Sunday, 25 July 2021

امیر شریعت ثالث: حضرت مولانا سید شاہ محمد قمر الدین جعفری زینبی رح

 امیر شریعت ثالث: حضرت مولانا سید شاہ محمد قمر الدین جعفری زینبی رح


مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار،اڈیشہ و جھارکھنڈ


دارالعلوم خانقاہ مجیبیہ پھلواری شریف کے سابق استاذ، خازن بہشت (فارسی) اور اشارات الکتب الی اباحۃ ایصالِ الثواب (اردو)کے مصنف حضرت مولانا سید شاہ محمد قمر الدین جعفری زینبی  بن مولانا سید شاہ بدرالدین قادری  بن مولانا سید شاہ شرف الدین قادری رحمھم اللہ اجمعین امارت شرعیہ بہار اور اڈیشہ کے تیسرے امیر شریعت تھے۔٣/ذیقعدہ ١٣١٢ھ میں خانقاہ مجیبیہ پھلواری شریف میں تولد ہوئے، اور ١٩/جمادی الاخری ١٣٧٦ھ مطابق ٢١/جنوری ١٩٥٧ء کو دنیا سے رخت سفر باندھا، جنازہ کی نماز حضرت مولانا سید شاہ امان اللہ قادری سجادہ نشیں خانقاہ مجیبیہ پھلواری شریف نے پڑھائی اور خانقاہ مجیبیہ کے قبرستان باغ مجیبی میں تدفین عمل میں آئی، پس ماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک صاحب زادہ مولانا سید شاہ عماد الدین قادری رح اور دو صاحب زادیوں کو چھوڑا، ان میں سےایک صاحب زادی، حضرت مولانا سید شاہ عون احمد قادری رح کے نکاح میں تھیں۔

امیر شریعت ثالث نے ابتدا سے متوسطات تک کی کتابیں حضرت مولانا سید شاہ محی الدین قادری جعفری زینبی اور مولانا عبد العزیز امجھری سے پڑھیں، درسیات کی تکمیل مدرسہ حمیدیہ قلعہ گھاٹ دربھنگہ سے کیا، یہاں انہوں نے مولانا عبد المجید صاحب راجوی دربھنگوی اور مولانا مقبول احمد خاں صاحب دربھنگوی کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا،  یہ١٣٣٩ھ کا سال تھا، پہلی دستار بندی مدرسہ حمیدیہ قلعہ گھاٹ دربھنگہ میں ہوئی، اور دوسری خانقاہ مجیبیہ پھلواری شریف میں ، علماء ، مشائخ، صاحب دل  اور اہل نسبت بزرگ دونوں جگہ موجود تھے، تصوف میں تمام سلاسل کی تعلیم وتربیت اپنے والد سید شاہ بدرالدین قادری رح سے پائی اور اس راہ میں کامل ہونے کے بعد اجازت و خلافت بھی انہیں سے ملی، حرمین شریفین کی زیارت اور حج بیت اللہ کی سعادت دوبار نصیب ہوئی، ایک بار ١٣٤٧ھ  اور دوسری بار ١٣٥٣ھ میں  ۔ان دونوں موقعوں سے آپ نے شیوخ حرمین، علماء کرام اور صاحب نسبت بزرگوں سے بھرپور استفادہ کیا، مختلف طرق سے سند حدیث اور مختلف سلاسل میں اجازت بیعت بھی حاصل ہوئی، سید عبداللہ بن محمد غازی نے قصیدہ بردہ کی اجازت مرحمت فرمائی، تاریخ ٢/ذی الحجہ ١٣٥٣ھ کی تھی، سید احمد شریف نوسی  نےسلسلہ قادریہ اور تمام سلاسل و مرویات کا تحریری اجازت نامہ ٩/محرم ١٣٤٨ھ کو آپ کو عطا کیا تھا، مولانا غلام دستگیر نے بھی احادیث کی روایت اور سلاسل کی سند سے سرفراز فر مایا، عرصہ دراز تک دارالعلوم مجیبیہ کے مؤقر استاذ کی حیثیت سے درس وتدریس کےسلسلہ سے وابستہ رہے، بہت سارے طلبہ نے آپ سے کسب فیض کیا۔فیض علمی بھی منتقل کیا اور  فیض روحانی بھی۔

امیر شریعت ثانی کے وصال کے بعد ٧/٦/شعبان ١٣٦٦ھ مطابق ٢٧/٢٦/جون ١٩٤٧ء کو ڈھاکہ موجودہ ضلع مشرقی چمپارن میں امیر شریعت ثالث کی حیثیت سے منتخب ہوئے، انتخاب امیر شریعت کے اس اجلاس کی صدارت مشہور محقق،مؤرخ اور عالم دین مولانا سید محمد میاں صاحب رح نے فرمائی، مجلسِ استقبالیہ کے صدر شیخ التفسیر حضرت مولانا ریاض احمد صاحب سنت پوری تھے۔

اجلاس میں امیر شریعت کے لیے چار نام، مولانا منت اللہ رحمانی، علامہ سید سلیمان ندوی،مولانا قاضی سید نور الحسن، مولانا سید شاہ محمد قمر الدین، مولانا ریاض احمد صاحب سنت پوری اور مولانا عبد الصمد رحمانی نائب امیر شریعت کے اسماء گرامی قدر پیش ہوئے، ان میں  آخر کے دوناموں کا اضافہ مجلسِ استقبالیہ نے کیا تھا؛ گویا کہ امیر شریعت کے لیے چھ نام پیش ہوئے، کوئی جھگڑا انتشار،اورافتراق اس لیے نہیں ہوا کیونکہ ان میں کوئی بھی عہدہ کا طلب گار اور منصب کا خواہش مند نہیں تھا، ان میں سے کسی کے لیے دستخطی مہم نہیں چلائی گئی تھی، دورے نہیں ہوۓ تھے، سوشل میڈیا کا بھی وجود نہیں تھا، سب خالی الذہن تھے، جس کی سمجھ میں جو نام آیا مجلس میں پیش کردیا، ان چھ ناموں میں سے کسی ایک کو منتخب کرنے کے لیے انتخابی اجلاس نے ایک نو(٩) نفری کمیٹی بنائی، جس نے امیر شریعت ثالث کی حیثیت سے مولانا کو منتخب کرلیا، اجلاس کی توثیق کے بعد بیعت سمع و طاعت لی گئی۔

امیر شریعت ثالث رح کو امارت کی خدمت کے لیے زندگی کے دس سال ملے، کمی صرف یہ تھی کہ سابق دونوں امیر شریعت کے دور میں بانی امارت شرعیہ مولانا ابو المحاحسن محمد سجاد رح موجود تھے اور ان کی فکری بصیرت اور عملی تگ و دو سے کام آگے بڑھتا تھا، امیر شریعت ثالث کے دور سے پہلے ہی ان کا سایہ سر سے اٹھ چکا تھا اور ان کی کمی شدت سے محسوس کی جا رہی تھی، اس کے باوجود چوں کہ امیر شریعت ثالث خانقاہ مجیبیہ کے سجادہ نشیں تھے ،اس لیے خلوت گزینی سے وہ آزاد تھے، امارت شرعیہ کے کاموں کو آگے بڑھانے کے لیے وہ بہار اڈیشہ میں دورے کرتے، ان کے رفقاء عالی قدر حضرت مولانا منت اللہ رحمانی، مولانا قاضی سید نور الحسن، مولانا عبد الصمد رحمانی رح سب مولانا ابو المحاحسن محمد سجاد رح کے تربیت یافتہ تھے، امارت شرعیہ میں نووارد نہیں تھے، کام کو سمجھے اور دیکھے ہوئے تھے، اس لیے امیر شریعت ثالث کی قیادت میں اپنے پیش رو دو امراء شریعت کے ذریعہ کئے گئے کاموں کو آگے بڑھانے میں لگے رہے۔

امیر شریعت ثالث کے انتخاب کے صرف ڈیڑھ ماہ کے بعد ملک  صرف آزاد ہی نہیں، تقسیم بھی ہوگیا، پورے ہندوستان میں عموماً اور بہار میں خصوصاً فرقہ وارانہ فسادات شروع ہوۓ، گاؤں کا گاؤں نقل مکانی پر مجبور ہوا، ایک خونی طوفان تھا جو مسلمانوں کو اپنی زدپر لیے  ہوا تھا، ایسے میں امیر شریعت ثالث نے اپنے رفقاء کے مشورے سے ملک کے اقتدار پر متمکن قائدین اور گاندھی جی کو اس صورت حال کی طرف مضبوطی سے متوجہ کیا، یہ آواز سنی گئی اور سرحدی گاندھی خان عبدالغفار خاں اور گاندھی جی کے ساتھ بہت سارے سیاسی حضرات نے بہار کے دورے کئے، گاندھی جی نے تو بہار میں کچھ دنوں کے لیے ڈیرہ بھی ڈال دیا تھا؛ لیکن تب تک بہت کچھ تباہ ہوچکا تھا، امارت شرعیہ نے متأثرین کو وقتی امداد کے ساتھ باز آباد کاری کے کاموں کے کام کو بھی اپنے ذمہ لیا، اور یہ سب امارت شرعیہ نے خدمت خلق اور انسانیت کے جذبہ سے کیا، من و توکی تفریق نہ کرنے کی وجہ سے حالات کو سازگار بنانے میں بڑی مدد ملی، حضرت امیر شریعت نے اپنے رفقاء کے ساتھ دورے کئے، مسلمانوں کو ڈھارس بندھائ، حوصلہ دلایا، خوف کی نفسیات سے نکلنے کی تلقین کی، اس سے مسلمانوں کے قدم جم گئے اور امارت شرعیہ کی جد و جہد سے بہار اور اڈیشہ کے مسلمان اس طوفان بلا خیز سے نکلنے میں کامیاب ہوئے،  امارت شرعیہ کی پکڑ عوامی سطح پر مضبوط ہوئی، لوگوں نے جان لیا کہ امارت شرعیہ ملی،تعلیمی تنظیم کے ساتھ سماجی اور رفاہی کاموں میں دوسری تنظیموں سے کہیں آگے ہے، اللہ تعالیٰ حضرت امیر شریعت ثالث کے درجات بلند کرے اور ملت اسلامیہ کے لیے ان کی خدمات کا  انہیں بہتر اجر عطا فرمائے۔آمین

امیر شریعت رابع: ابوالفضل حضرت مولانا سید شاہ منت اللہ رحمانی رح

امیر شریعت رابع: ابوالفضل حضرت مولانا سید شاہ منت اللہ رحمانی رح


مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ


امیر شریعت رابع امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ ، آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری،جمعیت علمائے بہار کے سابق ناظم،خانقاہ رحمانی مونگیر کے سجادہ نشیں، جامعہ رحمانی مونگیر کے سابق استاذ ،سینکڑوں مدارس اور تعلیمی اداروں کے صدر اور سرپرست، تحفظ شریعت کے مرد میداں، ملی، تعلیمی اور رفاہی کاموں کے سرگرم قائد، ملک اور بیرون ملک میں بے شمار مسلمانوں کے پیر و مرشد ابوالفضل حضرت مولانا سید شاہ منت اللہ رحمانی رح کا وصال رمضان المبارک ١٤١١ھ کی تیسری شب  کوخانقاہ رحمانی مونگیر میں ہوگیا، دوران تراویح ہی دل کا دورہ پڑا، حجرہ میں لے جاۓ گئے اور جان جاں آفریں کے سپرد کردی، سب کچھ منٹوں میں ختم ہو گیا، ١٩/مارچ ١٩٩١ء کی شام شریعت و طریقت کا آفتاب غروب ہوگیا، ٣/رمضان المبارک ١٤١١ھ کو بعد نمازِ مغرب جامعہ رحمانی کے صحن میں ناظم امارت شرعیہ مولانا سید نظام الدین صاحب (جو بعد میں امیر شریعت سادس ہوئے) جنازہ کی نماز پڑھائی اور اپنے نامور والد قطب عالم حضرت مولانا محمد علی مونگیری رح کی قبر کے پہلو میں آسودہ خاک ہوئے،

حضرت امیر شریعت رابع مولانا منت اللہ رحمانی بن قطب عالم مولانا محمد علی مونگیری بن سید عبد العلی بن سید غوث علی بن سید راحت علی بن سید امان علی رحمھم اللہ کی ولادت ٩/جمادی الثانی ١٣٣٢ھ روز منگل خانقاہ رحمانی مونگیر میں ہوئی، سلسلہ نسب حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ سے جاملتا ہے، ابتدائی تعلیم خانقاہ رحمانی میں حاصل کرنے کے بعد حضرت مولانا عبد الصمد رحمانی رح کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا، پھر گیارہ سال کی عمر میں ہی حیدرآباد مولانا عبد اللطیف رحمانی صاحب کی خدمت میں بھیج دئیے گئے، ایک سال ہی میں صرف و نحو، منطق اور دیگر فنون سے خصوصی دلچسپی پیدا ہوگئی، وہاں سے دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ تشریف لے گئے، اور ہدایہ اولین تک کی تعلیم یہیں پائی، طالب علمانہ زندگی کے چار سال یہاں لگاۓ، ١٩٣٠ھ میں دارالعلوم دیوبند میں داخل ہوئے اور یہاں کے نامور اساتذہ حضرت مولانا اعزاز علی صاحب، حضرت علامہ ابراہیم صاحب بلیاوی اور شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی رح سے کسب فیض کیا، آپ کے اساتذہ میں حضرت مولانا حیدر حسن خاں محدث کا نام بھی آتا ہے۔١٩٣٣ء میں دارالعلوم دیوبند سے فراغت ہوئی۔

دارالعلوم ندوۃ العلماء میں طالب علمی کے دوران ہی حضرت مولانا محمد علی مونگیری کا وصال ہوگیا، ظاہر ہے یہ عمر تصوف و سلوک کے کُنہیات سمجھنے کی نہیں تھی، اس لیے تصوف و سلوک کی تربیت بعد میں آپ نے حضرت مونگیری کے خلیفہ حضرت مولانا محمد عارف صاحب سے حاصل کی جو ہرسنگھ پور ضلع دربھنگہ کے رہنے والے تھے، اس راہ میں مرتبہ کمال پر پہونچنے کے بعد مولانا محمد عارف صاحب نے اجازت بیعت و خلافت سے نوازا، ١٩٤٢ء میں جب حضرت مولانا لطف اللہ صاحب نے سفر آخرت اختیار کیا تو حضرت مونگیری کے تمام خلفاء و مریدین نے خانقاہ رحمانی کا سجادہ نشیں  آپ کومقرر کیا  آپ نے مخلوق خدا کی روحانی تربیت  کے ساتھ جامعہ رحمانی کی نشأۃ ثانیہ کا کام کیا، برسوں خود بھی تدریسی کاموں سے منسلک رہے، بعد میں ہجوم کار کی وجہ سے یہ سلسلہ باقی نہ رہ سکا؛ لیکن آپ کی خصوصی توجہ اور طریقہ کار کی وجہ سے جامعہ اور خانقاہ دونوں کی پورے ملک میں ایک شناخت بن گئی،اور اس کا شہرہ ملک و بیرون ملک میں پھیلا۔

 ١٩٣٥ء میں آپ جمعیت علمائے بہار کے ناظم منتخب ہوئے،١٩٣٧ء میں مسلم انڈیپنڈنٹ پارٹی کے ٹکٹ پر رکن اسمبلی منتخب ہوئے، ٢٤/مارچ ١٩٥٧ء کو حضرت مولانا ریاض احمد سنت پوری کی صدارت میں منعقد اجلاس میں آپ امیر شریعت منتخب ہوئے، اس وقت مجلس ارباب حل و عقد کے نام سے کوئی مجلس نہیں تھی، بڑے علماء اس موقع سے مدعو ہوتے تھے اور امیر شریعت کا انتخاب عمل میں آتا تھا، انتخابی اجلاس مدرسہ رحمانیہ سپول دربھنگہ میں ہوا تھا، نہ پولنگ بوتھ بنا تھا اور نہ ہی بیلٹ پیپر کی چھپائی ہوئی تھی، مولانا حفظ الرحمن صاحب ناظم اعلیٰ جمعیت علمائے ہند کی شرکت بحیثیت مشاہد ہوئی  تھی، مجلس میں حضرت مولانا عبد الصمد رحمانی نائب امیر شریعت دوم، مولانا محمد عثمان غنی ناظم امارت شرعیہ، مولانا عبد الرحمن صاحب گودنا(جو پہلے نائب امیر شریعت بعد میں امیر شریعت خامس بنے) قاضی احمد حسین صاحب، مولانا مسعود الرحمن، مولانا محمد عثمان سوپول رحمھم اللہ وغیرہ شریک تھے۔

انتخاب امیر کے بعد شروع کے پانچ سال بڑی آزمائش اور کشمکش کے تھے؛ لیکن جب اللہ کسی سے کام لینا چاہتا ہے تو رفقاء کار بھی اسی انداز کے عطا فرماتا ہے؛ چنانچہ ١٩٦٢ء میں حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی رح جامعہ رحمانی کی معلمی چھوڑ کر امارت شرعیہ آگئے، اور جلد ہی مولانا سید نظام الدین صاحب کو امارت شرعیہ لانے میں کامیاب ہو گئے، حضرت امیر شریعت رابع کی فکر و تحریک کو ان حضرات نے زمین پر اتارنے کا کام کیا اور امارت شرعیہ کا کام پھلینے لگا، امارت شرعیہ کا دفتر خانقاہ مجیبیہ میں تھا، وہاں سے قاضی نورالحسن اسکول کی موجودہ عمارت میں منتقل ہوا، قریب کی ایک اور بلڈنگ خریدی گئی،بڑی جد و جہد کے بعد امارت شرعیہ کے دفتر کی موجودہ اراضی سرکار سے لیز پر لی گئی اور ١٥/نومبر ١٩٨١ء کو اس زمیں پر حضرت امیر شریعت رابع رح نے دفتر امارت شرعیہ کی سنگ بنیاد ڈالی، اس موقع سے آپ نے فرمایا: 

"میں عمر کی اس منزل پر پہنچ چکا ہوں جہاں لوگ نئے منصوبے نہیں بناتے؛لیکن خدا کے فضل اور پورے ملک میں پھیلے ہوئے مخلصین پر اعتماد کرتے ہوئے یہ نیا کام شروع کیا جارہا ہے، قومی اور ملی کاموں کا انحصار افراد پر نہیں ہوتا، میں رہوں یا نہ رہوں اسے پورا کرنے کی ذمہ داری آپ سبھوں کی ہے"۔

جب پارلیمنٹ میں یکساں شہری قانون لاکر مسلم پرسنل لا بورڈ کو کالعدم قرار دینے کا منصوبہ بنایا گیا تو آپ میدان میں نکلے، ٢٨/جولائی ١٩٦٣ء کو  امارت شرعیہ کے زیر اہتمام انجمن اسلامیہ ہال پٹنہ میں ایک کل جماعتی کانفرنس بلائی، جس کی صدارت مفتی عتیق الرحمن عثمانی نے فرمائی، مولانا ابواللیث اصلاحی امیر جماعت اسلامی نے افتتاح فرمایا، کئ سال کی تگ و دو کے بعد ١٤/١٣ /مارچ ١٩٧٢ء کو دارالعلوم دیوبند میں نمائندہ اجتماع ہوا، اور اس کے فیصلہ کی روشنی میں ٢٨/٢٧/ دسمبر ١٩٧٢ء کو ممبئی میں وہ تاریخی اجلاس ہوا، جس میں بورڈ کی تشکیل عمل میں آئی، اپریل ١٩٧٣ء میں حیدرآباد اجلاس میں آپ جنرل سکریٹری منتخب ہوئے اور تادم آخری اس عہدے پر فائز رہے۔آپ نے پورے ہندوستان میں گھوم گھوم کر اعلان کیا:

"میں اس کے لئے تیار ہوں کہ ہماری گردنیں اڑادی جائیں، ہمارے سینے چاک کر دیۓ جائیں، مگر ہمیں یہ برداشت نہیں کہ"مسلم پرسنل لا "کو بدل کر ایک "غیر اسلامی لا" ہم پر لاد دی جائے ہم اس ملک میں باعزت قوم اور مسلم قوم کی حیثیت سے زندہ رہنا چاہتے ہیں۔"

آپ کے وقت میں امارت شرعیہ نے خدمت خلق اور عصری تعلیمی اداروں کے قیام کا فیصلہ کیا، مولانا سجاد ہوسپیٹل اور ام ام یو ہائی اسکول آسنسول اس کام کا نقطۂ آغاز تھا، جو بعد کے امراء کے دور میں پھیلا، حضرت کی خدمات کا دائرہ اس قدر پھیلا ہوا ہے کہ اس پر کئی کتابیں لکھی جاچکی ہیں اور آئندہ لکھی جاتی رہیں گی،واقعہ یہ ہے کہ "دامان  نگہ تنگ و گل حسن تو بسیار"۔

میں اپنے ہی ایک مضمون کے اقتباس پر اس مضمون کا اختتام کرتا ہوں۔

"مولانا دارالعلوم دیوبند کے مسائل کے حل کے لیے کوشاں ہوں یا ندوۃ کی مجلس شوریٰ میں کوئی مسٔلہ زیر بحث ہو، جامعہ رحمانی مونگیر کو عروج و ارتقاء کے مختلف مدارج سے گزارنا ہو یا خانقاہ کی مسند سجادگی ، مسلم پرسنل لا بورڈ کے قیام کی تحریک ہو یا اس کا دور نظامت، شاہ بانو کیس میں نفقہ مطلقہ کے خلاف احتجاج ہو یا ایمرجنسی میں خاندانی منصوبہ بندی کے خلاف تحریر و تقریر، امارت شرعیہ کے امیر شریعت کی حیثیت سے تنفیذ و شریعت اور توسیع دارالقضاء کی جہد مسلسل ہو یا انڈیپنڈنٹ پارٹی کی سیاسی جد و جہد ،قریہ قریہ دعوت دین کا کام  ہویا مدارس کی سرپرستی سب تحفظ شریعت اور دفاع اسلام ہی کے مختلف عنوان ہیں، اور ہر عنوان ایک ضخیم کتاب کا مضمون، اس لیے امیر شریعت سادس حضرت مولانا سید نظام الدین صاحب نوراللہ مرقدہ نے بجا لکھا ہے کہ"ہندوستان میں اسلام کی حفاظت و صیانت کی تاریخ جب بھی لکھی جاۓ گی وہ ان کے ذکر کے بغیر ادھوری اور نامکمل ہوگی، بلکہ میں تو یہاں تک کہنے کو تیار ہوں کہ مولانا کے کالبد خاکی میں جو خون گردش کررہا تھا اور جسم و جان کے رشتے کو برقرار رکھنے کے لیے جو سانس کی آمد و رفت تھی اگر زبان حال کو سننے والے کان ہوتے تو معلوم ہوتا کہ وہ تحفظ شریعت ہی کے لیے وقف تھے"۔

Monday, 21 June 2021

आरा जिला के BEO अभय कुमार को 80 हजार रुपये रिश्वत लेते हुए विजिलेंस के टीम ने रंगेहाथ दबोचा!!

 आरा जिला के  BEO अभय कुमार को 80 हजार रुपये रिश्वत लेते हुए विजिलेंस के टीम ने रंगेहाथ दबोचा!!


इस वक्त एक बड़ी खबर बिहार के आरा से सामने आ रही है. विजिलेंस की टीम ने एक बड़ी कार्रवाई की है. निगरानी विभाग की टीम ने एक घूसखोर बीईओ को रिश्वत लेते हुए रंगेहाथ दबोचा है. गिरफ्तार बीईओ से पूछताछ कर आगे की कार्रवाई की जा रही है.

मामला भोजपुर जिले के पीरो थाना इलाके का है. पीरो के प्रखंड शिक्षा पदाधिकारी अभय कुमार को निगरानी की टीम ने गिरफ्तार किया है. बताया जा रहा है कि प्रखंड शिक्षा पदाधिकारी अभय कुमार को 80 हजार घूस लेते हुए रंगेहाथ दबोचा गया है. विजिलेंस की टीम की ओर से मिली जानकारी के अनुसार एक शख्स ने शिकायत की थी कि बीईओ की ओर से बार-बार उससे रिश्वत की मांग की जा रही है.

मामले की जानकारी मिलने के बाद विजिलेंस की टीम ने फौरन कार्रवाई शुरू की. निगरानी के अधिकारियों ने जाल बिछाया और सोमवार को पीरो के प्रखंड शिक्षा पदाधिकारी अभय कुमार को 80 हजार घूस लेते हुए रंगेहाथ गिरफ्तार कर लिया. बताया जा रहा है कि विजिलेंस की टीम किसी गुप्त स्थान पर गिरफ्तार बीईओ अभय कुमार से पूछताछ कर रही है.


Sunday, 20 June 2021

مادری زبان کے کالم میں ہر حال میں اردوہی درج کرائیں محمد فیروز عالم

 مادری زبان کے کالم  میں ہر حال میں اردوہی درج کرائیں  محمد فیروز عالم،


اردو اساتذہ ائمہ مساجد اور سماجک کارکنان سے اپیل کہ زیادہ سے زیادہ طلباء طالبات کے مضمون میں اردو زبان کو شامل کرائیں 

نئی تعلیمی پالیسی 2020 کے تحت محکمہ تعلیم بہار کا ایک مکتوب جاری ہوا ہے جس میں پوچھا گیا ہے کہ بچے کس زبان میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور انکے بو چال بول چال کی زبان کیا ہے اس سروے رپورٹ کی تیاری میں اردو آبادی کو چوکنا رہنے کی اشد ضرورت ہے

اسی سروے کے مطابق  مستقبل میں اردو عہدے کی آسامیاں شمار ہوں گے 

اس کے علاوہ سنہ ۲۰۲۰ کے نئی تعلیمی پالیسی کے عملی نفاذ کے حوالے سے محکمہ تعلیم سرگرم عمل ہے اس لیے  نئےضابطے کا نفاذ نفاذ بھی ہو رہا ہے اس سلسلے میں محکمہ تعلیم بہار کے جانب سے ضلع کے تمام تعلیمی پروگرام افسران کے نام ایک لیٹر آیا ہے جس میں اردو کے ساتھ ساتھ  دیگر زبانوں کے ذریعے تعلیم پانے والے بچوں کے اعداد و شمار طلب کیے گئے ہیں اس بابت میں بہار اسٹیٹ اردو ٹیچرز ایسوسی ایشن کے صوبائی سیکرٹری و ضلع صدر محمد فیروز عالم نے ریاست بہار کے تمام اردو اساتذہ و محبان اردو کے نام سے یہ پیغام جاری کیا ہے جس میں اس بات کی اطلاع ہے کہ نئے تعلیمی پالیسی 2020 کے عملی نفاذ کے لئے ایس۔سی۔ آر ۔ٹی بہار نے نے ریاست کے تمام ڈی ۔ای۔ او،سے پرائمری، مڈل، سکینڈری وہائر سکینڈری اسکولوں کے طلبہ کے مادری زبان کی فہرست طلب کی گئی ہے لہذا آپ تمام اردو اساتذہ محبان اردو اور سماجی کارکنان کی ذمہ داری ہے کہ اپنی سطح  سے عوام کو بیدار کریں   اور ہورہے سروے  پر نظر رکھیں نیز ائمہ مساجد سے بھی گزارش ہے کہ وہ مسجدوں میں جمعہ کے دن اس سے متعلق اعلانات جاری کرے 

معلوم ہو اس سے پہلے بھی محکمہ تعلیم کے توسط سے ہی رپورٹ مانگی تھی ہمارے عدم توجہ کی وجہ سے  ایسے کئی بلاک ہے جہاں پر اردو پڑھنے والے بچوں کی کی عدد کو زیرو کر کے بھیجا گیا ہے تھا جو کہ ہمارے لئے خسارے کا باعث ہے

Tuesday, 15 June 2021

مقام عبدیت ہی معراج آدمیت ہے

 مقام عبدیت ہی معراج آدمیت ہے


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی


نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڑیشہ وجھار کھنڈ


انسان کے لیے سب سے بڑا مقام، مقام عبدیت ہے، کوئی کتنا ہی بڑا انسان ہو، کسی مقام و منصب پر ہو، اسے اس مقام سے کسی بھی حال میں غافل ہونے کی اجازت نہیں، روۓ زمین پر سب سے افضل انبیاء و رسل ہوتے ہیں؛ لیکن جو کلمہ ہمیں سکھایا گیا، اس میں حضور صلی االلہ علیہ وسلم کے لیے بھی عبدیت کی گواہی کو مقدم اور رسول کی گواہی دینے کو لفظامؤخر کیا گیا،معراج کا واقعہ عروج آدم خاکی کی انتہا ہے؛لیکن جب اللہ ربّ العزت نے اس واقعہ کو قرآن میں بیان کیا تو اپنے محبوب کے لیے عبد کا استعمال کیا، قرآن کریم میں ایک اور جگہ پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو عبد اللہ کہا گیا، اس کا سیدھا اور صاف مطلب یہ ہے کہ انسان کی عظمت اس کی عبدیت ہی میں پوشیدہ ہے،المیہ یہ ہے کہ ہمارے زمانہ میں  مقام عبدیت کی عظمت کا احساس دن بدن کم ہوتا جارہا ہے، اس وقت مجھے ایک طالب علم کا واقعہ یاد آ رہا ہے، جس نے رخصت ہوتے وقت اپنے استاذ سے نصیحت کی درخواست کی، استاذ نے کہا کہ بیٹے سب کچھ کرنا، اللہ رسول بننے کی کوشش نہ کرنا، شاگرد نے تعحب سے کہا: حضرت اتنی مذہبی کتابیں میں نے پڑھی ہیں، اتنے دن آپ کی تربیت میں رہا، یہ بات تو میرے خواب و خیال میں نہیں آسکتی، پھر اس نصیحت کا حاصل کیاہے، میں نے کچھ سمجھا نہیں، استاذ نے کہا کہ اللہ بننے کا مطلب یہ ہے کہ کسی موقع سے اور کسی عہدہ پر پہونچنے کے بعد تمہیں یہ خیال آجاۓ کہ جو کچھ ہوگا میری مرضی سے ہوگا، میرے حکم کے مطابق ہوگا؛ جو اس کے خلاف کرے گا سزا کا مستحق ہوگا، پوری زندگی یہ بات یاد رکھنا کہ جس دن تمہاری فکر اور سوچ کا محور یہ ہوگیا، تم مقام عبدیت سے نکل کر خود کو الوہیت میں داخل کرنے کے مرتکب ہوگئے، کیوں کہ یہ مقام صرف اللہ کا ہے کہ اس کے حکم سے سرمو انحراف نہ کیا جائے اور یہ کہ اس کی مرضی اور مشیت کے بغیر پَتَّہ بھی ہل نہیں سکتا، اور رسول بننے کی خواہش کا مطلب یہ ہے کہ تمہارے دل میں یہ خیال ہو کہ سب مجھے بڑا سمجھیں، میری عظمت کو تسلیم کریں اور مجھ سے عقیدت رکھیں، یہ مقام صرف رسول کا ہے، دنیا میں کوئی کتنا بڑا انسان کیوں نہ ہو خطا اور نسیان سے مرکب ہے، اس اصول سے صرف انبیاء ورسل مستثنیٰ ہیں کیوں کہ اللہ نے ہی انہیں معصوم بنایا ہے، دوسرا طبقہ صحابہ کرام کا ہے جو محفوظ ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں رَضِی اَللّٰہُ عَنْھم وَرَضُوْا عَنْہ کہہ کر بات ختم کردی ہے، ان کے علاوہ جو بھی انسان ہے نہ تو وہ محفوظ ہے اور نہ معصوم، مراتب اور درجات کے اعتبار سے مفادات کے حصول اور تحفظات کی خواہش ہر دل میں پائ جاتی ہے، "اِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبِّی"سواۓاس کہ جس پر میرا رب رحم کی چادر ڈال دے، یہ معاملہ اس قدر بڑھا ہوا ہے کہ لوگ اپنے قد کو اونچا اور دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے روند کر بھی گذر جانے سے گریز نہیں کرتے، اور وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کے قد کی اونچائی میں دوسروں کا بھی بڑا حصہ ہے، ایک لطیفہ مشہور ہے کہ ایک پوتا، دادا کے کاندھے پر چڑھ گیا اور کہنے لگا کہ دادا،دادا ! میں آپ سے اونچا ہوگیا، دادا نے کہا پوتے یہ مت بھولنا کہ میرے قد کی اونچائی بھی تم کو اونچا بنانے میں شامل ہے، بہت لوگ بیساکھی کے سہارے اور پاؤں میں بانس باندھ کر سرکس کے جوکروں کی طرح اونچا بننے کی کوشش کرتے ہیں اور وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ بانس اور بیساکھی کے ہٹتے ہی قد پھر سے بونا ہوجائے گا۔یہ بانس اور بیساکھی عہدے اور منصب کا بھی ہو سکتا ہے، حسب و نسب اور خاندانی وجاہت کا بھی

یقیناً اپنی شخصیت کی تشکیل کا ہر کسی کو حق ہے؛ لیکن جب تشکیل کے اس عمل میں بڑی لکیر کو مٹا کر خود بڑا بننے کی کوشش کی جائے تو یہ فعل مذموم بھی ہے اور قبیح بھی، یہ تو ہوسکتا ہے کہ انسان اپنی صلاحیتوں کو اس قدر پروان چڑھاۓ کہ بڑی سی بڑی لکیر سے وہ آگے نکل جاۓ ،یہ ایک اچھی بات ہے اور فطرت کے عین مطابق بھی۔اس حال میں بھی عبدیت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوٹنا چاہیے 

انسانی زندگی میں بندگی کا جو تصور مطلوب ہے وہ انسان کی زندگی کو بیلنس معتدل اور متوازن رکھتا ہے، یہ صفت ختم ہو گئی تو انسان غیر ضروری خوش فہمی کا شکار ہوکر عجب اور کبر میں مبتلا ہوجاتا ہے، اور یہ وہ صفت ہے جو اللہ کو کسی حال میں پسند نہیں ہے، اللہ ربّ العزت تو کبر کے ساتھ زمین پر چلنے کو بھی پسند نہیں کرتے؛کیوں کہ یہ ایک فضول عمل ہے، اکڑ کر چلنے سے نہ تو انسان زمین کو پھاڑ سکتا ہے اور نہ ہی پہاڑ کی بلندی تک پہونچ سکتا ہے، اسی طرح اللہ نے اعلان کردیا ان لوگوں کے لیے جو بندگی کے دائرے سے نکل کر تکبر کے محل میں داخل ہوگئے ہیں کہ وہ اللہ کو پسند نہیں ہیں، قرآن کریم میں جن  ملعون لوگوں کا ذکر ہوا ہے، خواہ وہ قارون ہو یا فرعون، ہامان ہو یا نمرود، شداد ہو یا ابو لہب سب کی کوشش یہی تھی کہ وہ اپنے کو برتر ثابت کرے، فرعون  نےتو اَنَا رَبُّکُمُ الاَعْلٰی کا اعلان کردیا تھااور شداد نے خدائ مقابلہ کے لیے جنت بھی بنا ڈالی تھی؛ لیکن ایسے متکبرین کا جو حشر ہوا اور جس طرح ذلت کا طوق ان کے گلے میں ڈالا گیا اس سے ہر پڑھا لکھا شخص واقف ہے۔

یہاں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ کبر کبھی کبھی تواضع کے اندر بھی پایا جاتا ہے؛ جب یہ لوگوں کو دکھانے کے لیے کیا جائے، ایسا شخص جسے آپ بہت متواضع اور منکسر المزاج سمجھ رہے تھے وقت آنے پر انتہائی متکبر ثابت ہوتاہے، بے اختیار پروفیسر لطف الرحمن کا یہ شعر نوک قلم پر آگیا۔


عجیب طرزِ انا ہے یہ خاکساری بھی

قریب سے جو دیکھا تو خدا نکلا


دنیا کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ اس دنیا میں جہاں بانی اور ملک گیری کے  جتنےجھگڑے ہوۓ ہیں، ان میں بیش تر مفاد کے حصول اور تحفظات کی غرض سے ہی ہوا کئے ہیں، اور کئ بادشاہوں کی حکومت باپ بھائی کے قتل کی اساس و بنیاد پر قائم ہوئی، آج عرب ملکوں کی اسرائیل اور امریکہ سے قربت، تحفظات کے نقطہ نظر سے ہے اور امریکہ اپنے مفاد کے حصول کے لیے پوری دنیا میں دادا گیری کرتا پھررہاہے، جس کے نتیجے میں پوری دنیا جنگ کا میدان بن گئی، کسی ملک میں سرد جنگ چل رہی ہے اور کسی میں  گرم جنگ، نتیجہ دونوں کا تباہی و بربادی ہی ہے۔

اس لیے اس وقت کرنے کا سب سے بڑا کام یہ ہے کہ انسانوں کو اللہ کی بندگی کی طرف بلایا جائے انہیں بتایا جائے کہ مقام عبدیت کا حصول ہی معراج آدمیت ہے تاکہ وہ من مانی حرکتوں سے باز آۓ، اپنے کو اللہ رسول کے مقام پر رکھنے سے گریز کرے اور اللہ کی حاکمیت کے احساس کے ساتھ زندگی گذاری جاۓ، کام مشورے سے کئے جائیں، ان اعلیٰ اخلاقی اقدار کو زندگی میں داخل کیا جائے جو انسان کو انسان بناتے ہیں اور احساس دلاتے ہیں کہ انسان کوئی بھی مَافَوقَ الْبَشَر نہیں ہے۔

Wednesday, 9 June 2021

ٹول کٹ

                              ٹول کٹ

مفتی محمد ثناء الہدی قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ وجھارکھنڈ


عام طور سے ٹول کٹ سے مراد وہ بکس ہوتا ہے جس میں مشینوں کو ٹھیک کرنے کے لیے اوزار رکھے جاتے ہیں، لیکن گذشتہ پانچ ماہ سے یہ لفظ اب دوسرے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے، جس کی وجہ سے اس پر قانونی سوالات کھڑے کیے جاتے رہے ہیں، ہندوستان میں سب سے پہلے یہ لفظ کسان آندولن میں سنا گیا، جب ماحولیات پر کام کرنے والی ایک خاتون گریٹاتھن پرگ نے کسان اندولن کی حمایت میں لکھا، پھر سماجی خدمت گار بنگلور میں دِشا روی کی گرفتاری ہوئی، تب پتہ چلا کہ سوشل میڈیا پر ٹول کٹ کا مطلب اپنے مخالفین پر تنقید کرنا اور ان کی خامیوں کو طشت ازبام کرنا ہے، بھاجپا کے ترجمان سنپت پاترا نے کانگریس پر مودی سرکار کو بدنام کرنے کے لئے ٹول کٹ استعمال کرنے کا الزام لگا کر اسے سیاسی داؤپیچ کا مرکز بنا دیا ہے، اس طرح اب یہ مختلف قسم کی مارکٹنگ کا کامیاب ذریعہ سمجھا جا رہا ہے، اس کا استعمال بنیادی دستاویز کی فراہمی، تحریک کی فلاسفی استعمال کرنے کے لیے پوسٹر کے نمونے ارسال کرنے نیز ہیش ٹیگ کے ساتھ سوشل میڈیا میں تحریک کے اثرات کا تجزیہ کرنے کے لئے ہو رہاہے، ٹول کٹ میں یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ لوگ اس موضوع پر کیا لکھ سکتے ہیں، کون سے ہیش ٹیگ کا استعمال کرسکتے ہیں، ہیش ٹیگ میں کن لوگوں کوجوڑنے سے کیا فائدہ ہوگا، اور لوگوں کو کس وقت جوڑنا چاہیے یہ ٹول کٹ کے اجزا ء ترکیبی ہیں، کسی موضوع پر جب مخالفین کو چبھن ہونے لگتی ہے تو وہ اس ٹول کٹ کو ”شول کٹ“ اور جب عوام کو بے وقوف بنایا جارہا ہے تو اسے ”فل کٹ“ بھی کہاجاتا ہے۔

ٹول کٹ کا فائدہ لوگ دستورکی دفعہ ۹۱/ کے تحت لکھنے، پڑھنے اور بولنے کی جو آزادی دی گئی ہے اس سے اٹھاتے ہیں، جس کے دائرہ میں سیاست داں اور ذرائع ابلاغ بھی آتے ہیں، اس آزادی پر ماضی میں سوالات اٹھتے رہے ہیں کہ اس کے حد ود وقیود کیا ہیں؟ ۵۱۰۲ء میں آئی ٹی کی دفعہ ۶۶/۱ے کو بے اثر کر دیا گیا اور افراد کی آزادی پرسپریم کورٹ نے بھی اپنی مہر ثبت کر دی، جس کے بعد ٹول کٹ کا استعمال آزادیئ رائے کے نام پر کثرت سے ہونے لگا؛کیوں کہ یہ کام غیر قانونی باقی نہیں رہا، اب صرف ایک راستہ بچا ہے کہ ٹول کٹ پر جو مواد ہے، اس کی جانچ کرلی جائے کہ وہ صحیح ہے یا غلط، اس کے لیے ہمارے یہاں ایک ایجنسی ”اَلٹ نیوز“ ہے، اسی طرح انقلاب میں ایک کالم ”فیک نیوز“ اور حقیقت کے عنوان سے آتا ہے، جو اس طرح کے مواد کی جانچ کرکے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دیتا ہے، وہ اپنی تحقیق کے نتیجے میں بتاتا ہے کہ ٹول کٹ میں جو مضامین ڈالے گئے ہیں وہ تحریف شدہ ہیں یا جعلی ہیں۔

 اس کے علاوہ ایک طریقہ اور ان دنوں رائج ہے وہ یہ کہ سوشل میڈیا والوں سے ہی یہ درخواست کی جائے کہ یہ مواد متنازعہ ہے، اس لئے اسے ہٹا دیا جائے، ٹول کٹ پر پیش کی جانے والی چیزیں عموما حکومت وقت اور حکمرانوں کے خلاف ہوتی ہیں، اس لیے عام طور پر ایسی درخواستیں حکومت کے آئی ٹی سیل یا پھر حکمراں جماعت کے کسی کار کن کے ذریعہ مفاد عامہ کی عرضی کے طور پر داخل کی جاتی ہے اور عموما ذرائع ابلاغ والے اسے حذف کر دیتے ہیں، دوسری طرف حکمراں جماعت کے لوگ اس ٹول کٹ کا استعمال اپنے مخالفین کو زیر کرنے کے لیے کرتے ہیں اور یقینا کئی معاملات میں بیانات میں جو حقائق پیش کئے جاتے ہیں وہ غلط ہوتے ہیں۔

ماضی میں اس کی ضرورت کم پڑتی رہی ہے، 2012ء سے 2014ء تک اکا دکا درخواستیں ہی ٹوئٹر کے دفتر تک پہونچتی تھیں، دھیرے دھیرے یہ تعداد بڑھنے لگی، چنانچہ 2016ء کی دوسری ششماہی  میں دفتر کے پاس ایک سو اکاون (۱۵۱)درخواستیں حذف کرنے کے سلسلے میں آئیں، جنوری سے جون 2018ء میں یہ تعداد دو گنی ہو کر تین سو چھ(306) تک پہونچ گئی، جولائی سے دسمبر 2019ء کے درمیان ایسی درخواستوں کی تعداد چھ سو باسٹھ (662) ہو گئی،جنو ری تا جون 2020ء میں ٹویٹر کے پاس مواد ہٹانے کے لیے تئیس سو سڑسٹھ (2367) درخواستیں آئیں، جن میں ٹوئٹ کرنے والے کی شناخت ظاہر کرنے یا مواد ہٹانے کے لیے کہا گیاتھا۔

 اس کا مطلب ہے کہ اظہار رائے کی آزادی کے لیے آج جو ٹول کٹ استعمال کیا جا رہاہے، اسکے بھی حدود وقیود مقرر ہونے چاہیے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ حکومت پر کی جانے والی تنقید کو ملک سے غداری کے مترادف قرار دیا جائے اور جس طرح چین یاہندوستان میں ایمرجنسی کے زمانہ میں آزادانہ خبروں کی ترسیل پر قدغن لگایاجاتا ہے، اسی طرح خبروں کو نشر کیا جائے، ظاہر ہے ایک آزاد اور جمہوری ملک میں یہ رویہ انتہائی غیر پسندیدہ ہے۔

 اس معاملہ میں امریکہ کا طریقہ کار بہتر ہے، وہاں کی سکریٹ سروس عوام کی جانب سے پیش کردہ تمام اندیشے، خطرات، اثرات کا جائزہ لیتی رہتی ہے اور صدر کو متنبہ کرتی ہے کہ عوامی رجحان یہ ہے، صدر، عوام کی توقعات کے مطابق اپنے مشیر اور ایوان کی آرا کی روشنی میں کام کو آگے بڑھاتے ہیں، اس لیے وہاں کسی ایسے مواد کو ہٹانے کی کوئی درخواست سوشل میڈیا پر نہیں کی جاتی ہے، ہندوستان میں بھی حکمرانوں کو سننے کا مزاج بنانا چاہیے اور عوامی شکایات کو دور کرنے کے لئے جد وجہد کرنی چاہیے، تب اعتراض اور جوابی اعتراض کا سلسلہ ختم ہوگا اور ٹول کٹ کا مثبت استعمال ہو سکے گا۔(بشکریہ نقیب)

بی پی ایس میں کامیاب بچیاں قوم کے لئے مشعل راہ

 

بی پی ایس میں کامیاب بچیاں قوم کے لئے مشعل راہ 

سیماب اختر 

9199112324 

یونین پبلک سروس کمیشن کے بعد اگر کوئی مقابلہ جاتی امتحان سب سے زیادہ جد وجہد والا مانا جاتا ہے تو وہ ہے بہار پبلک سروس کمیشن یعنی بی پی ایس سی، 64 ویں مشترکہ مقابلہ جاتی امتحان کے حتمی نتائج کا اعلان کردیا گیا ہے جس میں کل 1454 امیدواروں نے کامیابی حاصل کی ہے، اس میں 100 مسلم امیدواروں بھی کامیاب ہوئے ہیں، مسلم امیدواروں کی کامیابی کا تناسب تقریباً 7 فیصد رہا، اور اس میں محکمہ اقلیتی فلاح کے زیر نگرانی حج بھون میں چلنے والے کوچنگ سے فائدہ حاصل کرتے ہوئے 49 بچے اور بچیوں نے اپنے مستقبل کی اڑان طے کی، نمایاں کامیابی حاصل کرنے والوں میں آسماء خاتون کا نام سر فہرست ہے جن کا تعلق پٹنہ سے ہی ہے انہوں نے حج بھون میں شب و روز کی انتھک محنت کے بعد یہ مقام حاصل کیا ہے یقیناً ایسی بچیاں قوم و ملت کے لیے مشعل راہ ہیں جنہوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ حوصلہ اگر بلند ہو تو مشکل سے مشکل منزل کا حصول ناممکن نہیں ہے، ہمارا سماج سے بات کرتے ہوئے زیادہ تر بچیوں نے کہا کہ حج بھون کی کوچنگ سے خاطر خواہ فائدہ ملا، ڈی ایس پی کے لیے منتخب ہوئ رضیہ سلطانہ نے بتایا کہ ماک انٹرویو کے لیے انہوں نے حج بھون کا رخ کیا اور وہاں کے اساتذہ سے بھرپور تعاون ملا، رشدہ رحمان اور شفق توفیق بتاتی ہیں کہ ایک ماہ تک حج بھون میں رہ کر تیاری کی جس کا فائدہ ملا اور وہاں کے تعلیمی نظام، کوچنگ کے انتظامات سے بہت مدد ملی، سیتامڑہی سے تعلق رکھنے والی صبیحہ صدف سعدیہ بی پی ایس سی کی تیاری میں مصروف تھی لیکن جب انکا مینس فائنل ہوا تو صدف نے انٹرویو کی تیاری کے لیے حج بھون کا رخ کیا اور ماک انٹرویو کی تیاری میں مصروف ہوگئی وہ کہتی ہیں کہ وہاں کے جو بھی منتظم ہیں وہ ہر بچے کا اپنوں کی طرح خیال رکھتے ہیں ہم محکمہ اقلیت فلاح کے شکر گذار ہیں کہ اس طرح کے تعاون سے امیدیں اور بھی بڑھ جایا کرتی ہے وہ اپنی کامیابی کے بعد ملک و قوم کی خدمت کرنا چاہتی ہے،حیدرآباد میں رہ کر تیاری کرنے والی نازنیں اکرم نے کہا کہ ماک انٹرویو کے لئے انہیں حج بھون سے بہت تعاون ملا، پڑھنے پڑھانے کا خوبصورت ماحول ہے لائبریری سے لیکر ہر طرح کی مدد ہر وقت دستیاب ہوا کرتی ہے قوم کے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس فری کوچنگ سے استفادہ لینا چاہیے، نورجہان نے کہا کہ میں نے پی ٹی کے رزلٹ کے بعد ہی حج بھون کا رخ کیا مینس اور انٹرویو کے لئے نیک نیتی سے محنت کی ضرورت کی ہر شئی وہاں دستیاب ہے بچوں کو اپنی اسٹڈی کے لیے کہیں باہر جانے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی تعلیمی ماحول کے ساتھ ساتھ سب لوگ مددگار ثابت ہوۓ ہیں، رقیہ نے بتایا کہ حج بھون کی کوچنگ میں 24 گھنٹے ہرامیدوار کے لیے لائبریری کی خدمات حاصل ہوتی ہے میرے لیے ماک انٹرویو کی تیاری مددگار ثابت ہوئ اور میں کامیاب ہوگئی، فوزیہ غزل نے ہمارا سماج سے بتایا کہ حج بھون میں فرحان سر اور سی ای او راشد حسین کی نگرانی سے خاطرخواہ فائدہ پہونچا اور آج میں اس مقام پر ہوں،سیما خاتون اپنی کامیابی سے بہت خوش ہیں انہوں نے کہا کہ حج بھون کی کوچنگ کا بڑا رول رہا ہے میری کامیابی میں، اب ملک و قوم کی خدمت کرنا چاہتی ہوں اور چاہتی ہوں کہ اور بھی بچیاں بی پی ایس کے لیے آگے آۓ فری کوچنگ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنا نام روشن کرے، معصومہ خاتون کی کامیابی کی کہانی تو اور بھی زیادہ سبق آموز ہے زچگی کے محض 12 دن بعد ہی وہ اپنی بچی کے ساتھ مینس اور ماک انٹرویو کی تیاری کے لیے حج بھون پہنچ گئی بچے کی پیدائش کے بعد ایسے بھی ڈاکٹر آرام کا مشورہ دیتے ہیں لیکن ان کا حوصلہ اس قدر بلند تھا کہ جسمانی کمزوری نے ان کے ذہن و دماغ پر منفی اثرات مرتب نہیں ہونے دی,


سالار اردو جناب غلام سرور کی یوم ولادت بہار اسٹیٹ اردو ٹیچر س ایسوسی ایشن کیطرف سے تقریب یوم اردو منانا کا اعلان

  سالار اردو جناب غلام سرور کی یوم ولادت بہار اسٹیٹ اردو ٹیچر س ایسوسی ایشن کیطرف سے تقریب یوم اردو منانا کا اعلان   10جنوری کو منائی جائےگی...