Monday, 26 April 2021

खुदा बख्श ओरिएंटल पब्लिक लाइब्रेरी को ध्वस्त करने का फैसला वापस ले सरकार: कमर मिसबाही

 खुदा बख्श ओरिएंटल पब्लिक लाइब्रेरी को ध्वस्त करने का फैसला वापस ले सरकार: कमर मिसबाही

(सीतामढी/प्रतिनिधि)

बिहार स्टेट उर्दू टिचर्स एसोसिएशन के आह्वान पर सुफफा  सेन्ट्रल पबिलक स्कूल   मेहसौल सीतामढ़ी सहित राज्यभर में आज "फोटो विद पोस्टर" के माध्यम से खुदा बख्श ओरिएंटल पब्लिक लाइब्रेरी के एक हिस्से को ध्वस्त करने के सरकार के फैसले के खिलाफ विरोध दर्ज किया गया।  विरोध प्रदर्शन का नेतृत्व करते हुए, एसोसिएशन के प्रदेश अध्यक्ष क़मर मिसबाही ने पत्रकारों से बात करते हुए कहा कि बिहार सरकार पटना में 130 साल पुरानी खुदा बख्श ओरिएंटल पब्लिक लाइब्रेरी के एक बड़े हिस्से को ध्वस्त करने का फैसला किया है, जो एक पुरातत्व स्थल है।इस गैरजिम्मेदाराना फैसले के खिलाफ जि कई लेखकों, बुद्धिजीवियों और पुस्तक प्रेमियों,विद्यार्थी संगठनों , सहित कई प्रमुख संगठनों ने विरोध दर्ज किया है।  एक पूर्व IPS अधिकारी ने अपना पदक  लौटाकर विरोध दर्ज कराया।  इसके बावजूद, नितीश सरकार पर इसका अभी तक कोई प्रभाव नजर नहीं आया है। कमर मिसबाही 

ने कहा कि खुदा बख्श लाइब्रेरी को एक अंतरराष्ट्रीय दर्जा प्राप्त है।  इसे  यूनेस्को द्वारा अंतर्राष्ट्रीय विरासत स्थल घोषित किया गया है। इसकी स्थापना 1891 में बिहार के एक जमींदार मौलवी खुदा बख्श ने अपनी जमीन पर की थी।

  उन्होंने आगे कहा कि यह पुस्तकालय सभी धर्मों के अनुयायियों के लिए समान महत्व रखता है बावजूद इसके  बिहार सरकार इसे ध्वस्त करने पर तूली  है जो किसी भी दृष्टिकोण से सही नहीं है।  इस पुस्तकालय की सुंदरता इस तथ्य से स्पष्ट है कि सभी धर्मों, जातियों और समुदायों के लोगों ने न केवल ज्ञान की प्यास बुझाई है, बल्कि सर्वोच्च पदों पर आसीन होकर  राष्ट्र की सेवा कर रहे हैं।  उन्होंने सरकार से बिहार की इस ऐतिहासिक धरोहर को बचाने के लिए अपने फैसले को पलटने की मांग की वरना जब तक फैसला पलटा नहीं जाता तब तक हमारा आंदोलन जारी रहेगा। इस वरचूअल आंदोलन में कोविड 19 का पालन करते हुए सिर्फ मोहम्मद असगर अली, मोहम्मद कौसर यजदानी  मौजुद थे !

Sunday, 18 April 2021

ہم ایک بڑے ادیب اور اچھے انسان سے محروم ہو گئے: کامران غنی صبا

 ہم ایک بڑے ادیب اور اچھے انسان سے محروم ہو گئے: کامران غنی صبا

پٹنہ 17 اپریل

معروف ادیب اور دو سو سے زائد کتابوں کے مصنف پروفیسر مناظر عاشق ہرگانوی کے انتقال پر کامران غنی صبا، صدر شعبہ اردو نتیشور کالج،مظفرپور نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ان کے انتقال کو اپنا ذاتی نقصان قرار دیا ہے. انہوں نے کہا کہ پروفیسر مناظر عاشق ہرگانوی بین الاقوامی شہرت یافتہ مصنف، شاعر، افسانہ نگار اور ناقد تھے لیکن ان کی طبیعت میں منکسرالمزاجی بھری ہوئی تھی. وہ جس سے ملتے خندہ پیشانی سے ملتے. چھوٹوں کی حوصلہ افزائی کرنا ان کا طرہ امتیاز تھا. کامران غنی صبا نے کہا کہ پروفیسر مناظر عاشق ہرگانوی ان کے لیے سرپرست کی حیثیت رکھتے تھے. ان میں غرور و تکبر کا شائبہ تک نہیں تھا. بڑے ہونے کے باوجود اکثر خود ہی فون کرتے. خیریت دریافت کرتے. مفید مشوروں سے نوازتے. کامران غنی صبا نے بتایا کہ پروفیسر ہرگانوی نے انہیں اپنی کئی کتابیں بھیجوائیں. وہ جب بھی اپنی کوئی نئی کتاب بھیجواتے یہ ضرور کہتے کہ اگر موقع ملے تو کچھ لکھ دیجیے گا. افسوس کہ میں ان کے نعتیہ مجموعہ "ہر سانس محمد پڑھتی ہے" کے سوا ان کی کسی کتاب پر نہیں لکھ سکا. پروفیسر مناظر صاحب نے کبھی کوئی شکایت تک نہیں کی. اللہ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور ان کے درجات کو بلند کرے.

مولانا سید شاہ حسن مانی ندوی کا انتقال بڑا ملی علمی اور روحانی خسارہ

 مولانا سید شاہ حسن مانی ندوی کا انتقال بڑا ملی علمی اور روحانی خسارہ 

 - مفتی محمد ثناء الہدی قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ

مولانا سید شاہ حسن مانی ندوی نےبھی دنیا کو الوداع کہدیا وہ خانقاہ پیر دمڑیا خلیفہ باغ بھاگل پور کے سجادہ نشیں تھے. انکی شخصیت ملی علمی اور روحانی تھی. ایک زمانے میں جمیعت شباب اسلام کے جلسوں میں انکی شرکت کثرت سے ہوا کرتی تھی. وہ معہد العلوم الاسلامیہ چک چمیلی سرائے ویشالی بھی کئ بار تشریف لا چکے تھے. وہ انتہائی سادہ لفظوں میں اپنی بات کہ جاتے تھے. ان کے انتقال سے اس علاقے میں بڑا ملی علمی و روحانی خلا پیدا ہو گیا ہے. ان خیالات کا اظہار امارت شرعیہ بہار اڈیشہ جھارکھنڈ کے نائب ناظم مفتی محمد ثناء الہدی قاسمی نے اپنے تعزیتی پیغام میں کیا ہے. انہوں نے فرمایا کہ ابھی حال ہی میں انہوں نے اپنے بڑے صاحبزادے کی سجادگی کا اعلان کیا تھا اور اہل علم اور سجادگان کی موجودگی میں انکی دستاربندی کرائی تھی. مفتی صاحب نے اپنے تعلقات کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ اس خانوادہ سے میرا تعلق قدیم ہے. جس زمانہ میں میں پیر دمڑیا کی حاجی پور شاخ پر کام کر رہا تھا تو میرا آنا جانا پیر دمڑیا کتب خانے کے مخطوطات دیکھنے کیلئے ہوا کرتا تھا. اور مجھے مولانا شاہ شرف عالم ندوی رحمہ اللہ جناب منظر حسین اور شاہ حسن مانی ندوی رحمہ اللہ کی محبتیں اور شفقتیں ملا کرتی تھیں. مفتی محمدثناءالہدی قاسمی نے اس حادثہ پر اہل خاندان سے تعزیت کی او رشاہ صاحب کی مغفرت، بلندی درجات اور پس ماندگان کے لیے صبرو ثبات کی دعا فرمائی

مدارس اسلامیہ پرکورونا کے اثرات

 مدارس اسلامیہ پرکورونا کے اثرات

مفتی محمد ثناء الہدی قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ وجھارکھنڈ

آج جبکہ پوری دنیا میں تعلیم نے صنعت و تجارت کی حیثیت حاصل کرلی ہے، مدارس اسلامیہ متوسط اور غریب خاندانوں کی تعلیم کا واحد ذریعہ ہیں،یہاں لیا نہیں؛بلکہ سب کچھ دیا جاتا ہے، تعلیم بھی، تربیت بھی، کتابیں بھی، خوراک بھی، رہائش بھی، کپڑے بھی، سب کچھ مفت۔ مدرسوں میں کوئی مستقل آمدنی کا ذریعہ نہیں ہوتا، یہاں کا بجٹ آمدنی کے بعد نہیں بنتا؛ بلکہ اللہ کے فضل اور اہل خیر کے ذریعہ دی جانے والی رقم کی موہوم امید اور توقعات پر بنا کرتا ہے، یہاں کے اساتذہ معمولی تنخواہوں پر کام کرتے ہیں اور صرف یہی وہ لوگ ہیں جو اپنی صلاحیتیں فروخت نہیں کرتے،دنیاوی اجرت کا تصور نہیں رکھتے ؛ بلکہ اجر خداوندی کی امید پر کام کرتے ہیں،ان کی امیدیں اللہ سے لگی ہوتی ہیں، ان کے مقاصد جلیل اور آرزوئیں قلیل ہوتی ہیں، رمضان المبارک اور دوسرے موقع سے یہ اہل خیر سے رابطہ کرتے ہیں، چھوٹی بڑی رقمیں وصول کرلاتے ہیں،جس سے مدارس اسلامیہ کا یہ سارا نظام چلا کرتا ہے، امیر شریعت سادس حضرت مولانا سید نظام الدین صاحب ؒ فرمایاکرتے تھے کہ اپنے تعلیمی نظام کو خیرات زکوٰۃ پر منحصر نہیں کرنا چاہئیے، اپنی اصل آمدنی میں سے بھی کچھ اس کام کے لئے نکالنا چاہیے؛لیکن واقعہ یہی ہے کہ عطیات کی مختصر رقم کو چھوڑ کر اب تک مدارس اسلامیہ کا ساراتعلیمی نظام مسلمانوں کے خیرات زکوٰۃ پر ہی منحصر ہے۔

امسال کورونا وائرس کے دوسرے دور کی دہشت،متوقع لاک ڈاؤن کی وحشت، آمدورفت کے وسائل کے ممکنہ طور پر مسدوداور گھر وں سے نکلنے پر خطرات کی وجہ سے مدارس اسلامیہ کے ذمہ داروں اور محصلین کا رابطہ اہل خیر حضرات سے نہیں ہوپا رہا ہے،مدارس اسلامیہ کے ذمہ داران نے آن لائن رقومات بھیجنے کی اپیل کی ہے، اخبارات میں اشتہارات دئیے ہیں؛ لیکن کتنے لوگ اس اپیل کا نوٹس لیتے ہیں، ہر آدمی جانتا اور سمجھتا ہے،جو لوگ اپنے سارے کام’’کیش لیس سسٹم‘‘ سے کیا کرتے ہیں،ان کے لئے تو یہ دشوار بھی نہیں ہے،پے ٹی ام، اور کریڈٹ کارڈ سے بجلی بل اور دوسرے سرکاری ٹیکس ادا کئے جاتے رہے ہیں؛لیکن اللہ کی مقرر کردہ زکوٰۃ کے بارے میں لوگوں کی حساسیت کم ہوا کرتی ہے،بڑے اداروں کی طرف کچھ توجہ ہوبھی جاتی ہے؛لیکن گاؤں اوردیہات میں واقع چھوٹے چھوٹے مدارس کی طرف توجہ بالکل نہیں ہوتی، جس کی وجہ سے اساتذہ کی کئی کئی ماہ کی تنخواہیں باقی ہیں اور وصولی صفر ہے،ایسے میں یہ ادارے انتہائی پریشان کن دور سے گذر رہے ہیں،چھوٹے مدارس کی اہمیت کم نہیں ہے، یہ مسلم سماج میں اسلامی تعلیم و تربیت اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کے فروغ کے لئے ’’لائف لائن‘‘ کی حیثیت رکھتے ہیں، مسلم سماج کے جسم و جان میں اسلامی حمیت و غیرت اور دینی تعلیم و تربیت کا جو خون گردش کرتا ہے،وہ سب انہیں مدارس اسلامیہ کی دین ہے، بنیادی دینی تعلیم جس کا حصول ہر مسلمان پر فرض ہے، اس کی تکمیل ان اداروں کے ذریعہ ہی ہوتی ہے۔

  یہی وجہ ہے کہ ہر دور میں اکابر علماء نے اس کی ضرورت و اہمیت بیان کرکے لوگوں کی توجہ اس طرف مبذول کر ائی ہے۔ حکیم الامت حضرت مولانااشرف علی تھانوی ؒ فرماتے ہیں:اس میں ذرا شبہ نہیں کہ اس وقت مدارس علوم دینیہ کا وجود مسلمانوں کے لئے ایسی بڑی نعمت ہے کہ اس سے فوق(بڑھ کر)متصور نہیں، دنیا میں اگر اسلام کے بقاء کی کوئی صورت ہے تو یہ مدارس ہیں‘‘(حقوق العلم: ۱۵) حضرت مولانا مناظر احسن گیلانیؒ کی رائے ہے کہ ’’یہی کہفی مدارس تھے،جنہوں نے مسلمانوں کے ایک طبقہ کو خواہ ان کی تعداد جتنی بھی کم ہے، اعتقادی اور اخلاقی گندگیوں سے پاک رکھنے کی کامیاب کوشش کی ہے،‘‘ (الفرقان،افادات گیلانی)

علامہ سید سلیمان ندویؒ فرماتے ہیں: ’’یہ مدارس جہاں بھی ہوں جیسے بھی ہوں،ان کا سنبھالنا اور چلانا مسلمانوں کا سب سے بڑا فریضہ ہے اگر ان عربی مدرسوں کا کوئی فائدہ نہیں تو یہی کیا کم ہے کہ یہ غریب طبقوں میں مفت تعلیم کا ذریعہ ہیں اور ان سے فائدہ اٹھا کر ہمارا غریب طبقہ کچھ اور اونچا ہوتا اور اس کی اگلی نسل کچھ اور اونچی ہوتی ہے اور یہی سلسلہ جاری رہتا ہے، غور کی نظر اس نکتہ کو پوری طرح کھول دے گی‘‘

حضرت مولانا ابوالحسن علی ندوی ؒ نے فرمایا:  ’’مدرسہ سب سے بڑی کار گاہ ہے، جہاں آدم گری اور مردم سازی کا کام ہوتا ہے، جہاں دین کے داعی اور اسلام کے سپاہی تیار ہوتے ہیں،مدرسہ عالم اسلام کا وہ بجلی گھر(پاورہاؤس)ہے جہاں سے اسلامی آبادی؛بلکہ انسانی آبادی میں بجلی تقسیم ہوتی ہے، مدرسہ وہ کارخانہ ہے، جہاں قلب و نگاہ اور ذہن و دماغ ڈھلتے ہیں،مدرسہ وہ مقام ہے جہاں سے پوری کائنات کا احتساب ہوتا ہے اور پوری انسانی زندگی کی نگرانی کی جاتی ہے ‘‘(پاجا سراغ زندگی: ۰۹)

ساتویں امیر شریعت مفکر اسلام مولانا محمد ولی رحمانی ؒ کا ارشاد ہے:’’مدرسہ آپ کے دین و ایمان کی جگہ ہے،یہ آپ کی دنیا و آخرت ہے، مدارس اسلامیہ کو تقویت پہونچائی جائے،دین اسلام کی بقاء انہیں مدارس اسلامیہ کے استحکام سے ہے، علماء اور مدرسوں پر غلط تبصرہ کرنے سے گریز کریں،(مدرسہ رحمانیہ سپول کے اجلاس سے خطاب) آپ نے مدارس اسلامیہ کے سلسلے میں اکابر کے ارشادات و افادات کا مطالعہ کرلیا ایسے میں ہماری ذمہ داری ہے کہ ان اداروں کی فکر کریں اور موجودہ پریشان کن حالات سے نکالنے میں ان کی مدد کریں۔

 اہل خیر حضرات کو عطیات کی رقم سے اپنے اپنے علاقوں میں علماء، ائمہ مساجد،مؤذنین اور مدارس کے اساتذہ کے لئے بھی دست تعاون دراز کرنا چاہیے، ان کی عزت نفس کو ٹھیس نہ پہونچے، اس کے لئے یہ بھی کرسکتے ہیں کہ یہ رقومات مدارس اورمساجد کے ذمہ داروں کو بمد تنخواہ دے دی جائیں،اور ذمہ داران، اساتذہ، ائمہ اور مؤذنین کی تنخواہیں ادا کریں، اس طرح ان کا بھی کام چل جائے گا اور ادارے اساتذہ کے مقروض نہیں رہیں گے۔

اس موقع سے یہ بدگمانی بالکل نہ پھیلائی جائے کہ مہتمم صاحبان رکھ لیں گے،سوشل میڈیا پر اس قسم کے بیانات لوگ دیتے رہتے ہیں، یقینا کچھ مہتمم اور متولی صاحبان ایسا کرتے ہوں گے؛لیکن عمومی احوال ایسے نہیں ہیں، ہماری کمزوری یہ ہے کہ ہم اکادکا واقعات کو کلیہ بنا کر پیش کرتے ہیں،علمی اصطلاح میں کہیں تو کہا جاسکتا ہے کہ قیاس استثنایئ کو قیاس استقرائی کا درجہ دینا ہماری فطرت بن گئی ہے، یہ ٹھیک ہے کہ پوری دیگ کے چاول کے پکنے کا اندازہ دوچار دانوں کو مسل کر لگایا جاسکتا ہے ؛لیکن روٹی میں یہ فارمولہ نہیں چلے گا،تمام روٹی کے کچی اور پکی ہونے کی بات ایک روٹی کو دیکھ کر نہیں کہی جاسکتی۔

دوسرا بڑا مسئلہ دارالاقامہ میں مقیم طلبہ کے نان و نفقہ اور کھانے پینے کا ہے، امراء اور صاحب استطاعت لوگوں کی خیرات زکوٰ ۃ کی رقم سے یہ اخراجات پورے کئے جاتے رہے ہیں؛لیکن اس بارکورونا کی وحشت کی وجہ سے یہ کام نہیں ہو رہا ہے اہل خیر حضرات مدارس کی ضرورتوں کو سمجھیں ہمارا احساس ہے کہ یہ امت ابھی بانجھ نہیں ہوئی ہے،اس لئے بدگمانی چھوڑیئے،مدارس کو ان پریشان کن حالات؛ بلکہ’’عالم نزع‘‘ سے نکالنے کے لئے آگے آیئے، اس لئے کہ اگر یہ مدارس نہیں رہے تو کیا ہوگا،وہ علامہ اقبال سے سنئے، فرماتے ہیں:

’’اگر ہندوستان کے مسلمان ان مکتبوں کے اثر سے محروم ہوگئے تو بالکل اسی طرح جس طرح ہسپانیہ میں مسلمانوں کی آٹھ سو برس کی حکومت کے باوجود آج غرناطہ اور قرطبہ کے کھنڈرات اور الحمراء اور باب الاخوتین کے سوا اسلام کے پیروؤں اور اسلامی تہذیب کے آثار کا کوئی نقش ہی نہیں ملتا، ہندوستان میں بھی آگرہ کے تاج محل اور دلی کے لال قلعہ کے سوا مسلمانوں کی آٹھ سو برس کی حکومت اور ان کی تہذیب کا کوئی نشان نہیں ملے گا‘‘ (اوراق گم گشتہ از رحیم بخش شاہین)

Tuesday, 13 April 2021

رمضان المبارک کا پیغام ۔

 رمضان المبارک کا پیغام



                   شمشیر عالم مظاہری۔ دربھنگوی۔

امام جامع مسجد شاہ میاں روہوا ویشالی بہار ۔

رمضان المبارک کی آمد آمد ہے کسی کے آنے کی آمد عام طور پر خوشگوار ہوتی ہے اور اس کے استقبال کی تیاریاں بھی بڑے زور و شور سے کی جاتی ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ آنے والا کون ہے اور اس کا استقبال کیسے کیا جائے۔ فی الوقت ہمارے پیش نظر رمضان المبارک ہے جس کی رحمتیں و برکتیں امت مسلمہ نیز ان تمام لوگوں پر سایہ فگن ہو چکی ہیں جو خیر و اصلاح کا مہینہ سمجھتے ہیں رمضان المبارک نزول قرآن کا مہینہ ہے تقویٰ، پرہیزگاری، ہمدردی، غم گساری، محبت وخیرخواہی، جذبہ خدمت خلق، راہ خدا میں استقامت، جذبۂ حمیت، اور جذبۂ اتحاد، اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بے انتہا لو لگانے کا مہینہ ہے۔ لہذا اس کے شایانِ شان اس کا استقبال بھی ہونا چاہئے ساتھ ہی ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ وہ تمام صفات سے ہم مزین ہو جائیں جو اس مہینہ کی پہچان ہے ہم جانتے ہیں کہ رمضان المبارک میں قرآن نازل ہوا،روزے فرض ہوئے، جنگ بدر پیش آئی، شب قدر رکھی گئی، فتح مکہ کا واقعہ پیش آیا، اس کے عشروں کو مخصوص اہمیت دی گئی۔ ساتھ ہی اس ماہ مبارک میں زکوٰۃ،انفاق،اورفطرے کا اہتمام کیا گیا۔ نتیجتاً ماہ رمضان کی عبادات کو خصوصی درجہ حاصل ہوا۔ 

رمضان المبارک کا مہینہ اللہ جل شانہ کی بڑی عظیم نعمت ہے ہم اس مبارک مہینے کی حقیقت اور اس کی قدر کیسے جان سکتے ہیں کیونکہ ہم لوگ دن رات اپنے دنیاوی کاروبار میں الجھے ہوئے ہیں اور صبح سے شام تک دنیا ہی کی دوڑ دھوپ میں لگے ہوئے ہیں اور مادیت کے گرداب میں پھنسے ہوئے ہیں ہم کیا جانیں رمضان کیا چیز ہے؟ اللہ جل شانہٗ جن کو اپنے فضل سے نوازتے ہیں اور اس مبارک مہینے میں اللہ جل شانہ کی طرف سے انواروبرکات کا جو سیلاب آتا ہے اس کو پہچانتے ہیں ایسے حضرات کو اس مہینے کی قدر ہوتی ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ جو لوگ تجارت کرتے ہیں ان کے کاروباری سیزن آیا کرتے ہیں جس شخص کا سیزن آجائے وہ اپنی محنت بہت زیادہ کر دیتا ہے وہ اپنی مصروفیات ترک کر دیتا ہے وہ دوسروں سے معذرت کرلیتا ہے کہ میرا سیزن ہے اس لئے میں زیادہ وقت فارغ نہیں کر سکتا بلکہ وہ انسان اپنے کھانے پینے کی پرواہ نہیں کرتا رات کو اسے سونے کی فکر نہیں ہوتی اس کو ہر وقت یہ غم ہوتا ہے کہ میں کس طرح اس سیزن میں کمالوں سیزن سے جتنا نفع  اٹھا سکتا ہوں میں اٹھا لوں تاکہ مجھے زیادہ فائدہ ہو وہ سوچتا ہے کہ یہ تھوڑے دن کی جستجو ہے یہ تھوڑے دن کی مشقت ہے اس کے بعد پھر آرام کرلیں گے۔ اسی طرح رمضان المبارک نیکیاں کمانے کا سیزن ہے جو لوگ اپنے گناہوں کو معاف کروانا چاہتے ہیں اللہ رب العزت کا قرب حاصل کرنا چاہتے ہیں اللہ تعالیٰ کی معیت کے حصول کے لیے بیقرار رہنے والے ہیں ان کے لیے یہ مہینہ ایک سیزن کی مانند ہے انہیں چاہیے کہ جب وہ روزہ رکھیں تو ان کا روزہ محض کھانے پینے سے رکنے تک محدود نہ ہو بلکہ روزہ دار کی آنکھیں بھی روزہ دار ہوں،زبان بھی روزہ دار ہو،کان بھی روزہ دار ہوں،  شرم گاہ بھی روزہ دار ہو،  دل و دماغ بھی روزہ دار ہوں، جب اس طرح ہم سر کے بالوں سے لے کر پاؤں کے ناخنوں تک روزہ دار بن جائیں گے تو افطار کے وقت جب دامن پھیلائیں گے اللہ رب العزت ہماری دعاؤں کو قبول فرمائیں گے ۔جس شخص کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہے اس کے دل میں رمضان المبارک کا ایک احترام اور اس کا تقدس ہوتا ہے جس کی وجہ سے اس کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ اس ماہ مبارک میں اللہ کی عبادت کچھ زیادہ کرے اور کچھ نوافل زیادہ پڑھے جو لوگ عام دنوں میں پانچ وقت کی نماز ادا کرنے کے لیے مسجد میں آنے سے کتراتے ہیں وہ لوگ بھی تراویح جیسی لمبی نماز میں بھی روزانہ شریک ہوتے ہیں یہ سب الحمدللہ اس ماہ کی برکت ہے کہ لوگ عبادت میں، نماز میں، ذکر و اذکار اور تلاوت قرآن میں مشغول ہوتے ہیں لیکن ان سب نفلی نمازوں نفلی عبادات نفلی ذکر و اذکار اور نفلی تلاوت قرآن کریم سے زیادہ مقدم ایک اور چیز ہے جس کی طرف توجہ نہیں دی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ اس مہینہ کو گناہوں سے پاک کرکے گزارنا کہ اس ماہ میں ہم سے کوئی گناہ سرزد نہ ہو اس مبارک مہینے میں آنکھ نہ بہکے، نظر غلط جگہ پر نہ پڑے، کان غلط چیز نہ سنیں،  زبان سے کوئی غلط کلمہ نہ نکلے اور اللہ تعالی کی معصیت سے مکمل اجتناب ہو یہ مبارک مہینہ اس طرح گزار لیں پھر چاہے ایک نفلی رکعت نہ پڑھی ہو اور تلاوت زیادہ نہ کی ہو اور نہ ذکر و اذکار کیا ہو لیکن گناہوں سے بچتے ہوئے اللہ کی معصیت اور نافرمانی سے بچتے ہوئے یہ مہینہ گزار دیا تو آپ قابلِ مبارک باد ہیں اور یہ مہینہ آپ کے لئے مبارک ہے گیارہ مہینے تک ہر قسم کے کام میں مبتلا رہتے ہیں اور یہ اللہ تعالی کا ایک مہینہ آرہا ہے کم از کم اس کو تو گناہوں سے پاک کر لیں اس میں تو اللہ کی نافرمانی نہ کریں اس میں تو کم از کم جھوٹ نہ بولیں اس میں تو غیبت نہ کریں اس میں تو بد نگاہی کے اندر مبتلا نہ ہوں اس مبارک مہینے میں تو کانوں کو غلط جگہ پر استعمال نہ کریں اس میں تو رشوت نہ کھائیں اس میں سود نہ کھائیں کم از کم یہ ایک مہینہ اس طرح گزار لیں ۔ اس لیے کہ روزے تو ماشاء اللہ بڑے ذوق و شوق سے رکھ رہے ہیں لیکن روزے کے کیا معنی ہیں؟ روزے کے معنی یہ ہیں کہ کھانے سے اجتناب کرنا پینے سے اجتناب اور نفسانی خواہشات کی تکمیل سے اجتناب کرنا روزے میں ان تینوں چیزوں سے اجتناب ضروری ہے ۔ اب یہ دیکھیں کہ یہ تینوں چیزیں ایسی ہیں جو فی نفسہ حلال ہیں کھانا حلال پینا حلال اور جائز طریقے سے زوجین کا نفسانی خواہشات کی تکمیل کرنا حلال اب روزے کے دوران ان حلال چیزوں سے پرہیز کر رہے ہیں نہ کھا رہے ہیں اور نہ پی رہے ہیں لیکن جو چیزیں پہلے سے حرام تھیں مثلاً جھوٹ بولنا غیبت کرنا بدنگاہی کرنا جو ہر حال میں حرام تھیں روزے میں یہ سب چیزیں ہو رہی ہیں اب روزہ رکھا ہوا ہے اور جھوٹ بول رہے ہیں روزہ رکھا ہوا ہے اور غیبت کر رہے ہیں روزہ رکھا ہوا ہے اور بد نگاہی کر رہے ہیں اور روزہ رکھا ہوا ہے لیکن وقت پاس کرنے کے لئے گندی گندی  فلمیں دیکھ رہے ہیں یہ کیا روزہ ہوا کہ حلال چیز تو چھوڑ دی اور حرام چیز نہیں چھوڑی اس لیے حدیث شریف میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ جو شخص روزے کی حالت میں جھوٹ بولنا نہ چھوڑ ے تو مجھے اس کے بھوکا اور پیاسا رہنے کی کوئی حاجت نہیں اس لئے کہ جب جھوٹ بولنا نہیں چھوڑا جو پہلے سے حرام تھا تو کھانا چھوڑ کر اس نے کونسا بڑا عمل کیا ۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین جکڑ دئیے جاتے ہیں اور ایک روایت میں بجائے ابواب جنت کے ابواب رحمت کا لفظ ہے (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے (حجۃاللہ البالغہ)  میں اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے جو کچھ تحریر فرمایا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ  اللہ کے صالح اور اطاعت شعار بندے رمضان میں چونکہ طاعات و حسنات میں مشغول و منہمک ہو جاتے ہیں وہ دنوں کو روزہ رکھ کے ذکر و تلاوت میں گزارتے ہیں اور راتوں کا بڑا حصہ تراویح وتہجد اور دعا و استغفار میں بسر کرتے ہیں اور ان کے انوار و برکات سے متاثر ہوکر عوام مومنین کے قلوب بھی رمضان المبارک میں عبادات اور نیکیوں کی طرف زیادہ راغب اور بہت سے گناہوں سے کنارہ کش ہو جاتے ہیں تو اسلام اور ایمان کے حلقے میں سعادت اور تقوے کے اس عمومی رجحان اور نیکی اور عبادت کی اس عام فضاء کے پیدا ہوجانے کی وجہ سے وہ تمام طبائع جن میں کچھ بھی صلاحیت ہوتی ہے اللہ کی مرضیات کی جانب مائل اور شر و خباثت سے متنفر ہو جاتی ہیں اور پھر اس ماہ مبارک میں تھوڑے سے عمل خیر کی قیمت بھی اللہ تعالی کی جانب سے دوسرے دنوں کی بہ نسبت بہت زیادہ بڑھا دی جاتی ہے تو ان سب باتوں کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان لوگوں کے لئے جنت کے دروازے کھل جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین ان کو گمراہ کرنے سے عاجز اور بے بس ہو جاتے ہیں اس تشریح کے مطابق ان تینوں باتوں (یعنی جنت و رحمت کے دروازے کھل جانے، دوزخ کے دروازے بند ہو جانے اور شیاطین کے مقید اور بے بس کر دئیے جانے) تعلق صرف ان اہل ایمان سے ہے جو رمضان المبارک میں خیر و سعادت حاصل کرنے کی طرف مائل ہوتے ہیں اور رمضان المبارک کی رحمتوں اور برکتوں سے مستفید ہونے کے لیے عبادات و طاعات کو اپنا شغل بناتے ہیں۔  باقی رہے وہ کفار اور خدا نا شناس اور وہ خدا فراموش اور غفلت شعار لوگ جو رمضان اورن اس کے احکام و برکات سے کوئی سروکار ہی نہیں رکھتے اور اس کے آنے پر ان کی زندگیوں میں کوئی تبدیلی ہوتی ہے ظاہر ہے کہ اس قسم کی بشارتوں کا ان سے کوئی تعلق نہیں انہوں نے جب اپنے آپ کو خود ہی محروم کرلیا ہے اور بارہ مہینے شیطان کی پیروی پر وہ مطمئن ہیں تو پھر اللہ کے یہاں بھی ان کے لئے محرومی کے سوا اور کچھ نہیں۔ 

رمضان کی آمد پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک خطبہ ۔

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ

 عنہ سے روایت ہے کہ ماہِ شعبان کی آخری تاریخ کو رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے ہم کو ایک خطبہ دیا اس میں آپ صلی اللہ وسلم نے فرمایا اے لوگو تم پر ایک عظمت اور برکت والا مہینہ سایہ فگن ہو رہا ہے اس مہینہ کی ایک رات ( شب قدر) ہزار مہینوں سے بہتر ہے اس مہینے کے روزے اللہ تعالی نے فرض کئے ہیں اور اس کی راتوں میں بارگاہ خداوندی میں کھڑا ہونے (یعنی نمازِ تراویح پڑھنے)کو نفل عبادت مقرر کیا ہے ( جس کا بہت بڑا ثواب رکھا ہے) جو شخص اس مہینے میں اللہ کی رضا اور اس کا قرب حاصل کرنے کے لیے کوئی غیر فرض عبادت ( یعنی سنت یا نفل) ادا کرے گا اس کو دوسرے زمانہ کے فرضوں کے برابر ثواب ملے گا اور اس مہینے میں فرض ادا کرنے کا ثواب دوسرے زمانے کی ستر فرضوں کے برابر ہے یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے یہ ہمدردی اورغمخواری کامہینہ ہے اور یہی وہ مہینہ ہے جس میں مومن بندوں کے رزق میں اضافہ کیا جاتا ہے جس نے اس مہینے میں کسی روزہ دار کو ( اللہ کی رضا اور ثواب حاصل کرنے کے لئے) افطار کرایا تو اس کے لئے گناہوں کی مغفرت اور آتش دوزخ سے آزادی کا ذریعہ ہوگا اور اس کو روزہ دار کے برابر ثواب دیا جائے گا بغیر اس کے کہ روزہ دار کے ثواب میں کوئی کمی کی جائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ یا رسول اللہ!ہم میں سے ہر ایک کو تو افطار کرانے کا سامان میسر نہیں ہوتا ( تو کیاغرباء اس عظیم ثواب سے محروم  رہیں گے؟)  آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالی یہ ثواب اس شخص کو بھی دے گا جو دودھ کی تھوڑی سی لسی پر یا صرف پانی ہی کے ایک گھونٹ پر کسی  روزہ دار کا روزہ افطار کرادے (رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سلسلۂ کلام جاری رکھتے ہوئے آگے ارشاد فرمایاکہ) اور جو کوئی کسی روزہ دار کو پورا کھانا کھلا دے اس کو اللہ تعالی میرے حوض (یعنی کوثر) سے ایسا سیراب کرے گا جس کے بعد اس کو کبھی پیاس ہی نہیں لگے گی تاآنکہ وہ جنت میں پہنچ جائے گا ( اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا)  اس ماہ مبارک کا ابتدائی حصہ رحمت ہے اور درمیانی حصہ مغفرت ہے اور آخری حصہ آتش دوزخ سے آزادی ہے (اس کے بعد آپ صلی اللہ وسلم نے فرمایا) اور جو آدمی اس مہینے میں اپنے غلام و خادم کے کام میں تخفیف اور کمی کر دے گا  اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرمادے گا اور اس کو دوزخ سے رہائی اور آزادی دے دے گا (شعب الایمان للبیہقی)

اللہ تعالیٰ ہم سب کو رمضان کے روزے اور اس کے پورے اعمال ادا کرنے کی توفیق نصیب فرمائے تاکہ ہم بھی ان بشارات کے مستحق ہو سکیں جو  روزے داروں کے لئے مخصوص کی گئی ہیں آمین ۔

آمد ِرمضان

 آمد ِرمضان 

-------------   


                                                                مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ وجھارکھنڈ*

-----------------------------------------------------------------                                                        رمضان المبارک آگیا ، شیاطین پابند سلاسل ہوگئے ، جنت کا دروازہ کھل گیا ، اور نیکیوں کی فصل لہلہانے لگی ، اب یہ ہماری ہمت او رتوفیق پر منحصر ہے کہ اس ماہ کے فضائل وبرکات سے کس قدر ہم اپنا دامن بھرتے ہیں اور کس طرح اپنے مولی ٰ کو راضی کر پاتے ہیں، صادق الامین صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے لوگوں پر لعنت بھیجی ہے جو رمضان المبارک کا مہینہ پائے اور اپنی بخشش نہ کروالے۔

 اس لیے کمر بستہ ہوجائیے ، سال بھر تو بے فکری رہی، مسجد یں بھر نہیں سکیں ، ( اس بار بھی مسجدیں عام لوگوں کے لیے بند کر دی گئ ہیں) تلاوت قرآن کی توفیق نہیں ہوئی، خیر کی طرف دل مائل نہ ہوا، شر نے اپنے پنجے جمائے رکھے، نامہ اعمال میں کوتاہیاں ہی کوتاہیاں درج ہوئیں، اور ہم شیاطین کی کارستانیوں کا ذکر کرکے مطمئن ہوتے رہے ، لیکن اس ماہ میں تو شیاطین بھی بند ہوجاتے ہیں، خیر کی طرف متوجہ ہونے کی آواز لگائی جاتی ہے ، شرور سے بچنے کی تلقین ہوتی ہے ، پھر بھی روزہ ، نماز، تلاوت ، نوافل اور صدقہ وخیرات میں کوتاہی ہو رہی ہو تو سمجھنا چاہیے کہ دل ہی مردہ ہو گیا ہے ، معصیت اور منکرات نے لوحِ دل کو اس قدر سیاہ کر دیا ہے کہ نامۂ اعمال کو سفید کرنے کی کوشش کامیاب نہیں ہو رہی ہے ، دل کی زمین کو اس قدر بنجر کر دیا ہے کہ اعمال صالحہ کی فصل ہی اس پر اگ نہیں پا رہی ہے ۔

 اگر نوبت یہاں تک پہونچ گئی ہے تو تو بہ و استغفار کی کثرت کی جائے، خالق کائنات کے سامنے گڑگڑایا جائے ، ندامت کے آنسو بہائے جائیں، اہل اللہ کی صحبت اختیار کی جائے، آخری عشرہ کا اعتکاف کیا جائے، صدقہ وخیرات کی کثرت کی جائے اور محرومین کو نوازا جائے، یہ سارے اعمال دل ودماغ کو صیقل کرتے ہیں، اور جب یہ دونوں اعضاء رئیسہ سے سیاہی دور ہوجاتی ہے تو انسان مرضی مولیٰ کے مطابق زندگی گذارنے لگتا ہے ۔

 اس لیے اس ماہ کی عظمت کو پہچانئے ، قرآن کریم سے اس مہینہ کو خاص نسبت ہے ، خود بھی تلاوت کا اہتمام کیجئے اور تراویح میں بھی ایک ختم سننے کا التزام کر ڈالیے، کسی بھی کام میں رہیے زبان کو ذکر اللہ سے تر وتازہ رکھیے ، اللہ کی نعمتیں بے شمار ہیں، اس کا ذکر بھی بے شمار کیجئے، ہر وقت ، ہر پل اور ہر آن کیجئے، اپنی عبادتوں پر نازاں نہ ہوجائیے، کیوں کہ یہ سب اللہ کی توفیق سے ہی ہو رہا ہے ، اور اللہ کی توفیق مل رہی ہے ، اس پر بھی شکر گذار ہو ئیے، یہ شکر گذاری مسلسل ہو تی رہے؛ تاکہ مزید توفیق ملے، اور ہم سب دنیاوی سکون اور آخرت کی جنت کے مستحق قرار پائیں۔

سالار اردو جناب غلام سرور کی یوم ولادت بہار اسٹیٹ اردو ٹیچر س ایسوسی ایشن کیطرف سے تقریب یوم اردو منانا کا اعلان

  سالار اردو جناب غلام سرور کی یوم ولادت بہار اسٹیٹ اردو ٹیچر س ایسوسی ایشن کیطرف سے تقریب یوم اردو منانا کا اعلان   10جنوری کو منائی جائےگی...