار نہی کیا جاسکتا مگر شرط ہیکہ اسکو پورا کیا جاءے اس سے قبل بھی معذور بچوں کے لیے تعلیم میں خاص اہتمام و انتظام تھا مگر نتیجہ صفر ہے پالیسی میں دعوی کیا گیا ہیکہ معذور بچوں کوں بنیادی سطح سے اعلیٰ تعلیم کے مراحل تک ریگولر اسکولنگ کے عمل میں شامل کرنے کے لیے اقدامات کیے جاسکیں گے اس کے لیے مراکز ، رہائش گاہیں ،امدادی آلات،معقول ٹکنالوجی پر مبنی آلات اور دیگر انتظامی میکانزم اس انداز سےوضع کیا جاءے گا جو انکی ضروریات کہ عین مطابق ہو۔
این ای پی بڑے پیمانے پر اساتذہ کی بحالء اور اس میں شفاف عمل کو اختیار کرنے کی بات کرتی ہے یہ حکومت کا دہرا کردار ہے کیونکہ ایک طرف اس حکومت نے یوپی میں ہزاروں شفاف طور پر بحال اساتذہ کو روزگار سے دور کردیا اس پر مزید یہ کہ ہزاروں لوگ ٹیٹ اسٹیٹ اگزام پاس کرکے اساتذہ بننے کا خواب دیکھ رہے ہیں مگر ابھی تک بحالی نہی ہوءی جو بحال ہیں وقت پر تنخواہیں نہیملنے کے وجہ سے انکے بچے پریشانی کے شکار ہیں ایسے وقت حکومت کی پالیسی کا اساتذہ کے بارے میں خواب دکھانا یہ انکھ میں دھول جھونکنے کہ برابر ہے اگر حکومت تعلیم کی صورتحال کو درست کرنا چاہتی ہے تو اسے ٹیٹ و اسٹیٹ کامیاب افراد کو جلد بحال کرناچاہئے اور جو بحال ہیں انھیں وقت پر تنخواہیں دینی چاہیے اس ضمن میں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ یہی وہ سرکا ہے جس نے بہار کے اساتذہ کو مساوی کاممساوی تنخواہ کے معاملہ کو ہمیشہ ٹالتی رہی یہاں تک کہ پٹنہ ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد بھی اساتذہ سے ہمدردی نہی ہوءی اور سپریم کورٹ تک اساتذہ کو اپنے حقوق کی لڑائی لڑنی پڑی اسلیے یہ بالکل صاف ہیکہ اساتذہ کے معاملے میں قومی تعلیمی پالیسی 2020 کی سفارشیں عوام کو گمراہ کرنے کے علاوہ کچھ بھی نہی! این ای پی 2020میں گریجویٹ کی تعلیم کو تین یا چارسال کرنے کی بات کی گءی ہے جس میں نکاسی کے کءی متبادل ہوں گے اور اس مدت کے اندر موزوں سرٹیفیکیشن ہوسکتا ہے مثال کے طور پر ہر ایک سال کے بعد سرٹیفیکٹ دو سال کے بعد ایڈوانس تین سال کے بعد بیچلر ڈگری چار سال کے بعد تحقیق والا بیچلر ڈگری جس سے ایک کورس کو پورا کرنے میں چار سال کا وقفہ لگے گا اور ہمارے یہاں کی یونیورسٹیاں کس قدر بیک سیشن چلاتی ہیں اسکو دیکھتے ہوئے آپ اندازہ کر سکتے ہیں ایک کورس کو پورا کرنے میں کتنی مدت لگ سکتی ہے اور اب بیچلرس کے لیے چار سال اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ غریبوں ضرورت مند دیہی علاقے میں رہنے والے بچے جوکم مدت میں کورس پورا کرنا چاہیں گے کس قدر مشکلات کا سامنا کریں گے وہ درمیان تعلیم پڑھائی چھوڑنے پر مجبور ہوں گے تو وہی کارپوریٹ گھرانوں کے بچوں کے لیے یونیورسٹیاں ایک باغ کی طرح ہوگی جس میں مدتوں سیر کریں گے
واضح ہو کہ این ای پی میں اداروں کے ملحق کرنے اور کالجوں کی منظور کرنے میں محکمہ کی مداخلت کو ضروری بنانے کی راہ نکالی گءی ہے تاکہ سرکار جو چاہے جس طرح چاہے اداروں کو استعمال کرسکے مذکورہ بالا نکات کو دیکھتے ہوءےہم کہ سکتے ہیں این ای پی 2020 ایک ایسی ناکام پالیسی ہے جو سرکار کی ناکامی پر پردہ ڈالنے کے لیے وضع کی گءی جس کی خلاف ہر ہندستانی کو آواز بلند کرنے چاہیے ورنہ مستقبل میں بھارت کے نونہالوں کا مستقبل خطرے پر سکتاہے ۔
۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابوالبرکات شاذ،قاسمی،جگیراہاں،بتیا
(میڈیا انچارج بہار اسٹیٹ اردو ٹیچرس ایسوسی ایشن ضلع مغربی چمپارن بہار )
ای میل abulbarakat57@gmail.com

Afsosnak
ReplyDelete