Thursday, 29 October 2020

سیرت پاک میں علم وحلم کا مقام،مفتی محمد ثناءالھدی قاسمی نائب ناظم امارت شریعہ

سیرت پاک میں علم وحلم کا مقام،مفتی محمد ثناءالھدی قاسمی نائب ناظم امارت شریعہ   


اللہ رب العزت نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو پوری کائنات کے لئے رسول بنا کر بھیجا, اور آپ کی رحمت کو اس قدر عام کر دیا کہ آپ رحمۃ للعالمین قرار پائے, آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو تمام انس وجن کے لیے نمونہ عمل بنا دیا, چونکہ نبی اور رسول کے اعمال وعقائد, معاملات وتعلقات کی نگہبانی منجانب اللہ کی جاتی ہے, اس لیے وہ پیدائشی طور پر معصوم اور گناہوں سے پاک ہوتے ہیں, اسی وجہ سے ان سے اعلان نبوت ورسالت سے پہلے بھی کوئی ایسا کام نہیں ہوتا جو عقائد صحیحہ اور اعمال صالحہ کے خلاف ہو, اس بنیاد پر نبی ورسول کی زندگی اسوہ قرار پاتی ہے اور اعلان نبوت سے پہلے کی زندگی بھی مثالی ہوتی ہے, اور اس طرح پاک وصاف ہوتی ہے کہ اس کی پیروی کی جا سکتی ہے।

ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے کا فیصلہ تو اسی وقت ہو گیا تھا جب آدم علیہ السلام تخلیق کے مرحلے سے گذر رہے تھے, پھر آپ کی ولادت با سعادت ہوئی, جو انسانوں پر اللہ کا بڑا فضل تھا, سن شعور تک پہونچنے کے بعد آپ نے ذکر وفکر اور یاد الہی کے لیے غار حرا کا رخ کیا, جہاں خلوت تھی, تنہائی تھی, رب کائنات کی نوازش تھی, انعامات تھے, ان دنوں اللہ رب العزت کی جانب سے آپ کی ذہنی اور جسمانی نشوو نما, وحی الہی کے بوجھ کو بر داشت کرنے کے لیے کی گئی, اس کے باوجود جب پہلی وحی نازل ہوئی تو آپ پر کپکپی طاری ہوئی اور خوف نے آپ کے دل ودماغ کو ہلا کر رکھ دیا, زملونی, زملونی کی صدا سے یہی سمجھ میں آتا ہے , اور یا ایھا المزمل, یا ایھا المدثر کے الفاظ بتاتے ہیں کہ اللہ رب العزت نے اس خوف وہراس کے ماحول سے نکال کرآپ کو کار نبوت کی ادائیگی کے لیے اٹھ کھڑے ہونے کا حکم دیا, اور آپ ایک داعی کی حیثیت سے سر گرم عمل گو گیے گ

یوں تو آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی اور زندگی کا ہر لمحہ ہمارے لیے قیمتی ہے، لیکن جب غار حرا میں آپ پر نزول قرآن کا آغاز ہوا، اور آپ وہاں سے نکل کر باہر آئے تو امت کے لیے اقراء کا پیغام لے کر آئے، علم کا وہ تصور جو اللہ رب العزت کی معرفت عطا کرے اور زندگی کے کسی حصے میں انسان کا رشتہ رب سے نہ ٹوٹے، یہ اشارہ تھا اس بات کی طرف کہ جہالت کی تاریکیاں دور ہوں گی اور علم کے نور سے دنیا منور ہوگی، اللہ رب العزت نے آپ کو اُمی بنایا کرسارے علوم وتحقیقات کے دروازے آپ پر کھول دیئے، خاندان، پڑوس، سماج اور ملک کے تئیں جو ذمہ داریاں اور حقوق ہیں، ان تمام سے نہ صرف واقف کرایا؛ بلکہ عمل کرکے دکھایا، علم وعمل کا ایسا حسین سنگم کسی اور کی زندگی میں دیکھنے کو نہیں ملتا، اللہ رب العزت نے بکریاں چرانے، مزدوری کرنے، صلح صفائی کرانے، جہاں داری اور جہانبانی کرنے کے علوم وفنون سے آپ کو آراستہ کر دیا، کام بہت سارے تھے، اوصاف بھی بہت تھے،لیکن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا تعارف معلم کی حیثیت سے کرایا، اور یہ بھی واضح کر دیا کہ میں کتابوں کے جامد حروف والفاظ پڑھانے والا معلم نہیں ہوں، بلکہ ان الفاظ کے پیچھے چھپے معانی  وحقائق کو عملی زندگی میں اس طرح رائج کرنے والا ہوں کہ اعلیٰ اخلاقی اقدار کی ترویج واشاعت ہو اورانسان آخرت میں جنت کا مستحق قرار پائے، قرآن کریم نے علم والوں کے فضائل بیان کیے اور واضح کر دیا کہ علم والے اور بے علم برابر نہیں ہو سکتے، جس طرح اندھیرا اور اجالا برابر نہیں ہے، دن، رات برابر نہیں ہیں، اعلان یہ بھی کیا گیا کہ علم والے ہی اللہ سے ڈرتے ہیں، ان کے اندر معرفت رب ہوتا ہے جو ان کو خودشناشی اور خدا شناشی پر آمادہ کرتا ہے، یہ معرفت خدا وندی انسانی زندگی کو ایسے معتدل اور متوازن راہ پر ڈالتی ہے کہ ہر دو جہاں میں فوز وفلاح کے دروازے کھلتے ہیں، اس طرح دیکھیں تو غار حرا کاپہلا سبق اور امت کے لیے پہلا تحفہ تعلیم ہے، اور یہ امت تعلیم کے نام پر ہی اٹھائی گئی ہے، اس پہلے تحفہ سے مسلم سماج کی بے اعتنائی سے ہم سب واقف ہیں، آج صورت حال یہ ہے کہ جہاں مسلم آبادی زیادہ ہے، وہاں تعلیم کا گراف خطرے کے نشان سے بہت اونچا ہو گیا ہے، مسلم بچے، بچیاں زری کے کارخانوں میں لگے ہوئے ہیں، ہوٹل میں بیرے کا کام کر رہے ہیں اور کچڑے کے ڈھیر سے ردی چننے میں لگے ہیں، ان کا لڑکپن اس طرح تباہ ہو رہا ہے؛ بلکہ تباہ کیا جارہا ہے، تعلیمی اداروں میں پڑھنے والوں کی بھیڑ کو دیکھ کر ہم سمجھتے ہیں کہ ملت پڑھ رہی ہے، یہ بہت معمولی تعداد ہے جو مدارس کی چٹائی اور اسکول کے بینچ پر آپ کو نظر آرہی ہے، جب تک ہم بھینس کی پیٹھ سے بچوں کو اتار کر تعلیم گاہوں میں نہیں لاتے، بیرے کے کام کو چھڑوا کر پڑھنے میں نہیں لگاتے، بال مزدوری سے انہیں نہیں بچاتے،ہم نہیں کہہ سکتے کہ ملت پڑھ رہی ہے، ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اپنے اثرات اپنے وسائل، اپنی طاقت وتوانائی علم کے فروغ میں لگائیں اور اس راہ کی دشواریاں دور کرنے کے لیے جد وجہد کریں یہ ہمارا اسلامی اور ایمانی تقاضہ بھی ہے اور مذہبی فریضہ بھی۔

دوسری چیز جو آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری حیات مبارکہ میں ہمیں دیکھنے کو ملتی ہے اور جس کے ذریعہ آپ نے مشکل حالات، مصائب وپریشانیوں کا مقابلہ کیا وہ آپ کی قوت برداشت، عفو ودر گذر، صبر وطمانیت ہے، زندگی کا ہر لمحہ صفت حِلم سے متصف اور مزین ہے، ہمیں سیرت کا مطالعہ اس نہج سے کرنا چاہیے اور آج کے دور میں جب کہ برداشت کا مزاج ختم ہو تا جا رہا ہے، پہلے سے کہیں زیادہ اس حوالہ سے سوچنے، سمجھنے پڑھنے اور بتانے کی ضرورت ہے۔ 

یاد کیجئے،جب آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی بار کوہ صفا سے آواز لگائی تو ابو لہب نے جو سلوک آپ کے ساتھ کیا، طائف کی گلیوں میں جن مراحل سے آپ کو گذرنا پڑا، کعبۃ اللہ میں نماز پڑھتے وقت جس طرح گلے میں پھندا ڈالا گیا، راستوں میں کانٹے بچھائے گیے اور جسم اطہر پر اوجھ اور غلاظت ڈالی گئی، عرب کی روایت کے خلاف عمرہ کی ادائیگی کے بغیر حدیبیہ سے آپ کی واپسی ہوئی، کفار مکہ کی شرطوں پر صلح حدیبیہ انجام پذیر ہوا، لیکن آپ نے حلم وبردباری کا دامن کہیں اور کبھی ہاتھ سے نہیں چھوڑا، خدائی مدد کے باوجود آپ نے ان کے لیے بد دعائیں نہیں کیں، زبان مبارک سے جاری ہونے والے کلمے آج بھی رکارڈ ہیں، اے اللہ میری قوم کو ہدایت دے یہ مجھے نہیں جانتے اور امید بھرے یہ جملے بھی کہ ابھی یہ ایمان نہیں لائے، شاید ان کی نسلوں میں کوئی ایمان لے آئے، اس تحمل اور برداشت نے تپ تپا کر وہ ماحول بنا دیا کہ اسلام تیزی سے پھیلتا چلا گیا وہ لوگ جو اسلام کے ماننے والے کو باپ دادا کے دین سے منحرف سمجھتے تھے، اسلام کی عظمت کو سمجھنے لگے اور اسلام ایک بڑی طاقت بن کر ابھرا۔

خوب اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ تحمل اور برداشت بزدلی نہیں ہے، یہ کام کی حکمت عملی ہے، اس کے ساتھ اللہ کی نصرت اور مدد آتی ہے، اللہ رب العزت نے خود ہی اعلان کر رکھا ہے کہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے، واقعہ یہ ہے کہ تحمل اور برداشت کمزورلوگوں کا کام نہیں ہے، اس کے لیے مضبوط قوت ارادی کی ضرورت ہوتی ہے، آج سماج میں اس کی کمی ہوگئی ہے، جس کی وجہ سے ہمارا خاندان ہمارا پڑوس اور سماج سب ہم سے پریشان ہے، بات بات پر بھڑک جانا، ہماری عادت بن گئی ہے، نئی نسلوں میں یہ بیماری زیادہ عام ہو گئی ہے، اس لیے بڑے بوڑھے بھی ان سے ایک فاصلہ بنائے رکھتے ہیں، پتہ نہیں کب وہ بھڑک جائیں، ان کی مثال پٹرول کی ٹنکی کی طرح ہو گئی جو جلد آگ پکڑ لپٹی ہے اور سب کچھ جلا کرچھوڑ تی ہے اسی لیے پٹرول ٹنکی پر (Keep Distence)فاصلہ بنائے رکھیے، لکھا ہوتا ہے۔ ربیع الاول کے اس مہینے میں ضروری ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت ”حلم“ (برداشت) اور محنت کے خصوصی میدان ”علم“ کی ترویج واشاعت پر خصوصی توجہ دی جائے؛ تاکہ امت مسلمہ کی ترقی سیرت رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی روشنی میں ہو سکے۔

(بشکریہ نقیب)

Wednesday, 28 October 2020

मतदान में मातम ,बिहार विधानसभा पहली चरण के दो अलग-अलग जिलों में दो व्यक्तियों की मौत

 

बिहार विधानसभा पहली चरण के  दो अलग-अलग जिलों में दो व्यक्तियों की मौत



नवादा.  वैश्विक महामारी पूर्णा  तो पूरे विश्व में तबाही मचा रहा है इसी के बीच बिहार विधान सभा  भी चल रहा है इसी बीच आज  नवादा और होता जिला के  पहले चरण के चुनाव में दो अलग-अलग व्यक्तियों का मृत्यु हो गया!खबर  बिहार के नवादा और रोहतास से आ रही है जहां वोटिंग (Bihar Election Voting) के दौरान एक पोलिंग एजेंट और मतदाता की मौत हो गई है. पहली घटना नवादा (Nawada) जिले के हिसुआ के फुलमा बूथ की है, जहां मतदान के दौरान ही पोलिंग एजेंट ने दम तोड़ दिया.

वही जानकारी के मुताबिक कृष्णा सिंह नाम के एजेंट को मतदान के दौरान ही हार्ट अटैक आया जिसके बाद उनको इलाज के लिए सदर अस्पताल में भर्ती कराया गया लेकिन इलाज के दौरान ही कृष्णा सिंह की मौत हो गई. सीने में अचानक हुए दर्द से जब उन्हें सदर अस्पताल में भर्ती कराया गया तो डॉक्टरों ने उन्हें मृत घोषित कर दिया. इस घटना के बाद पूरे परिवार में मातम छा गया है वहीं शव को सदर अस्पताल ले जाया गया है.

मौत की घटना रोहतास की है जहां वोट देने आए एक वोटर की मौत हो गई. मृतक की पहचान 65 वर्ष के हीरा महतो के तौर पर हुई है. घटना जिले के संझौली के मध्य विद्यालय उदयपुर की है जहां हीरा मतदान केंद्र संख्या 151 पर वोट देने आये था और उनकी मौत हो गई. बताया जाता है कि जब वो मतदान के लिए कतार में थे उसी दौरान बेहोश होकर गिर गए. जब तक लोगों को कुछ समझ में आता हीरा लाल की मौत हो चुकी थी. हीरालाल 65 वर्ष के थे और किसान थे. पुलिस ने इस घटना के बाद शव को अपने कब्जे में लेकर पोस्टमार्टम के लिए सदर अस्पताल भेज दिया है.

बिहार में पहले फेज की वोटिंग के लिए 16 जिलों की 71 सीटों पर वोट डाले जा रहे हैं. सुबह 9 बजे तक मतदान की रफ्तार काफी धीमी है और लोग धीरे-धीरे अपनी सुविधा और कोरोनावायरस के खतरे का ख्याल रखते हुए बूथों तक अपना मत डालने के लिए जा रहे हैं.

Tuesday, 27 October 2020

الیکشن کا پہلا چرن

      الیکشن کا پہلا چرن





آج 28/ اکتوبر ھے ،آج 28/ اکتوبر کو بہار میں

 پہلا الیکشن ھوگا،پھر  3/ نومبر کو دوسرا اور 7/ نومبر کو تیسرا ۔ اس لئے آج بہار کی موجودہ صورت حال کا تجزیہ پیش ھے ۔بہار کی موجودہ حقیقی صورت حال یہ ہے کہ الیکشن کے موقع پر  چھوٹی چھوٹی سیاسی پارٹیوں کا جو نیا اتحاد بنا ھے،بہار کی عوام  ان چھوٹی چھوٹی پارٹیوں کے نہ کام سے واقف ہیں اور نہ نام سے۔ یہ پارٹیاں صرف فیلڈ بنانے کے لئے بہار کے الیکشن میں آگئی ھیں،جبکہ  دانشوروں کے مطابق یہ نازک وقت اس کام کے لئے مناسب نہیں ھے ، اس کی وجہ سے بی جے پی کے لئے راستہ ھموار ھوتا صاف نظر آرہا ھے ،بی جے پی کا اپنا کیڈر ووٹ ھے ،وہ بہت مضبوط ہے،وہ منتشر نہیں ھوگا، البتہ برادران وطن کا وہ ووٹ منتشر ھورہا ھے، جو ووٹ بی جے پی کو نہیں جا تا ھے ،اور مسلم سماج کا ووٹ منتشر ھورہا ھے،  اس طرح سیکولر برادران وطن اور مسلمانوں کا ووٹ بری طرح تقسیم ھورہا ھے، اس کا فائدہ بی جے پی کو ھورہا ھے، اس لئے ضرورت اس بات کی ھے کہ مسلم اور سیکولر برادران وطن کے ووٹ کو تقسیم ھونے سے بچایا جائے، ورنہ بہار کو یوپی جیسا اسٹیٹ بنانے میں کسی نہ کسی طرح  ھم بھی حصہ دار سمجھے جائینگے،خدا نخواستہ فرقہ پرست طاقتوں کو اقتدار حاصل ھوگیا تو بہار کا امن و سکون بھی ختم ھو جائے گا، یہ فرقہ پرست لوگ ابھی سے اعلان کر رھے ھیں کہ پورے ملک میں جلد  سی اے اے نافذ کیا جائے گا، مدارس ملحقہ کو اسکول میں تبدیل کیا جائے گا،پھر کہیں گے کسی مدرسہ میں دینی تعلیم نہیں ھوگی،دین و شریعت کے خلاف زہر افشانی کرینگے،ملک کے دستور کو تبدیل کرینگے،ان خطرات سے بچنے کے لئے ووٹ کو تقسیم ھونے سے بچانا ھماری بھی ذمہ داری ھے ،بہار کے اضلاع کے سلسلہ میں تجزیہ نگاروں کا  یہی تجزیہ ھے کہ بہار الیکشن میں سیدھا مقابلہ بی بے پی اور مہا گٹھبںدھن کے درمیان ھے،دیگر چھوٹی چھوٹی پارٹیوں کی وجہ سے ووٹ تقسیم ھورہا ھے،اس لئے ھماری حکمت عملی یہ ھو کہ ھم ووٹ کو تقسیم ھونے سے بچائیں،اور سیکولر پارٹیوں کے جیتنے والے امیدوار کو ووٹ دے کر جیت دلائیں، ووٹ آپ کا دستوری حق ھے ،اس کا استعمال ضرور کریں،اس کا استعمال صحیح امیدوار کے انتخاب کے لیے کریں،صحیح پارٹی اور امیدوار کا انتخاب کرکے اپنی حفاظت کریں اور ملک کے دستور کی حفاظت کریں،

Sunday, 25 October 2020

وزیر اعظم نے کی ملک میں بھائی چارے کی اپیل، پروگرام'' من کی بات سے'

   وزیر اعظم نے کی ملک میں بھائی چارے کی اپیل، پروگرام'' من کی بات سے''



نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی نے آج ملک کے عوام سے کہا کہ منفی حالات میں بھی جوش اور حوصلے کے ساتھ آگے بڑھتے ہوئے سبھی کو 'ایک بھارت شریشٹھ بھارت' کے خوبصورت رنگوں سے ملک کے اتحاد کو مضبوط بنانا ہے

 ۔مسٹر مودی نے آج یہاں اپنے ماہانہ ریڈیو پروگرام من کی بات میں ملک کے عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پورا ملک 31 اکتوبر کو سردار ولبھ بھائی پٹیل کی یوم پیدائش کو قومی یوم اتحاد کے طورپر منائے گا۔ سردار پٹیل کا شمار ان عظیم شخصیات میں ہوتا ہے جن میں ایک ساتھ متعدد خوبیاں موجود تھیں،

جیسے خیالات کی گہرائی ، اخلاقی ہمت،سیاسی سمجھ بوجھ ،زرعی شعبہ کی گہری سمجھ اور قومی اتحاد کے تئیں ان کا جذبہ قربانی۔ سردار صاحب کی ایک اور خوبی تھی کہ وہ منفی حالات میں بھی ہمت اور حوصلے سے بھرے رہتے تھے ۔ انہوں نے کہا،''ذرا اس فولادی شخص کی شبیہ تصور کیجئے جو شاہی خاندانوں سے بات کررہے تھے ،عزت مآب باپو کی عوامی تحریک کا انتظام کررہے تھے ،ساتھ ہی ،انگریزوں سے لڑائی بھی لڑرہے تھے اور ان سب کے درمیان بھی،ان کی سمجھ پوری آب وتاب میں ہوتی تھی۔ اس میں ہمارے لئے بھی ایک سیکھ ہے ،حالات کتنے بھی خراب کیوں نہ ہوں،اپنی سمجھ بوجھ کو زندہ رکھئے ،یہ ہمیں پرسکون تو رکھے گی ہی ،ہم اپنے مسئلوں کا حل بھی نکال پائیں گے ۔ ہمارے آباؤ اجداد نے صدیوں سے مسلسل یہی کوششیں کی ہیں'' ۔

BJP के विधायकों को, मोतिहारी मुजफ्फरपुर नौतन के के ग्रामीण जनता ने खदेड़ा और कई तीखे सवाल किए

BJP के विधायकों को, मोतिहारी मुजफ्फरपुर नौतन के  के ग्रामीण जनता ने खदेड़ा और कई तीखे सवाल किए

बिहार में चुनावी दौर अपनी पूरी जवानी पर है वही भारतीय जनता पार्टी और जेडीयू के विधायक को काफी मशक्कत करनी पड़ रही है 

मुजफ्फरपुर जिला के गुढनी प्रखंड में भारतीय जनता पार्टी के विधायक को लोगों ने खदेड़ा तो एक महिला ने उन्हें बुरा भला भी कह डाला 

 कुछ दिन पहले भारतीय जनता पार्टी के  बिधायक  मोतिहारी में वोट मांगने गए थे तो युवा शक्ति के नाम से जर्सी  पहने लोगों ने उन्हें खदेड़ा और बहुत बुरा भला कहा

 और नाली जैसी स्थिति वाली रोड में गाड़ी चलाने को कहा लेकिन विधायक जी वहां से भागने में ही भलाई समझें

 वही नौतन विधानसभा क्षेत्र के नारायण सा को भी क्षेत्र भ्रमण के दौरान लोगों ने गो बैक के नारे लगाते हुए कई सारे तीखे सवाल किए


 देखने वाली बात है कि आगामी चुनाव में यह विरोध भारतीय जनता पार्टी के लिए मील का पत्थर साबित होगा या फिर एनडीए सरकार में लौट जाएगी लेकिन एक बात तो तय है कि बिहार में अभी बदलाव की बयार बह रही है और राष्ट्रीय जनता दल काफी भीड़ जुटाने में सफल हो रही है लेकिन क्या यह भिड़ को वोट  में तब्दील करना इतना आसान होगा  या आने वाला समय बताएगा वही मीडिया के तंत्र ने एनडीए सरकार को बहुमत दिलाने के लिए ओपिनियन पोल का पिटारा खोल दिया है

बिहार चुनाव के लिए समर्थन मांगने पहुंच रहे कई जनप्रतिनिधियों को जनता के गुस्से का सामना भी करना पड़ रहा है। ऐसा ही एक मामला मुजफ्फरपुर के कुढ़नी इलाके के एक गांव का सामने आया है। जहां भाजपा विधायक केदार प्रसाद गुप्ता की प्रचार गाड़ी पहुंची, तो गांव के लोग खासकर महिलाएं भड़क गए और उन्होंने गाली-गलौज कर प्रचार गाड़ी को वापस लौटने पर मजबूर कर दिया। इस घटना का वीडियो भी सामने आया है।

दरअसल भाजपा विधायक केदार प्रसाद गुप्ता की प्रचार गाड़ी गांव में पहुंची थी। जैसे ही गाड़ी गांव में दाखिल होने लगी तो गांव के लोग गाड़ी के सामने आ गए और गालियां देकर उसे वापस जाने को कह दिया। कई महिलाएं गाड़ी के पास पहुंचकर भाजपा विधायक के खिलाफ भला-बुरा कहने लगीं।


महिलाओं का कहना था कि पांच साल में अब वोट मांगने के समय उन्हें फिर से हमारी याद आयी है, लेकिन अब तक हमारी कोई सुध नहीं ली।

लोगों का गुस्सा देखकर ड्राइवर ने गाड़ी घुमा ली और वापस जाने लगा तो लोगों की भीड़ ने गुस्से में गाड़ी पर लगे पोस्टर फाड़ डाले। बता दें कि यह बिहार चुनाव में यह पहली घटना नहीं है, जब किसी जनप्रतिनिध को जनता के गुस्से का सामना करना पड़ा है। इससे पहले बीते हफ्ते ही जहानाबाद विधानसभा सीट से राजद उम्मीदवार सुदय यादव को भी जनता के गुस्से से दो चार होना पड़ा था।

दरअसल राजद विधायक सुदय यादव जहानाबाद के रतनी प्रखंड के मुरहारा गांव में प्रचार के लिए पहुंचे थे। लेकिन वहां गांव के लोगों ने विधायक के खिलाफ नारेबाजी करनी शुरू कर दी और विधायक और उनके समर्थकों को गांव से खदेड़ दिया। दरअसल स्थानीय लोग गांव की सड़क ना बनाए जाने से नाराज थे, जिसका वादा कथित तौर पर विधायक द्वारा किया गया था।

इसी तरह जदयू विधायक सत्यदेव कुशवाहा को भी जनता ने इसी तरह नाराजगी में गांव से लौटा दिया था। दरअसल सत्येदव कुशवाहा अरवल जिले के कुर्था विधानसभा सीट से प्रत्याशी हैं। जब वह इलाके के एक गांव में प्रचार के लिए पहुंचे तो वहां के लोगों ने विधायक को घेर लिया और उन्हें इलाके में कोई विकास कार्य ना कराने पर आड़े हाथों ले लिया। लोगों के गुस्से को देखते हुए विधायक सत्यदेव कुशवाहा वहां से चुपचाप निकल गए।


Saturday, 24 October 2020

بہار الیکشن:”مہیشی“سیٹ کا انتخابی منظرنامہ ۔۔

  بہار الیکشن:”مہیشی“سیٹ   کا انتخابی منظرنامہ ۔۔

                                             محمد سرفراز عالم قاسمی

اسسٹنٹ پروفيسر، ایم ٹی ٹی کالج مدھے پور، مدھوبنی۔۔




ضلع سہرسہ کی مہیشی حلقہ اسمبلی ایم واٸ سمی کرن کی وجہ سے بہت ہی اہمیت کی حامل ہے۔ 1977 سے 2008 تک اس حلقے شامل علاقوں کی ہیٸت دیگر تھی، مگر 2008 کے اسمبلی حلقوں کی تشکیل جدید کے بعد اس کا دائرہ کار میں بھی قدرے تبدیلی آٸ، فی الحال اس اسمبلی سیٹ میں مہیشی، نوہٹہ، اور ستر کٹیہ بلاک کے 40 سے زائد گرام پنچایت کے 2 لاکھ 72 ہزار سے زیادہ ووٹرس ہے۔ جن میں 51.53 فیصد مرد جبکہ 48.47 فیصد خواتین شامل ہیں۔


یہاں تیسرے مرحلے میں 7 نومبرکو ووٹنگ ہوگی، جب کہ نتائج 10 نومبر کو آویزاں کۓ جاٸنگے۔


 اس حلقے سے گزشتہ بیس سالوں سے راشٹریہ جنتا دل کے بانیوں اور معماروں میں سے ایک، قدآور قاٸد اور سابق وزیر، ڈاکٹر عبدالغفور صاحب ممبر اسمبلی منتخب ہوتے رہے ہیں۔ جنوری 2020 میں ڈاکٹر صاحب کے انتقال کے بعد یہ سیٹ خالی ہوگٸ تھی، یہاں کے لوگوں کو یہ امید تھی کہ ان کے صاحبزادے محمد عبدالرزاق کو یہاں سے ٹکٹ ملے گا، مگر ایک بار پھر برق گری صرف اس علاقے کے بے چارے مسلمانوں پر، اور ایسا نہیں ہوا، اور اس سیٹ کی سودے بازی اور خرید و فروخت کی بازگشت اور قصے کہانیوں کے بیچ ضلع سھرسہ کے نوہٹہ بلاک ‏کے بلاک ڈپلوپمینٹ آفیسر (BDO) ڈاکٹر گوتم کرشنا کو عظیم اتحاد سے راشٹریہ جنتادل کا کا ٹکٹ مل گیا، اور مسلمانوں کے ایک بڑے طبقے کی حمایت کی وجہ سے ڈاکٹر صاحب کے صاحبزادے محمد عبدالرزاق نے لوک جن شکتی پارٹی (LJP) جوائن لی، یہی وجہ ہے کہ اس وقت یہاں  ایم واٸ سمی کرن کا منظر بگڑتا ہوا نظر آرہا ہے۔


ڈاکٹر عبدالغفور اور مہیشی سیٹ۔


ڈاکٹر عبدالغفور صاحب گزشتہ بیس سالوں تک اس سیٹ کی نماٸندگی کرتے رہے ہیں اور بالترتیب  1995، 2000، 2010 اور 2015 میں اس علاقے سے منتخب ہوتے رہے ہیں، ڈاکٹر صاحب کوسی اور بلواہا ندی کے بیچ میں واقع ضلع سہرسہ کے مہیشی بلاک کے ایک چھوٹے سے گاؤں ”بھلاہی“ میں 5 مٸی 1959 کو ایک کسان گھرانے میں، محمد جمال اور بی بی فاطمہ کے گھر پیدا ہوئے، 1974 میں اسلامیہ ہائی اسکول سمری بختیار پور، سہرسہ سے میٹرک اور 1976 میں سینئر سیکنڈری پاس کی اور 1979 میں سہرسہ کالج سے بی اے پاس کیا اور اس کے بعد پٹنہ چلے گئے اور پٹنہ یونیورسٹی سے 1981 میں ایم۔اے، (اردو) اور اس کے بعد پی۔ایچ۔ڈی، (اردو) کی ڈگری حاصل کی اور پی ایس کالج مدھے پورہ میں 1982 سے بحیثیت اردو لکچرر بحال ہوۓ،


 پہلا اسمبلی الیکشن 1995 میں جنتا دل (JD) کے ٹکٹ پر جیتے جب کہ اس کے بعد دوسرا 2000، تیسرا 2010 اور چوتھا 2015 میں راشٹریہ جنتا دل (RJD) کے ٹکٹ پر فتح سے ہمکنار ہوۓ، اور 20 نومبر 2015 سے 26 جولائی 2017 تک آرجے ڈی، جے ڈی یو اور گانگریس کے مہاگٹھ بندھن کی نتیش کمار سرکار میں وزیر اقلیتی امور بھی رہے۔ 28 جنوری 2020 کو 60 سال کی عمر میں نٸ دہلی میں انتقال کرگئے۔ 29 جنوری کو اپنے آبائی وطن ”بھلائی“ میں کثیر مجمع کے ساتھ نماز جنازہ کے بعد سرکاری اعزاز و اکرام کے ساتھ مدفون ہوۓ۔


2015 کے اسمبلی انتخاب میں ڈاکٹر صاحب نے راشٹریہ لوک سمتا پارٹی (RLSP) کے چندن کمار ساہ کو 26 ہزار تین سو ایک ووٹوں سے شکست دی تھی، جب کہ 2010 کے اسمبلی الیکشن میں ڈاکٹر صاحب نے جنتا دل یونائیٹڈ (JDU) کے راج کمار ساہ کو بہت ہی قریبی مقابلے میں ایک ہزار چار سو سترہ ووٹوں  سے ہرایا تھا.


فروری 2005 کے الیکشن میں ڈاکٹر صاحب، آزاد امیدوار سریندر یادو سے 14 ہزار 927 ووٹوں سے ہار گئے تھے، اور 25 ہزار 489 کل (25.2) فیصد ووٹ حاصل کر کے دوسرے نمبر پر رہے تھے، مگر کسی کی بھی پارٹی کی سرکار نہیں بن سکی اور صدرراج نافذ ہوگیا پھر چھ مہینے کے بعد دوبارہ اکتوبر 2005 میں الیکشن ہوا،  مگر اس بار راشٹریہ جنتا دل (RJD) نے اپنے امیدوار تبدیل کر دئیے اور ڈاکٹر صاحب کے بجائے بحیثت آزاد امیدوار فتح یاب سریندر یادو کو ٹکٹ دیا، مگر وہ بھی جنتادل یوناٸیٹیڈ (JDU) کے گنجیشور یادو سےتقریبا 7 ہزار ووٹوں سے ہار گیۓ۔


2000 کے الیکشن میں ڈاکٹر صاحب نے جنتا دل یونائیٹڈ (JDU) کے سریندر یادو کو 17 ہزار سے زائد ووٹوں سے ہرایا تھا، جبکہ 1995 میں کانگریس کے لہٹن چوھدری کو تقریبا 15 ہزار ووٹوں سے شکست دی تھی۔


اس مرتبہ 2020 کے الیکشن میں مہا گٹھ بندھن سے راشٹریہ جنتا دل (RJD) کے ٹکٹ پر ڈاکٹر گوتم کرشنا میدان میں ہیں، ڈاکٹر کرشنا، ضلع سہرسا کے نوہٹہ بلاک کے بلاک ڈپلومینٹ آفیسر تھے، استعفی دیکر سیاست میں آۓ ہیں۔ 2015 میں جن ادھیکار پارٹی لوک تانترک (JAPL) کے ٹکٹ پر اپنی قسمت آزما کر، 19 ہزار 958 کل (13.71) فیصد ووٹ حاصل کرکے تیسرے نمبر پر رہے تھے۔


وہیں دوسرے امیدوار، بی جے پی کے اتحاد سے جنتا دل یو نائیٹڈ (JDU) کے ٹکٹ پر گنجیشور ساہ میدان میں ہیں، اور تیسرے، راشٹریہ لوک سمتا پارٹی (RLSP) سے جیشو سنگھ ہیں۔  جب کہ چوتھے ڈاکٹر صاحب کے صاحبزادے محمد عبدالرزاق لوک جن شکتی پارٹی (LJP) سے اپنی قسمت آزمارہے ہیں، یہاں ایم وائ سمی کرن جیت میں بہت اہم معنی رکھتا، مگر ابھی تک مسلم ووٹ، عبدالرزاق کے حق میں اور یادوں ووٹ گوتم کرشنا کے لیے تقسیم ہوتا دیکھ رہا ہے، ایسی صورت میں این ڈی اے کا یہاں سے سیٹ نکنا کوٸ بعید نہیں ہے، امید ہے کہ یہاں کے مسلمان حکمت عملی سے کام لیں گے اور عبدالرزاق کے بجاۓ مہا کٹھ بندھن کے حق میں یک طرفہ ووٹ کریں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

दरोगा इंतेशाजार अली की दाढ़ी कटवाने के बाद फिर से वापसी

 दरोगा इंतेशाजार अली की दाढ़ी कटवाने के बाद फिर से वापसी

UP, उत्तर प्रदेश के बागपत जिले के रमाला थाने में तैनात रहे दारोगा इंतसार अली ने शनिवार को अपनी दाढ़ी कटवा ली और एसपी के सामने पेश हुए. इस दौरान उन्होंने विभाग के नियमों का पालन करने की बात कही, जिसके बाद एसपी ने दारोगा का निलंबन बहाल कर दिया.


की गई थी निलंबन की कार्रवाई

एसपी बागपत ने विभाग की अनुमति के बगैर दाढ़ी रखने पर दारोगा इंतसार अली को 20 अक्टूबर को निलंबित कर दिया गया था. चूंकि वो तीन बार हिदायत देने के बावजूद भी अपनी दाढ़ी नहीं कटवा रहे थे. यानी उनके निर्देशों का पालन नहीं कर रहे थे इसलिए उनके खिलाफ निलंबन की कार्रवाई की गई थी.



एसपी ने बहाल किया निलंबन

उधर, दारोगा का कहना था कि वो तीन बार एसपी और आइजी के सामने दाढ़ी कटवाने के लिए अनुमति का पत्र लेकर पहुंचे, लेकिन एक साल तक उस पत्र पर किसी ने ध्यान नहीं दिया था. शनिवार को दारोगा इंतसार अली ने अपनी दाढ़ी कटवा ली, जिसके बाद वो एसपी कार्यालय पहुंचे और एसपी के सामने पेश होकर अपना पक्ष रखा. विभाग के नियमों का पालन करने की बात कही, जिसके 



سالار اردو جناب غلام سرور کی یوم ولادت بہار اسٹیٹ اردو ٹیچر س ایسوسی ایشن کیطرف سے تقریب یوم اردو منانا کا اعلان

  سالار اردو جناب غلام سرور کی یوم ولادت بہار اسٹیٹ اردو ٹیچر س ایسوسی ایشن کیطرف سے تقریب یوم اردو منانا کا اعلان   10جنوری کو منائی جائےگی...